|

سلامتی

سیف سٹی پراجیکٹ سے پشاور کی سیکیورٹی میں اضافہ

طویل عرصے سے زیرِ التوا، پورے شہر میں 5،000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کے منصوبوں کے ساتھ آخر کار منصوبہ شروع ہو رہا ہے۔

از سید عنصر عباس


20 مئی کو پشاور میں ایک تکنیکی ماہر سیف سٹی پراجیکٹ کے جزو کے طور پر ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرتے ہوئے۔ [سید عنصر عباس]

20 مئی کو پشاور میں ایک تکنیکی ماہر سیف سٹی پراجیکٹ کے جزو کے طور پر ایک سی سی ٹی وی کیمرہ نصب کرتے ہوئے۔ [سید عنصر عباس]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) حکومت تحفظ کو بہتر بنانے اور امن اور سرمایہ کاری کے لیے ایک ماحول تیار کرنے کے لیے پشاور میں بہت سے حفاظتی اقدامات کا اطلاق کر رہی ہے۔

بہتر حفاظتی اقدامات، جیسے کہ پورے شہر میں کلوزڈ سرکٹ ٹیلی وژن (سی سی ٹی وی) کیمروں کی تنصیب، "سیف سٹی پراجیکٹ" کا حصہ ہیں۔

منصوبے کے حکام کے مطابق، تاخیر کے کئی برسوں کے بعد، منصوبے کا انتظامی یونٹ (پی ایم یو) مارچ میں قائم کیا گیا اور اس نے ان اہداف کے حصول کے لیے کام شروع کر دیا ہے۔

'امن لازم ہے'

پی ایم یو کے ڈائریکٹر وقار الدین سید نے 20 مئی کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "منصوبے کے تحت، پورے پشاور میں 5،000 کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ اس سے دہشت گردی پر قابو پایا جائے گا اور یہ شہر کو دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھے گا۔"

انہوں نے کہا، "ایک بار پشاور، جو کہ پاکستان کا دروازہ ہے، محفوظ ہو جائے گا، تو پھر پورا ملک محفوظ ہو جائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ پشاور -- اور باقی ماندہ پاکستان -- کی خوشحالی کے لیے، "غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہے اور سرمایہ کاری کے لیے، امن لازمی ہے۔"

سید نے کہا کہ ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز قائم کیا جائے گا اور اسے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی نگرانی کے لیے تربیت یافتہ عملے سے لیس کیا جائے گا، اور اسے فیلڈ یونٹس کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا، "یہ نظام نگرانی کرنے والوں کو جدید آلات کے ساتھ شہر میں ہر سرگرمی پر نظر رکھنے کے قابل بنائے گا۔"

انہوں نے کہا، "سیف سٹی پراجیکٹ کے تصور کے تحت، تمام متعلقہ ادارے شہر میں کسی بھی ناخوشگوار واقعہ پر فوری توجہ دینے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔ دہشت گردوں کے علاوہ، دیگر پریشان کن کرداروں، اسمگلروں، کار چوروں، مشتعل ہجوموں اور یہاں تک کہ ٹریفک کو بھی باآسانی دیکھا اور کنٹرول کیا جا سکے گا۔"

شفافیت اور اعلیٰ معیارات کو یقینی بنانا

پی ایم یو کے لیے کے پی حکومت نے سنہ 2014 کے بجٹ میں 1.5 بلین روپے (14.3 ملین ڈالر) مختص کیے تھے، کا اضافہ کرتے ہوئے پی ایم یو کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبداللہ جان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پی ایم یو کا قیام یکم مارچ 2017 کو منصوبے کو جلد از جلد پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے ہدف کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ حکام میرٹ کی بنیاد پر عملے کو بھرتی اور تعینات کرنے کے عمل میں ہیں اور مشیران نے منصوبے کے لیے ایک تفصیلی لاگت کا تخمینہ تیار کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، "اس عمل میں چند ماہ لگیں گے۔"

تاہم، جان نے سیف سٹی پراجیکٹ کو 10 ماہ کے اندر اندر مکمل کرنے کا عزم کیا۔

انہوں نے کہا، "منصوبے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے، تکنیکی عملے پر مشتمل ایک ٹیم کو نگرانی کرنے کے لیے بھرتی کیا جائے گا۔"

جان نے مزید کہا، "ہم معیارات اور خوبی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔"

سید نے تصدیق کی کہ پشاور میں سیف سٹی پراجیکٹ کی کل لاگت تاحال نامعلوم ہے۔

پولیس کی جانب سے سیف سٹی پراجیکٹ کا خیرمقدم

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سجاد خان نے یہ کہتے ہوئے منصوبے کے لیے تحسین کا اظہار کیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج مجرموں کو پکڑنے اور سزا دلوانے میں پولیس کی مدد کرتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "منصوبے کی تکمیل کے بعد، ہمارا حفاظت کا نظام بہتر ہو گا۔ یہ منصوبہ مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے میں بھی مدد کرے گا۔"

خان نے کہا، "سیف سٹی پراجیکٹ دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں کو روکنے اور ان کا سراغ لگانے میں محکمۂ پولیس کی مدد کرے گا۔"

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکریٹری دفاع، پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا، " اب 'محفوظ شہر' کا تصور بڑے شہروں میں دہشت گردانہ اور مجرمانہ سرگرمیوں پر قابو پانے کا ایک تقاضہ ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اسلام آباد اور لاہور میں سیف سٹی کا تصور پہلے ہی لاگو ہو چکا ہے۔ پشاور میں اگرچہ یہ تاخیر سے ہے ۔۔۔ ہم اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہیں۔"

'محفوظ اور سلامت'

یونیورسٹی آف پشاور کے شعبۂ جرمیات کے چیئرمین، پروفیسر بشارت حسین نے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کا جرم کو روکنے کے مؤثر طریقے کے طور پر خیرمقدم کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گرد اور دیگر بدکردار جانتے ہوں گے کہ 'بڑا بھائی' دیکھ رہا ہے اور یہ کہ وہ زیرِ نگرانی ہیں۔"

حسین نے کہا، "سیف سٹی پراجیکٹ سی سی ٹی وی فوٹیج سے ٹھوس ثبوت حاصل کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرے گا۔ ثبوت کے فائدے کے ساتھ، پولیس انہیں مجرم ثابت کر سکتی ہے اور عدالتیں مجرموں کو سزا دے سکتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "نگرانی کے نظام کا وجود حکومت کے جرم پر قابو پانے اور عوام کے تحفظ کے ارادے کا اظہار ہو گا۔"

انہوں نے کہا کہ یہ عوام کو "محفوظ اور سلامت ہونے کا احساس" دلائے گا۔

مجرموں پر چوکس نظر رکھنا

تاجروں اور صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ بہتر امن و امان کے ساتھ، معیشت میں تیز رفتاری آئے گی۔

پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹریز کے بانی اور صدر، احتشام حلیم نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تاجروں کو ان بھتہ خوروں کی جانب سے روزانہ دھمکیاں موصول ہوتی تھیں جو افغام سم [سبسکرائبر آئیڈنٹٹی ماڈیول] کارڈز استعمال کرتے تھے۔"

انہوں نے کہا، "ٹیکنالوجی پر مبنی ایک مرکزی نظام بلاشبہ ہر وقت مجرموں پر چوکس نظر رکھے گا۔ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔"

احتشام کے والد حاجی محمد حلیم جان، پشاور میں ایک بڑے تاجر رہنماء تھے تاوقتیکہ 9 فروری 2016 کو بھتہ خوروں نے انہیں قصہ خوانی بازار میں دن دیہاڑے قتل کر دیا۔ انہوں نے انہیں ادائیگی نہ کرنے پر نشانہ بنایا تھا۔

احتشام، جن کا خاندانی کاروبار تشدد کا نشانہ بنتا رہا ہے، نے کہا کہ امن اور تاجروں کی حفاظت کاروباری سرگرمی کو بڑھانے کے لیے ضروری ہے۔

وہ اور ان کے بھائی اب اپنا کاروبار اپنے گھر سے ہی چلاتے ہیں کا اضافہ کرتے ہوئے احتشام نے کہا، "اگرچہ ہم بھائی تاجر ہیں، عدم تحفظ کی وجہ سے ہم کاروباری اور دیگر سماجی تقریبات میں محافظوں کے ساتھ جاتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ سیف سٹی پراجیکٹ مجرمانہ سرگرمیوں کو روکے گا۔"

'امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے'

کے پی مرکزی تنظیمِ تاجران رابطہ کمیٹی کے صدر، مجیب الرحمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ منصوبے سے نہ صرف تاجروں بلکہ تمام شہریوں کو فائدہ ہو گا۔

جب 5،000 سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہو جائیں گے تو وہ خود کو زیادہ محفوظ محسوس کریں گے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، سڑکوں پر ہونے والے جرائم اور کار چوری کی وجہ سے عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں۔"

سینیٹر نعمان وزیر خٹک، جو صوبہ کے پی کی نمائندگی کرتے ہیں، نے کہا کہ اعلیٰ معیار کے سی سی ٹی وی آلات ہونا سیف سٹی پراجیکٹ میں ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "محض ویڈیو ہی کافی نہیں ہے۔ کیمروں کو گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں شناخت کرنے اور چہروں کو پہچاننے کے قابل ہونا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا، "اگر ہم ایک مؤثر اور مناسب نظام نصب کر لیتے ہیں، پھر امن کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج