http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/12/22/feature-01
| سلامتی

پشاور کے انسداد دہشتگردی یونٹ کی غیر معمولی کامیابی پر تحسین

جاوید خان


کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان درانی 30 نومبر کو پشاور میں کے پی محکمۃ انسداد دہشتگردی کے نئے ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔[ جاوید خان]

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان درانی 30 نومبر کو پشاور میں کے پی محکمۃ انسداد دہشتگردی کے نئے ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں۔[ جاوید خان]

پشاور— پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخواہ (کے پی) محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی)، گزشتہ دو سالوں میں اپنی کامیابیوں کے لیے قابل تحسین، پشاور میں زیر تعمیر اپنے نئے ہیڈ کوارٹر کے ساتھ مزید ترقی کرے گا۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر خان درانی نے 30 نومبر کو پشاور میں کے پی محکمۃ انسداد دہشتگردی کے نئے ہیڈ کوارٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔

نیا ہیڈ کوارٹر 224 ملین روپے (2.1 ملین امریکی ڈالر) کی لاگت سے 18 مہینے میں مکمل ہو گا اور 84 کنال (10.5 ایکڑ) پر محیط ہو گا۔ یہ سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپیکٹر جنرل کے ساتھ ساتھ دوسرے سینیئر اور جونیئر افسروں کے دفاتر، ایک باقاعدہ پولیس اسٹیشن اور رہائشی بیرکس پر مشتمل ہو گا۔

معمول کی پولیس کو تحقیقاتی صلاحیتوں کی تربیت دینے کے لیے اس میں ایک سکول بھی ہو گا۔ اس سکول کے ساتھ پولیس، خصوصی طور پر وہ پولیس جو دہشتگردی کے کیسوں پر کام کرتی ہے، تحقیقات اور شہادتوں کو اکٹھا کرنے کے معیار میں بہتری کا عزم رکھتی ہے۔

درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹرز کے لیے منتخب کردہ جگہ نہ صرف اس مصیبت زدہ جگہ کو محفوظ کرے گی بلکہ شہر کے اس جانب سے پشاور پر ہونے والے کسی بھی حملے کو روکنے میں مدد دے گی۔ "

انہوں نے کہا کہ نیا ہیڈ کوارٹر اصل گرینڈ ٹرنک روڈ سے 5 کلومیٹر سے کم فاصلے پر واقع ہے اور آسان پہنچ میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اس جگہ کا انتخاب اس لیے بھی کیا کیونکہ اس پر نسبتاً شہری قطعہ ہائے ارضی کی نسبت کم لاگت آتی ہے۔

انہوں نے کہا، ”انسدادِ دہشتگردی فورس کے ہیڈ کوارٹر کے قیام سے علاقہ میں پولیس کی ںموداری یقینی بنے گی، جس سے جرائم اور دہشتگردی کے خاتمہ میں مدد ملے گی۔“ انہوں نے مزید کہا کہ نئے سی ٹی ڈی ہیڈ کوارٹرز علاقہ کی ترقی کو بھی یقینی بنائیں گے۔

دہشتگردوں کے منصوبوں کو منتشر کرنا

حالیہ اور سابق پولیس حکام نے ایک اور کامیابی کے طور پر نئے ہیڈ کوراٹر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی پولیس کے نتیجہ میں پشاور میں سیکیورٹی میں بڑی حد تک بہتری آئی ہے۔

پولیس آپریشنز کے سابق سینیئر سپرانٹنڈنٹ آف پولیس میاں سعید نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملوں، رشوت ستانی، ٹارگٹ کلنگ اور اغوا برائے تاوان سے متعلق کے پی سی ٹی ڈی نے متعدد اعلیٰ سطحی مقدمات پر کام کیا اور صوبہ میں بحالیٔ امن میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔

سعید نے نومبر کے اواخر تک اس عہدہ پر خدمات سرانجام دیں اور اب ضلع مردان کی پولیس کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”حملوں کی انسداد کے سلسلہ میں سی ٹی ڈی کا ردِّ عمل قابلِ ذکر رہا ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس ادارے نے منصوبہ سازوں کے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے قبل انہیں گرفتار کر کے متعدد بڑے حملوں کو ناکام بنایا ہے۔

انہوں نے کہا، ”پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے ہمراہ سی ٹی ڈی نے متعدد عسکریت پسندوں کو گرفتار کر کے، دھماکہ خیز مواد بازیاب کرا کر اور دہشتگرد حملوں کو ناکام بنا کر گزشتہ چند برسوں کے دوران قابلِ ذکر کام کیا ہے۔“

حکومتِ پاکستان نے عسکریت پسندوں کا ان کے متعلقہ علاقوں میں تعاقب کرنے کی غرض سے 2014 میں چاروں صوبوں میں سی ٹی ڈی تشکیل دیں۔ گزشتہ دو برسوں میں اس فورس نے باقاعدہ پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کی مدد سے اذیت پسندوں کے گینگز، ٹارگٹ کلرز اور بمباروں کو پکڑا۔

اکتوبر میں پشاور میں دو چھاپوں کے دوران سی ٹی ڈی نے ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) کے چار تسہیل کنندگان اور بھرتی کنندگان ملزمان کو گرفتار کیا

ایک سی ٹی ڈی عہدیدار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی نے جون اور ستمبر کے درمیان پشاور میں آئی ایس آئی ایل کے کم از کم چار دیگر مشتبہ ارکان کو بھی گرفتار کیا۔

کے پی پولیس کے ایک سابق انسپکٹر جنرل ظفر اللہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”نفاذِ قانون کی دیگر ایجنسیوں کے ہمراہ سی ٹی ڈی نے بحالیٔ امن کے سلسلہ میں شاندار کام کیا ہے۔“

انہوں نے کہا، ”اس فورس کو مناسب سہولیات فراہم کرنے سے اس کی کارکردگی میں مزید اضافہ ہو گا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سی ٹی ڈی پولیس کو زیادہ تنخواہیں ملنی چاہیئیں اور ان کے دفاتر اور رہائشیں محفوظ تر مقامات پر ہونی چاہیئیں۔

روزانہ کے خطرات سے نمٹنا

ظفراللہ نے کہا کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے کام کی نوعیت کی وجہ سے عسکریت پسند اکثر انہیں دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔

مثال کے طور پر 10 دسمبر کو جب سی ٹی ڈی کے ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس ریاض الاسلام اپنے گھر کے قریب ایک مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر لوٹ رہے تھے تو عسکریت پسندوں نے انہیں ان کی گاڑی میں گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

ظفراللہ نے کہا، ”سی ٹی ڈی افسران کو درپیش خطرات کو کم سے کم کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جانے چاہیئیں۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha