|

مذہب

مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف عمران خان کے نقطہٴ نظر نے پذیرائی حاصل کی

عمران خان نے بدھ کے روز اپنی تقریر میں توہینِ رسالت کی ایک ملزمہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف احتجاج کرنے والے شدت پسندوں کو تنبیہ کی۔

اے ایف پی


عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے بعد یکم نومبر کو ایک احتجاجی دھرنے کے دوران ایک انتہا پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حامی نعرے لگا رہے ہیں۔ [عارف علی/اے ایف پی]

عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو رہا کیے جانے کے بعد یکم نومبر کو ایک احتجاجی دھرنے کے دوران ایک انتہا پسند مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبّیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے حامی نعرے لگا رہے ہیں۔ [عارف علی/اے ایف پی]

اسلام آباد – وزیرِ اعظم عمران خان نے جمعرات (31 اکتوبر) کو مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف اپنے نقظہٴ نظر کی وجہ سے پذیرائی حاصل کی، جبکہ مظاہرین نے عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے توہینِ رسالت کے ایک فیصلے کوکو منسوخ کرنےپر اہم سڑکوں کو بند کر دیا۔

خان نے ان شدت پسندوں کا مقابلہ کرنے کا عہد کیا جنہوں نے توہینِ رسالت کرنے پر سزائے موت کی منتظر ایک عیسائی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد ملک کی عدالتِ عالیہ کے جج کو پھانسی دیے جانے اور فوج کی اعلیٰ قیادت کے خلاف بغاوت کا مطالبہ کیا۔

خان نے بدھ کو ملک بھر میں ٹیلی ویژن پر نشر کیے جانے والے خطاب میں کہا، "ہم لوگوں کی جان و مال کو تحفظ فراہم کریں گے۔ ہم کسی سبوتاژ کی اجازت نہیں دیں گے۔"

خان کی تقریر پر ان لوگوں سمیت تمام تر سوشل میڈیا سے پذیرائی حاصل ہوئی جو قبل ازاں وزیرِ اعظم پر تنقید کیا کرتے تھے۔

صحافی مشرف زیدی نے "ایک غیر معمولی تقریر" کی پذیرائی کی، اور ڈان میں ایک مقالہ میں کہا گیا کہ خان نے مذہبی شدت پسندی اور نفرت کے خلاف ایک ایسی "مستحکم اور واضح روش رکھی ہے جو ہم نے تقریباً دو دہائیوں میں نہیں دیکھی۔"

دی نیوز، جو اکثر وزیرِ اعظم کا نقاد رہا ہے، نے کہا، "عدالتی فیصلے سے اختلاف رکھنے پر تشدد کو اس کا مناسب ردِّ عمل خیال کرنے والوں کی مذمّت میں وزیرِ اعظم عمران خان قابلِ ستائش طور پر بے باک تھے۔"

تاہم دیگر نے پاکستان میں توہینِ رسالت کے امور پر تنازع سے نمٹنے میں وزیرِ اعظم کے ملے جلے ریکارڈ کو نمایاں کیا۔

بلال حیدر نے گزشتہ برس توہینِ رسالت کے خلاف ایسے ہی احتجاج پر خان کی خاموشی کا حوالہ دیتے ہوئے ٹویٹ کیا، "کاش عمران خان گزشتہ فیض آباد دھرنے کے دوران بھی ایسا ہی خطاب کرتے۔"

جمعرات کو ایسی کوئی علامت نہ تھی کہ حکام لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں اہم راستوں کو مسلسل بند کرنے والے احتجاج کنندگان کے چھوٹے جتھوں کو صاف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ان مظاہروں میں سے زیادہ تر کی قیادت تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) جماعت کر رہی ہے، جو توہینِ رسالت امور پر اپنے غیرلچکدار نقطہٴ نظر کی وجہ سے معروف ہے.

2015 میں معرضِ وجود میں آنے والی ٹی پی ایل نے گزشتہ برس پاکستان کے متنازعہ قوانینِ توہینِ رسالت کے سخت تر نفاذ کا مطالبہ کرنے کے لیے کئی ہفتوں تک اسلام آباد کی ناکہ بندی کیے رکھی۔

اس احتجاج نے وفاقی وزیرِ قانون کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا اور جولائی کے عام انتخابات میں 2.33 ملین سے زائد ووٹ حاصل کرنے میں اس گروہ کے لیے راہ ہموار کر دی، جسے تجزیہ کار ایک "حیران کن طور پر" تیز اٹھان کہتے ہیں۔ تاہم یہ جماعت سندھ کی صوبائی اسمبلی میں صرف دو جبکہ قومی اسمبلی میں کوئی نشست نہ حاصل کر سکی۔

اس جماعت کے سربراہ، خادم حسین رضوی نے عزم کر رکھا ہے کہ اگر ٹی پی ایل جوہری مسلح ملک میں اقتدار حاصل کر لیتی ہے تو وہ حضرت محمّدؐ کے خاکے بنانے پر ہالینڈ کو صفحہٴ ہستی سے مٹا دیں گے۔"

عدم برداشت کے خلاف جنگ

درایں اثناء، بی بی کو تختہٴ دار سے بچانے کے بعد ان کے وکیل کا کہنا ہے انہیں اسلامی شدّت پسندوں کے غیض و غضب کا سامنا ہے۔۔ اور وہ حیران ہیں کہ انہیں کون بچائے گا۔

لیکن اپنے خلاف دھمکیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، سیف الملوک کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی پچھتاوا نہیں اور وہ عدم برداشت کے خلاف اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گے۔

ملوک کی حالیہ فتح بی بی – تقریباً ایک دہائی سزائے موت کی منتظر رہنے والی ایک عیسائی خاتون، جس پر توہینِ رسالت کا الزام تھا—کی رہائی کی صورت میں سامنے آئی، جب عدالتِ عظمیٰ نے بدھ (30 اکتوبر) کو اس کی سزا کالعدم کر دی۔

انہوں نے فیصلے کے فوری بعد اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس فیصلے نے ثابت کر دیا ہے کہ کوتاہیوں کے باوجود، اس ملک میں غریب، اقلیتیں اور معاشرے کے زیریں ترین طبقے انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔"

"یہ میری زندگی کا سب سے بڑا اور پر مسرت دن ہے۔"

شدّت پسندوں سے خطرہ

ملوک نے کہا کہ وہ خود کو ایک ایسی بیٹھی ہوئی مرغابی کی طرح دیکھتے ہیں جس کے پاس نہ کوئی تحفظ ہو اور نہ راہِ فرار۔

انہوں نے کہا، "میرا خیال ہے کہ میرے پاس قطعاً کوئی تحفظ نہیں۔ نہ کوئی سیکیورٹی ہے، اور میں آسان ترین ہدف ہوں ۔۔۔ کوئی بھی مجھے قتل کر سکتا ہے۔"

بی بی کا دفاع عدالتِ عالیہ کے اس وکیل کی جانب سے قبول کیے گئے متنازع مقدّمات کی ایک طویل فہرست میں سے تازہ ترین تھا۔

2011 میں ملوک پنجاب کے گورنر — ملک میں قوانینِ توہینِ رسالت کے نمایاں نقّاد اور بی بی کے حامی— سلمان تاثیرکے قتل پر ممتاز قادری کے کلیدی وکیلِ استغاثہ تھے۔

تاثیر کے محافظوں میں سے ایک – قادری نے گورنر کی جانب سے قوانینِ توہینِ رسالت میں ترامیم کے مطالبہ کو اپنا مقصد بتاتے ہوئے دن دہاڑے اپنے مالک پر گولیاں چلا دیں۔

ملوک نے کہا کہ انہوں نے یہ مقدمہ اس لیے قبول کیا کیوں کہ دیگر نے شدّت پسندوں کی جانب سے بدلے کے خوف سے انکار کر دیا تھا۔

ان کی پیروی کے نتیجہ میں قادری کو مجرم قرار دے کر 2016 میں پھانسی دے دی گئی۔ اسلام پسندوں نے قاتل کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اس کے احترام میں اسلام آباد کے نواح میں اس کا مزار بنایا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 43

13 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 11-11-2018

میں آپ کی اس پوسٹ مکمل مطمئن ہوں۔ پاکستان کی عوام امریکی ڈرون کی طرح ریموٹ کنٹرول ہیں۔ اور عوام اس طرح کے ماحول میں آٹو پائلٹ ہو جاتی ہے۔ تھوڑا سا طبقہ ہے جو نماز تو پڑھتا نہیں۔ لیکن وطن عزیز کو نقصان پہنچانے کے لئے مذہب اور دیگر راستے تلاش کرتا رہتا ہے۔ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ پڑھ چکا ہوں۔ اور مکمل پر امید ہوں۔ آسیہ پر توہین رسالت ثابت نہ ہو سکی۔ آسیہ بی بی معاملے پر ابھی تک صرف سیاسی مزہبی جماعتیں ہی سیاست کرتی رہیں جب کہ عوام کی جانب سے کوئی ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا۔ بہرحال میں دہشت گردی اور شدت پسندی ختم کرنے لئے ریاست پاکستان کے ساتھ بھر پور حمایت کرتا ہوں۔

جواب
Comment bubble | 11-09-2018

انتہائی جانبدارانہ مضمون ہے ۔۔۔۔آسیہ ملعونہ سزائےموت کی حق دار ہے ۔۔۔126کا احتجاج سول نافرمانی کی تحریک پی ٹی وی پہ حملہ اگر عمران خان کا انتہاپسندانہ احتجاج نہیں تو یہ بھی مذہبی لوگوں آینئی قانونی جموری حق،ہے ملک بھر میں پر امن احتجاج ہوا مارھاڑ توڑ پھوڑ نون لیگ کے لوگوں نے کی ہے

جواب
Comment bubble | 11-09-2018

بسم اللہ الرحمن الرحیم \nشروع اللہ کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے

جواب
Comment bubble | 11-08-2018

قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں عمران خان کا بہت بڑا جنونی فین ہوں اور اس معاملے کے بعد بھی میرا سب کچھ تحریک انصاف اور عمران خان ہے. لیکن ناموس رسالت پر سمجھوتہ نا منظور. مسئلہ صرف آسیہ کا نہیں میرے نبی کی عزت کا ہے. مغرب نے پہلے سازش کر کے پیسہ دکھا کر ہمارے دلوں میں جہاد کی اہمیت کم کردی اور اب مغرب نبی محترم پر جان لٹانے کا جزبہ بھی ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ مسلمان کمزور ہوں اور ہم مسلمانوں کو اپنے طریقے سے استعمال کر سکیں. لیکن سن لو اے طاغوتی قوتو. میرا یقین ہے کہ عمران خان اس مسئلے پر ڈٹ جائے گا. اور ہم مسلمانوں کے دل میں دین کا جزبہ زندہ ہے اور رہے گا انشاءاللہ ہم مقابلہ کریں گے باطل کے ایجنٹو کا. عمرانُُُخان کو کوئی بزیرائی نہیں ملی اس معاملے پر اس نے اپنی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے... لیکن خان صاحب کا دفاع کریں گے ہم اگر خان ڈٹ جائے تو...

جواب
Comment bubble | 11-07-2018

Mazhab k 7 insaniat b jora howa hy esi liye ehtijaj k doran takhribkari sab sy bari dashat gardi hy

جواب
Comment bubble | 11-06-2018

عمران شیطان کا تعلق کونسی مذہبی جماعت سے تھا جو پورے ملک کو 126دن ڈسٹرب کیا تھا. دوسری بات عمران شیطان اعظم اور اس کا منحوس ٹولہ خود اسی کارڈ کو استعمال کرکے برسر اقتدار آۓ ہے وہ کس منہ سے اس کو برا کہ سکتے ہے. تیسری بات کیا ساری دنیا نے نہیں دیکھا کہ پاکستان کی آرمی کے آفیسر فیض اباد دہرنے والوں میں پیسے تقسیم کررہے تھے

جواب
Comment bubble | 11-06-2018

آپ کا مکمل مضمون پڑھا لیکن آپکے اس مضمون میں شدت پسندی اور انتہا پسندی نظر آیئ بجاے کے تحریک لبیک میں تحریک لبیک نے جو کیا اچھا کیا پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا حق ہے لیکن میں اس چیز کی پرزور مذمت کرتا ہوں کہ جن شر پسندوں نے تحریک لبیک کو بدنام کرنے کی ناکام کوشیش کی اور جلاو گھیراو کیا

جواب
Comment bubble | 11-06-2018

یہ مضمون کوئی معنی نہیں رکھتا اس پہ شدید مذمت کرتا ھوں۔۔۔۔

جواب
Comment bubble | 11-05-2018

Nabi pak k gustakh pr hazar bar lanat us k hami pr bhi lanat

جواب
Comment bubble | 11-04-2018

لعنت ہو اس ملعونہ عورت اور اسکے حامیوں پر

جواب
Comment bubble | 11-04-2018

لعنت ھے اس ملعونہ پر ۔ اور دگنی لعنت ھے اس حامیوں پر۔

جواب
Comment bubble | 11-03-2018

یعنی آپ کی نظر کی اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت کی بات کرنا دہشت گردی اور انتہا پسندی ھے ! \nجبکہ ان کی توھین ، آزادی آرا ھے جو کہ آسیہ مسیح نے کی اور پھر دو عدالتوں میں اقرار کر کے معافی بھی مانگی ! \nآسیہ مسیح کو اقرار جرم کے باوجود چھوڑنے کا مطلب یہ ہی ھے کہ آئندہ کوئی بھی گستاخی رسول کرنے والے کے خلاف قانونی راستہ نہ اختیار کرئے بلکہ خود اس کو ادھر ہی مار دے۔ \nصاحب اقتدار و احتیار کو سوچنا چاہیے کہ مغرب کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کے اقدام سے معاشرے میں انارگی پھیلے گی ۔

جواب
Comment bubble | 11-02-2018

گستاخِ مذہب کی سزا۔۔۔ سر تن سے جدا \n

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج