|

دہشتگردی

کوئٹہ دھماکے کے بعد صحافیوں کی جانب سے زیادہ تحفظ کا مطالبہ

جماعت الاحرار اور "دولت اسلامیہ عراق و شام" (داعش) دونوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس میں 70 افراد جاں بحق اور 92 زخمی ہوئے۔

از جاوید محمود


9 اگست کو کراچی پریس کلب کے ارکان 8 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے خود کش بم دھماکے پر احتجاج کرتے ہوئے جس میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ [جاوید محمود]

9 اگست کو کراچی پریس کلب کے ارکان 8 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے خود کش بم دھماکے پر احتجاج کرتے ہوئے جس میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ [جاوید محمود]

کراچی -- پورے پاکستان میں صحافی 8 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والے خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والے دو ٹی وی کیمرہ مینوں کے انتقال کا سوگ منا رہے ہیں۔

کوئٹہ سول ہسپتال میں ہونے والا خودکش بم دھماکہ، جو کہ بظاہر ایک مقتول وکیل کے سوگ میں جمع ہونے والے لوگوں کے انبوہ کو قتل کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، میں کم از کم 70 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں آج ٹی کے کیمرہ مین شہزاد خان اور ڈان نیوز کے کیمرہ مین محمود خان شامل ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے علیحدہ ہونے والے ایک دھڑے جماعت الاحرار اور "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے ایک پاکستانی دھڑے دونوں نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی۔

بلوچستان کے سیکریٹری داخلہ اکبر ہریفل نے کہا، "دھماکہ اس وقت ہوا جب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر، بلال انور کاسی کے قتل کے بعد بہت بڑی تعداد میں وکلاء اور چند صحافی ہسپتال میں جمع ہو گئے تھے۔"

اسی دن کچھ دیر پہلے کاسی کو کوئٹہ میں گولی مار دی گئی تھی۔

جب وکلاء ور صحافی کاسی کے جسدِ خاکی کو دیکھنے کے لیے ہسپتال میں جمع ہوئے، خود کش بمبار نے حملہ کر دیا۔

اے ایف پی کے مطابق، بلوچستان بم ڈسپوزل یونٹ کے سربراہ عبدالرزاق نے کہا، "بمبار نے 8 کلوگرام بارود اپنے جسم سے باندھا ہوا تھا جس میں بال بیرنگ اور نوکیلے اجزاء شامل کیے گئے تھے۔"

'دہشت گردی صحافیوں کو متزلزل نہیں کر سکتی'

صحافی، جو کہ اتنی جانوں کے جانے پر صدمے میں تھے، جاں بحق ہونے والے اپنے دو ساتھیوں کو یاد کر رہے ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب (کیو پی سی) کے صدر شہزادہ ذوالفقار نے کہا، "ہمارے میڈیا کے دو نفیس ترین اور محنتی ترین ساتھی ہم سے جدا ہو گئے۔"

کیو پی سی نے دو کیمرہ مینوں کی ہلاکت پر صدمے اور افسوس کا اظہار کیا ہے کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دونوں ہمارے بہترین ساتھی تھے، بہت یار باش، مخلص اہلکار۔"

انہوں نے کہا، "[شہزاد] ایک بہادر کیمرہ مین تھا اور انہوں نے محض اپنے پیشے کے لیے اپنی جان کو داؤ پر لگا کر ہر واقعے کی کوریج کی۔"

سات بچوں کے والد، محمود خان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ وہ بہت بلند ہمت تھے۔ ڈان میں بطور ایک دفتری اہلکار اور پھر کیمرہ مین شامل ہونے سے پہلے وہ بطور ایک سیکیورٹی گارڈ کام کرتے تھے۔

ایک صحافی بننے کے لیے وہ صحافت میں ماسٹر ڈگری حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن دہشت گردی نے ان کے منصوبوں کو ختم کر دیا۔

ذوالفقار نے کہا، "جانے والی ہر جان ۔۔۔ ہمارے لیے قیمتی ہے۔ ہم دہشت گردی کی پُرزور مذمت کرتے ہیں اور دھماکے کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی چاہتے ہیں، جس نے بہت سے خاندانوں کو تباہ کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "دہشت گردی صحافیوں کو اپنے فرائض انجام دینے سے نہیں روک سکتی۔ ہم اسی جذبے کے ساتھ ۔۔۔ اپنی جانوں کے لیے کسی خوف کے بغیر، قوم کی خدمت کرنا جاری رکھیں گے۔"

میڈیا اہلکاروں کے لیے سلامتی کی تربیت، تحفظ

کراچی کے ایک مقامی صحافی اور تعلیم دان، الوینہ آغا نے کہا کہ انہوں نے حال ہی میں شہزاد خان کے ساتھ ایک تربیت گاہ "ذاتی تحفظ کی تربیت برائے صحافی و میڈیا اہلکار" میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں نے انہیں بہت شائستہ، دوستانہ میڈیا اہلکار پایا، اور ان کی اچانک موت پر مجھے بہت زیادہ صدمہ ہوا۔"

انہوں نے کہا کہ صحافی جب میدانِ عمل میں بریکنگ نیوز اور خطرناک پیش رفتوں کی کوریج کرنے جاتے ہیں تو انہیں مناسب تحفظ ملنا چاہیئے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز خان فاران نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میڈیا اہلکار جب حساس واقعات کی کوریج کرتے ہیں تو انہیں سپاہیوں جیسا تحفظ دیا جانا لازمی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ صحافی سپاہیوں کی طرح ہراول دستے میں کام کرتے ہیں، لیکن حکومت اور دفاعی ایجنسیاں انہیں تحفظ مہیا نہیں کرتے۔

فاران نے کہا، "میدانِ عمل میں کام کر رہے صحافیوں کو لازماً حکومت، دفاعی ایجنسیوں یا ان کی اپنی میڈیا تنظیموں کی جانب سے بلٹ پروف جیکٹیں اور ہیلمٹ مہیا کیے جانے چاہیئیں۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا سازوسامان خطرناک اسائنمنٹس پر میڈیا اہلکاروں کے تحفظ کا واحد راستہ ہے۔

شہداء کے لیے معاوضہ

فاران نے کہا، "صحافی عوامی ذریعہ ابلاغ ہوتے ہیں، لیکن کسی بھی سانحہ یا شدید زخمی ہونے کی صورت میں کوئی امداد یا مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا۔"

حالیہ برسوں میں صوبہ بلوچستان صحافیوں کے لیے ایک خطرناک علاقہ رہا ہے۔

صحافیوں کے تحفظ کی کمیٹی کے مطابق، سنہ 1992 کے بعد سے، 33 صحافی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ان 33 میں سے آٹھ بلوچستان میں جاں بحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں جاں بحق ہونے والے صحافیوں کے ورثاء کو کچھ مالی امداد مہیا کی ہے، لیکن اور کسی نے نہیں کی۔

دفاعی تجزیہ کار اور کراچی میں روزنامہ پاکستان کے مقامی ایڈیٹر مبشر میر نے کہا، "[شہید ہونے والے] سپاہیوں اور پولیس اہلکاروں کے ورثاء کو کافی زیادہ مالی امداد، پینشن، زمین کے پلاٹ اور ملازمتیں ملتی ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "لیکن صحافیوں کے ورثاء کو ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ملتا۔"

میر نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پورے ملک میں مصروفِ عمل صحافیوں کا اندراج کرے اور انہیں موت اور زخموں کی صورت میں مراعات مہیا کرے۔

انہوں نے کہا، "میں کراچی میں بہت سے ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جنہیں واقعات کی کوریج کے دوران سنگین چوٹیں آئیں۔ وہ ایک قابلِ رحم زندگی گزار رہے ہیں اور کوئی بھی ان کی کفالت نہیں کر رہا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج