|

سلامتی

انسداد دہشت گردی سیف سٹی پراجیکٹ میں کوئٹہ اگلا پڑاؤ ہو گا

کوئٹہ کے تمام چھ داخلی اور خارجی مقامات کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں دیگر اہم مقامات پر تقریباً 1,400 کلوزڈ سرکٹ ٹیلیویژن (CCTV) کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

عبدالغنی کاکڑ


سکیورٹی اہلکاروں نے 30 جنوری کو کوئٹہ کے مضافات کا دورہ کیا۔ ]عبدالغنی کاکڑ[

سکیورٹی اہلکاروں نے 30 جنوری کو کوئٹہ کے مضافات کا دورہ کیا۔ ]عبدالغنی کاکڑ[

کوئٹہ – حکومتِ بلوچستان نے کوئٹہ میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرے کے پیشِ نظر شہر بھر کے لیے وڈیو نگرانی کے بہترین نظام کی منظوری دی ہے۔

وزیر داخلہ و قبائلی امور بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ، "ہم ایک جنگ جیسی صورتحال سے دوچار ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ہماری سکیورٹی فورسز کی صلاحیتوں میں اضافے کو برقرار رکھنا ضروری تھا۔"

انہوں نے کہا کہ، "سیف سٹی پراجیکٹ 24 جنوری کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس برائے امن و امان میں منظور ہوا۔"

اسی منصوبے کا نفاذ کیا گیاپشاور, لاہور, پاراچنار اور اسلام آباد.

سرفراز بگٹی نے بتایا کہ، "ہم صوبائی دارالحکومت میں اپنے سکیورٹی نظام اور ایمرجنسی سروسز کی ردعملی صلاحیت کے اثرات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ نیا وڈیو نگرانی کا مرکزی نطام شہر کے تمام کاروباری اور رہائشی مقامات، گلیوں، سڑکوں اور شاہراہوں کا احاطہ کرے گا۔"

انہوں نے بتایا کہ، "یہ سیف سٹی پراجیکٹ عوامی تحفظ کے لیے نہ صرف ایک نظام فراہم کرے گا بلکہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو عوامی اجتماع، مذہبی جلوسوں اور دیگر تقریبات کی نگرانی کے قابل بھی بنائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ، "یہ منصوبہ ہماری سکیورٹی فورسز کو کمانڈ اور کنٹرول کا مؤثر نظام فراہم کرے گا۔"

بلوچستان نے سالوں سے دہشت گردانہ مظالم برداشت کیے ہیں، بشمولاگست 2016 کا ایک خودکش حملہ جس میں 50 سے زائد وکلاء جاں بحق ہوئےاور صوبے کی قانونی کمیونٹی کا قتل عام ہوا۔

اعلیٰ ٹیکنالوجی ذریعے حل

محکمے کے اعلیٰ سپورٹ تجزیہ نگار عمران یعقوب نے کہا کہ، "انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام کے اثرات کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ برائے ]صوبائی سائنس و[ انفارمیشن ٹیکنالوجی تمام ممکنہ اقدامات کر رہا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ نیشنل ڈیٹابیس اور رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا)، اسمارٹ ویریفیکیشن اور الرٹ سسٹم، محکمہ ایکسائز اور پولیس نگرانی کے ڈیٹا کا بھی معائنہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کا استعمال "سکیورٹی کی خلاف ورزی اور دیگر]غیرمتوقع[ حالات کے خطرات کو کم کرنے" میں مدد دے گا۔

عمران یعقوب نے بتایا کہ سیف سٹی پراجیکٹ کے کمانڈ اور کنٹرول سینٹر میں کام کرنے کے لیے بلوچستان پولیس اعلیٰ تربیت یافتہ اہلکار فراہم کرے گی، اور کہا کہ سسٹم کو ہارڈویئر پر مبنی نیٹ ورک مینجمنٹ سسٹم کے ساتھ ایک محفوظ ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک کے ذریعے جانچا جائے گا۔

تقریباً1,400 کلوزڈ سرکٹ ٹیلیویژن (CCTV) کیمرے کوئٹہ کے تمام چھ داخلی اور خارجی مقامات اور شہر بھر کے دیگر اہم مقامات پر نصب کیے جائیں گے،انہوں نے کہا کہ آنے اور جانے والی گاڑیوں کی نگرانی کے لیے "یہ سسٹم گاڑیوں کی رجسٹریشن کے صوبائی ڈیٹابیس سے بھی مربوط ہو گا۔"

"عمران یعقوب نے کہا کہ، "ہم نے سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے جامع حکمت عملی ترتیب دی ہے۔ اس نظام کے ذریعے ہماری تمام صوبائی ایجنسیاں اور متعلقہ محکمے کسی بھی مطلوبہ سکیورٹی ڈیٹا اور براہِ راست وڈیو اسٹریمنگ کے اشتراک کے قابل ہوں گے۔"

مشیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نمائندہ صوبائی حکومت انوار الحق کاکڑ کے مطابق، صوبائی حکومت نے اوپن ٹینڈر کے ذریعے ایک بین الاقوامی فرم کی خدمات لینے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ مقامی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کی مربوط کوششوں کے ساتھ سیف سٹی پراجیکٹ کو ڈیزائن اور نافذ کیا جا سکے۔"

جرائم اور دہشت گردی سے نمٹنا

بلوچستان قومی اسمبلی کے رکن اور عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر زمارک خان اچکزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ، "سیف سٹی پراجیکٹ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی حفاظت کے لیے اہم اقدام ہے۔ ہمیں توقع ہے کہ اس نظام کی ہم آہنگی ہماری فورسز کو دہشت گردی اور سکیورٹی مسائل کے تیزی سے بڑھتے خطرات سے نمٹنے کے قابل بنائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ، "عسکریت پسند گروہ اور امن کے مخالف عناصر ایک عرصے سے اپنے ایجنڈوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہماری سکیورٹی فورسز کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور آلات کا متحمل بنایا جائے۔"

ایک اعلیٰ سکیورٹی تجزیہ نگار محمد ندیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ، "عوامی تحفظ ریاست کے لیے ایک اہم چیلنج کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے… اور جرائم، تشدد اور دہشت گردی کے خوف کو ]ہم ختم کریں گے[۔

انہوں نے کہا کہ، "سیف سٹی پراجیکٹ کا تصور دنیا کے مختلف حصوں میں اپنایا کیا گیا ہے اور سکیورٹی کا یہ نظام تحفظ کے اہم اور پیچیدہ مسائل حل کر رہا ہے۔ ہم کوئٹہ میں اس اقدام کو سراہتے ہیں اور پرامید ہیں کہ کوئٹہ میں عوامی تحفظ کے مسائل کو حل کرنے میں یہ منصوبہ اہم کردار ادا کرے گا۔"

محمد ندیم نے بتایا کہ، "منصوبے کی انجام دہی کے لیے پیشہ وارانہ ٹیم ضروری ہے۔ حکومت بلوچستان کو یقینی بنانا چاہیے کہ سیف سٹی پراجیکٹ کو چلانے والی ٹیم صوبے کی حکومت میں شامل تمام اہم ذمہ داران پر مشتمل ہو۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
M Iqbal Jafri | 02-10-2018

اچھا ہے

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج