| سلامتی

طالبان کے راہنما ان کی خفیہ 'پرتعیش زندگی' کی طرف اشارہ کرنے والی تفتیش پر برہم

پاکستان فارورڈ


طالبان کے حکام 7 جولائی کو دوحہ پہنچے تاکہ بین افغان مذاکرات میں شرکت کر سکیں۔ پاکستانی حکام پاکستان میں ایسے کاروباروں اور سرمایہ کاری کی تفتیش کر رہے ہیں جو طالبان سے جڑے ہیں۔ ]کریم جعفر/ اے ایف پی[

طالبان کے حکام 7 جولائی کو دوحہ پہنچے تاکہ بین افغان مذاکرات میں شرکت کر سکیں۔ پاکستانی حکام پاکستان میں ایسے کاروباروں اور سرمایہ کاری کی تفتیش کر رہے ہیں جو طالبان سے جڑے ہیں۔ ]کریم جعفر/ اے ایف پی[

کراچی -- طالبان کے راہنما پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کی طرف سے، پاکستان میں بہت سے ایسے کاروباروں اور سرمایہ کاریوں کے بارے میں جاری، ایک نقصان دہ تفتیش کو چکر دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا تعلق گروہ کے راہنماؤں سے ہے۔

ایک تفتیش سے یہ ثبوت ملا ہے کہ طالبان کے سابقہ راہنما مولانا اختر محمد منصور، کراچی میں املاک کے ایک کاروبار کے مالک ہیں۔ یہ بات اسلام آباد میں ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی کے ونگ کی طرف سے 25 جولائی کو دائر کی گئی ابتدائی معلوماتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں بتائی گئی ہے۔

منصور، جنہوں نے 2015 میں گروہ کی قیادت سنبھالی تھی، کو مئی 2016 میںایران سے پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے، ایک ڈرون کے حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔


اعلی طالبان راہنما 26 جولائی کو انڈونیشیا کے دورے سے لطف اندوز ہونے کے لیے قطر سے روانہ ہو رہے ہیں۔ ]فائل[

اعلی طالبان راہنما 26 جولائی کو انڈونیشیا کے دورے سے لطف اندوز ہونے کے لیے قطر سے روانہ ہو رہے ہیں۔ ]فائل[


ایف آئی اے کے ایک رپورٹر نے الزام لگایا کہ افغان طالبان پاکستان میں کاروبار چلا رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے ایک رپورٹر نے الزام لگایا کہ افغان طالبان پاکستان میں کاروبار چلا رہے ہیں۔

ایف آئی آر کی تفتیش کے مطابق، منصور کے پاس دو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ، بینک اکاونٹس تھے اور وہ کراچی میں کئی املاک اور زمینوں کے مالک تھے۔

ایف آئی آر میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد جس میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف پابندیوں کو لازمی قرار دیا گیا تھا، کے حوالے سے کہا گیا کہ "اس سے ظاہر ہوا ہے کہ اقوامِ متحدہ (یو این) کی سیکورٹی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت ہونے کے باوجود، وہ املاک کے لین دین میں ملوث تھا اور بعد میں اسے چھہ غیر منقولہ املاک کا مالک پایا گیا"۔

رپورٹ کے مطابق، منصور کی املاک میں ایک گھر، ایک پلاٹ اور چار فلیٹ جو کہ کراچی کے پرتعیش علاقوں، گلشنِ معمار، گلزارِ حاجی اور شہیدِ ملت روڈ پر واقع ہیں۔

منصور کے ایک رئیل اسٹیٹ ایجنسی کے تحت رجسٹرڈ بہت سے بینک اکاونٹ ہیں. تفتیش کاروں کو بینک اکاونٹس اور ایجنسی کے درمیان کسی حقیقی تعلق کا پتہ نہیں چلا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ منصور جعلی نام سے کاروبار چلاتا تھا اور اس نے جعلی شناختی کارڈ استعمال کیا تھا۔

اس سے قبل ہونے والی تفتیش میں طالبان کے پاکستان سے کاروباری تعلقات کو بتایا گیا ہے۔

'خفیہ پر تعیش زندگی'

ایف آئی اے کی رپورٹ کے بارے میں سننے کے بعد، طالبان نے غصے سے جواب دیا اور سوشل میڈیا کے بہت سے چینلوں پر کئی زبانوں میں ان نتائج کو مسترد کیا اور کہا کہ منصور کے پاس ایسے کاروبار شروع کرنے کے لیے نہ تو "وقت تھا اور نہ ہی پیسے"۔

سالوں تک، طالبان کے راہنماؤں نے اپنے آپ کو اپنے مقصد کے عاجزانہ خادموں کے طور پر پیش کیا ہے اور اپنی کاروباری سرگرمیوں کو نہایت احتیاط سے چھپایا ہے۔

تاہم، گزرتے وقت کے ساتھ گروہ کی بڑھتی ہوئی مجرمانہ فطرت کے باعث، اب افغانستان کا سب سے بڑا منشیات اور دھوکہ دہی کے منصوبوں کا گروہ بن گیا ہے، نے اپنے راہنماؤں کو بہت زیادہ امیر بنا دیا ہے جبکہ دہشت گردی کے حملوں کے متاثرین اور گروہ کے نچلے درجے کے ارکان ابھی بھی انتہائی غربت میں رہ رہے ہیں۔

کراچی میں افغان برادری کے ایک بزرگ صفی آغا نے کہا کہ طالبان نے پاکستان اور خصوصی طور پر کراچی اور متحدہ عرب امارات میں کاروبار قائم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے کاروباروں میں تعمیر اور ٹرانسپورٹ کے ادارے شامل ہیں کو منی لانڈرنگ کرتے ہیں۔

آغا نے کہا کہ "یہ کاروبار افغانستان میں، بظاہر عسکریت پسندی کی مدد کے لیے استعمال ہوتے ہیں مگر طالبان کے زیادہ تر راہنما خفیہ طور پر ذاتی طور پر اپنے کاروبار کر رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کے کمانڈر زیادہ تر پاکستانی فرنٹ مینز کے ذریعے کاروبار کرتے ہیں۔

کراچی میں طالبان کے اعلی راہنماؤں کی گرفتاری سے بھی ان کے علاقے سے کاروباری تعلقات کا پتہ چلتا ہے۔

ایسے راہناؤں میں دوسروں کے علاوہ، ملا عبدل غنی برادر، طالبان کے سیاسی نائب سربراہ اور گروہ کے دوحہ دفتر کے سربراہ، امیر معاویہ، القاعدہ کے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود عسکریت پسندوں کے لیے گروہ کے رابطہ افسر، شامل ہیں۔

ایک مہاجر، اشرف زادہ جو 1990 میں طالبان کی طرف سے علاقے کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد، افغانستان کے ہلمند صوبہ سے ہجرت کر کے کراچی آئے تھے، نے کہا کہ "طالبان منافق اور دھوکہ باز ہیں۔ وہ مذہب اور جہاد کے نام کو استعمال کرتے ہوئے معصوم لوگوں کا استحصال کرتے ہیں جبکہ حقیقت میں کراچی کر پرتعیش علاقوں میں کاروبار چلاتے ہیں ذاتی مفادات اور لالچ کے لیے"۔

زادہ نے کہا کہ "ہم جو ان کے ظلم سے متاثر ہوئے ہیں کو شہر کی کچی بستیوں میں کسمپرسی کی حالت میں رہنے پر مجبور ہونا پڑا ہے"۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ طالبان کے تشدد سے بچنے کے لیے اپنے آٹھ افراد کے خاندان کو ہلمند سے لے کر بھاگے تھے۔

"مگر افغان طالبان پرتعیش زندگی گزار رہے ہیں اور مختلف غیر قانونی راستوں، خصوصی طور پر بھتوں سے حاصل ہونے والی بڑی سرمایہ کاری کو کاروباروں میں خرچ کر رہے ہیں"۔

پاکستان میں، افغان طالبان باقاعدگی سے امیر مہاجرین سے بھتے کی مہمات کے ذریعے بڑی رقوم اکٹھی کرتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو افغانستان میں ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "اس کے کچھ چھوٹے حامی کم آمدنی والے علاقوں سے غریب مہاجرین سے رقوم جمع کرتے ہیں"۔

کراچی کی ٹرکوں کی صنعت، جس پر پشتون تاجر چھائے ہوئے ہیں، تقریبا سارا سامان افغانستان لے کر جاتے ہیں۔

کراچی کے ایک ٹرک ڈرائیور اسداللہ شنواری نے کہا کہ "افغان طالبان کو ہمارے ٹرکوں پر حملوں سے روکنے کے لیے ہم باقاعدگی سے انہیں حفاظت کے لیے پیسے دیتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ طالبان کے عسکریت پسند ان ٹرک ڈرائیوروں سے بھی بہت پیسے کماتے ہیں جو افغانستان اور خصوصی طور پر ننگرہار صوبہ سے، ماربل اور ابرق کا پتھر لاتے ہیں۔

شینواری نے کہا کہ "افغان طالبان کے عسکریت پسند بھتہ خوری کے ذریعے پیسے اکٹھے کر کے امیر ہو جاتے ہیں اور اپنا کاروبار شروع کر دیتے ہیں مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

37
126
نہیں
تبصرے 7
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 08-18-2019

یہ اسلام دشمن قوتوں کے ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کی کوشش ھے اب امریکہ اور طالبان کے مذکرات کو سبوتاژ کرنے والے سب کچھ الٹا کرنے میں مصروف ہیں

جواب
| 08-16-2019

تبصرے میں حسد کے سوا کچھ نہیں

جواب
| 08-16-2019

مفروضوں پر مبنی بیانات ۔ چاند پر تھوکنے کے مترادف ہے۔

جواب
| 08-15-2019

غلط

جواب
| 08-11-2019

ظاہر ہے کہ قطر میں رہنے والے لوگوں کی زندگی افغانستان میں رہنے والوں سے بہتر ہو گی۔ اور وہ کاروبار چلائیں گے یا وہ کیسے اس تنظیم کو چلائیں گے۔

جواب
| 08-10-2019

bilkul ghalat mazmoon hai

جواب
| 08-10-2019

پاکستان کو درپیش تمام مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ تمام نمک حرام افغانی دہشتگردوں کو اور ہر افغانی کو پاکستان سے واپس ان کے جہنم "افغانستان" دفع کر دیا جائے، یا ان کے آقا ہندوتوا ملک "ریپستان" بھیج دیا جائے۔ کسی ایک بھی افغانی کتّے کو پاکستان میں نہیں رہنے دیا جانا چاہیئے LOL۔

جواب