|

دہشتگردی

پاکستان کی دہشت گردوں، عسکریت پسندوں کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال کے خلاف کارروائی

نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان نے ابھی تک مجوزہ تنظیموں کی 12،968 ویب سائٹیں بلاک کی ہیں۔

از محمد شکیل


16 مئی کو پشاور میں ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو دیکھتے ہوئے۔ پاکستان دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو نادانستگی میں آن لائن بھرتی کرنے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ [محمد شکیل]

16 مئی کو پشاور میں ایک شخص اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو دیکھتے ہوئے۔ پاکستان دہشت گردوں اور کالعدم تنظیموں کی جانب سے نوجوانوں کو نادانستگی میں آن لائن بھرتی کرنے کو روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ [محمد شکیل]

پشاور -- پاکستان نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) کے تحت مجوزہ تنظیموں کی ویب سائٹیں اور یو آر ایل (یونیفارم ریسورس لوکیٹر) کو بلاک کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کام بہت بڑا ہے، اس کا مقصد ان گروہوں کی اپنے انتہاپسندانہ نظریات اور بھرتی کے حربوں کے ساتھ ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے بڑے پیمانے پر عوام تک آسان رسائی کی صلاحیت کو روکنا ہے۔

16 دسمبر 2014 کو، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملہ این اے پی کے لیے عمل انگیز بنا، جو کہ جنوری 2015 کو نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد دہشت گردی کے ملزمات پر فوجی عدالتوں میں تیز رفتاری کے ساتھ مقدمات چلانا اور انجامِ کار عسکری گروہوں اور کالعدم تنظیموں کا خاتمہ کرنا تھا۔

این اے پی میں انسدادِ دہشت گردی اقدامات جیسے کہ انسدادِ دہشت گردی کے قومی محکمے (نیکٹا) کو مضبوط بنانا اور مؤثر انسدادِ دہشت گردی فورسز (سی ٹی ایف) قائم کرنا شامل ہیں۔

12،968 ویب سائٹیں بلاک کر دی گئیں

مارچ کے مہینے میں، وزارتِ داخلہ نے اعلان کیا کہ اس کے اہلکاروں نے این اے پی کے اطلاق کے بعد سے مجوزہ تنظیموں کی 937 یو آر ایلز اور 10 ویب سائٹوں کو بلاک کیا تھا۔

مزید برآں، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے 27 مارچ کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نفرت انگیز تقریر، انتہاپسندانہ مواد اور لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنے کے لیے این اے پی کے اقدامات کے تحت 17،562 مقدمات درج کیے اور 19،289 ملزمان کو گرفتار کیا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ سی ٹی ایف پورے پاکستان میں قائم کیے گئے ہیں -- اسلام آباد میں 500، پنجاب میں 1،182، سندھ میں 728، بلوچستان میں 1،000، گلگت بلتستان میں 168، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 260 اور خیبرپختونخوا (کے پی) میں 2،200۔

وزارتِ اطلاعات، نشریات اور قومی ورثہ اور پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) وزارتِ داخلہ کی طرح، این اے پی کی پابندی کا اطلاق قابلِ اعتراض مواد کی اشاعت یا نشریات پر کرتے رہے ہیں۔

این اے پی کے اطلاق کے بعد سے اپریل کے اختتام تک، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے انتہاپسندانہ مواد، نفرت انگیز تقریر یا دیگر توہینِ مذہب پر مبنی مواد رکھنے کی الزام میں 12،968 ویب سائٹوں کی تلاش اور شناخت کی تھی اور انہیں بلاک کر دیا تھا۔

اس سخت کارروائی پر حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کی جانب سے کچھ تنقید بھی ہوئی ہے۔

ان میں سے ایک، ہیومن رائٹس واچ، نے "انٹرنیٹ سرگرمی کی بے جا ریاستی نگرانی"، سنسرشپ اور اختلافی آوازوں کے آزادانہ اظہار کو دبانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

لیکن پاکستانی حکام اور تجربہ کار پُراعتماد ہیں کہ یہ اقدامات شہریوں کو انتہاپسند گروہوں کی جانب سے آن لائن بھرتی سے بچائیں گے اور حملوں کے بعد دہشت گردوں کے عظمت کے دعووں کو خاموش کر دیں گے۔

دنیا ٹی وی کے مطابق، پولیس کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ جنید شیخ نے 18 مئی کو کہا کہ پچھلے ہی ہفتے، صوبہ سندھ کے محکمۂ انسدادِ دہشت گردی نے "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کے ساتھ الحاق شدہ سوشل میڈیا کے کم از کم 70 اکاؤنٹ تلاش کیے تھے جو پاکستانی کمپیوٹروں سے چلائے جا رہے تھے۔

سوشل میڈیا کی نگرانی ایک 'بہت بڑا' کام

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور کالم نگار، کرنل (ر) جی بی شاہ بخاری نے کہا کہ ڈیجیٹل مواصلات کو کنٹرول کرنا لگ بھگ ناممکن لیکن ضروری ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مختلف سوشل میڈیا، بشمول فیس بُک، ٹوئٹر، سکائپ اور دیگر ایپلیکیشنز نے ہماری روزمرہ زندگی میں اتنے نمایاں اور شدید راستے بنا لیے ہیں کہ انہیں کنٹرول نہیں کیا جا سکتا۔"

انہوں نے کہا، "مسئلے کے پیچھے وجہ مسئلے کا بہت بڑا ہونا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گرد ان پلیٹ فارموں کو عوام کو دھوکہ دینے، جھوٹی عظمت کے دعوے کرنے اور اپنے افعال کے لیے گمراہ کن دینی توجیہات پیش کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

"ڈیجیٹل میڈیا کی انتہاپسندوں کی طرف کھلنے والی کھڑکی کو بند کرنے کے"حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے، بخاری نے کہا، "ان جھوٹی تشہیروں اور خودساختہ عظمتوں نے مزید بھرتی اور تعصب پسندی کے راستے پیدا کر دیئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا پر دہشت گردون کو خاموش کرنا انہیں ہر گھر تک تیزی سے اور سستے ترین طریقے سے پہنچنے کے قابل ہونے سے روکے گا۔

بخاری نے حکومت کو عسکریت پسندوں کے سوشل میڈیا کے حربے انہی کے خلاف استعمال کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کہا، "اگر ڈیجیٹل مواصلات کو استعمال کرتے ہوئے انتہاپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف بروقت جوابی بیانیہ کی حکمتِ عملی شروع کی جاتی ہے تو نتائج دور رس اور تسلی بخش ہوں گے۔"

آن لائن بھرتی کو قابو کرنے میں 'اضافہ'

سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے جنوری میں دیوس میں ورلڈ اکنامک فورم پر اس مسئلے پر خطاب کیا تھا۔

دہشت گرد سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارموں کو "بہت مستعدی" سے استعمال کرتے ہیں کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "دہشت گردوں کے پاس ترمیم کرنے، مصرفہ کرنے کی صلاحیت ہے اور وہ بہت تیزی کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "سرمایہ کار، معاونین، سہولت کار، سلیپر سیلز اور ہمدرد -- سب کے سب اس میں ملوث ہیں۔ ہمیں اس عفریت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے چڑھائی کرنے کی ضرورت ہے۔"

پشاور کے بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ، سابق سیکریٹری دفاع برائے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) نے کہا، "ویب سائٹوں کو بلاک کرنے کی حکومتی کارروائی یقیناً دہشت گرد تنظیموں کی وسعت اور عملی دائرے کو محدود کرے گی جو معصوم لوگوں کو ڈیجیٹل مواصلات کے ذریعے بھرتی کرنے میں مصروف ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ڈیجیٹل مواصلات [نیٹ ورکس] کی اکثریت ۔۔۔ صارفین کو پیغامات کے پھیلاؤ میں اظہار کی مفت اور بلاروک ٹوک آزادی مہیا کرتی ہے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت اور وسیع استعمال نے عسکریت پسند تنظیموں کو لوگوں کے دماغوں کو تبدیل کرنے کا ایک آسان طریقہ دے دیا ہے۔"

محمود نے کہا کہ کالعدم تنطیموں کی ویب سائٹوں اور یو آر ایلز کو بلاک کرنے کے فیصلے سے ان عسکریت پسندوں پر دباؤ پڑے گا، جو مسلسل زیرِ نگرانی ہیں، اور انہیں نوجوانوں کو بھرتی کرنے اور برین واش کرنے کے موقعے سے محروم کر دے گا۔

ڈیجیٹل میڈیا کے دروازے بند کرنا

پشاور میں کام کرنے والے ایک آئی ٹی ماہر، سہیل علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مواصلات کے غیر رسمی ذرائع استعمال کرنا رابطے کے رسمی ذرائع کے مقابلے میں بہت زیادہ آسان، محفوظ، سریع اور سستا ہے۔"

انہوں نے کہا، "کوئی بھی شخص اپنے دفتر یا گھر سے یا اپنی سہولت کی کسی بھی جگہ سے آسانی سے ایک بٹن دبا کر وصول کنندگان کی ایک لامحدود تعداد کو پیغام پہنچا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا، "خواہ بھرتی کے لیے ہو یا عظمت بیان کرنے کے لیے، مواصلات کے جدید طریقوں نے تعصب پسندوں کو اپنے پیغامات نشر کرنے کا ایک آسان راستہ فراہم کر دیا ہے۔"

علی نے کہا، "عسکریت پسندوں کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا دروازہ بند کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات قابلِ تحسین ہیں، کیونکہ اب ان کے لیے انٹرنیٹ کے ذریعے لوگوں کو دھوکہ دینا اور ساز باز کرنا مشکل ہو گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج