پنجاب کی عدالت نے پولیس کو شہریوں کا قتل اور اس کی پردہ پوشی بند کرنے کا حکم دے دیا

پاکستان فارورڈ

لاہور – ڈان نے خبر دی کہ لاہور کی عدالتِ عالیہ (ایل ایچ سی) نے جمعرات (24 جنوری) کو پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس امجد سلیمی کو گزشتہ ہفتے ساہیوال میں پولیس کی جانب سے شہریوں کے قتل اور اس کی پردہ پوشی کی کوششوں جیسے سانحات کی انسداد کا حکم دیا۔

بی بی سی نے خبر دی کہ پنجاب کے محکمہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے افسران نے 19 جنوری کو لاہور کے جنوب مغرب میں ساہیوال میں ایک کار پر گولی چلا دی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے چار دہشتگردوں کو قتل کر دیا اور تین دیگر فرار ہو گئے۔

کار میں سوار ایک نو سالہ بچے نے سرکاری روایت کی تردید کی، جسے گولیاں چلائے جانے کی تصویری شہادت کی تقویت حاصل ہے، اس نے انکشاف کیا کہ اس کے والدین، 12 سالہ بہن اور خاندانی دوست، جو گاڑی چلا رہا تھا، اس وقت مارے گئے جب وہ ایک شادی پر جا رہے تھے۔

وہ اور اس کی دو چھوٹی بہنیں، جو گولیوں سے بچ گئے، کچھ فاصلے پر ایک پٹرول سٹیشن پر چھوڑ دیے گئے۔

اس قتل نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا

لاہور کی عدالتِ عالیہ کے جسٹس سردار شمیم احمد خان نے ساہیوال کے مقابلہ کی عدالتی تحقیق کی ایک درخواست کی سماعت کے لیے جمعرات کو دو ججوں پر مشتمل ایک بینچ تشکیل دیا۔

خان نے سلیمی کو تنبیہ کی کہ ایسا سانحہ "دوبارہ پنجاب میں کہیں بھی وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیئے۔"

سلیمی نے عدالت کو بتایا کہ اس قتل میں ملوث سی ٹی ڈی افسران کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور سانحہ کی چھان بین کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

4
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha