|

دہشتگردی

ایران کو القائدہ کے مطلوب ارکان کے لیے طویل عرصے سے ایک پناہ گاہ کے طور پر دیکھا گیا ہے

ایران کے القائدہ کے ساتھ تعلقات کا آغاز اسامہ بن لادن کے زمانے کے دوران ہوا اور اس کے اہلِ خانہ کی میزبانی کرنے کے ساتھ اس کی موت کے بعد جاری رہا۔

از ولید ابوالخیر بمقام قاہرہ


ایرانی افراد تہران میں 28 جولائی 2018 کو تہران کے قدیمی گرینڈ بازار کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے۔ [عطا کنار/اے ایف پی]

ایرانی افراد تہران میں 28 جولائی 2018 کو تہران کے قدیمی گرینڈ بازار کے اندر چہل قدمی کرتے ہوئے۔ [عطا کنار/اے ایف پی]

ایران کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں (آئی آر جی سی) کے القائدہ کے ساتھ مضبوط روابط ہیں، جس کا ثبوت بین الاقوامی حکام سے مفرور القائدہ کے عناصر کی ایک بڑی تعداد کی ایران کی جانب سے میزبانی کرنا ہے۔

ان میں سیف العدل اور عدل رضی بن سقر الوہبی الحربی شامل ہیں، جنہیں 7 اگست 1998 کو کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر جڑواں خودکش حملوں کے منصوبہ ساز ہونے کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔

مصر میں اسلامی جہاد کے بانی رکن، نبیل نعیم، جو انتہاپسندی ترک کر چکے ہیں، کے مطابق، القائدہ اور ایران کے درمیان تعلقات اس زمانے میں شروع ہوئے تھے جب اسامہ بن لادن تنظیم کا سربراہ تھا۔

انہوں نے کہا کہ وہ تعلق داری بن لادن کی موت کے بعد جاری رہی ہے۔

"دہشت گردی کے الزامات پر بین الاقوامی طور پر مطلوب القائدہ کے عناصر اور قائدین کے لیے ایران ایک بنیادی پناہ گاہ ہے"، پر توجہ دلاتے ہوئے انہوں نے کہا، "کچھ معلومات نشاندہی کرتی ہے کہ اس تعلق کا آغاز سنہ 1992 میں ہوا تھا۔"

نعیم نے کہا کہ اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں کی ممتاز قدس فورس کے کمانڈر، جنرل قسیم سلیمانی "اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں اور القائدہ کے درمیان تعلق کے عمار ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ سنہ 2008 میں اپنی ہلاکت سے قبل، حزب اللہ کے عسکری کمانڈر عماد مغنیہ نے بھی "[القائدہ] عناصر کو تربیت، خصوصاً بم نصب کرنے اور بم دھماکے کرنے کے طریقوں کی تربیت دینے میں، ایک اہم کردار ادا کیا۔"

انہوں نے کہا کہ القائدہ کے اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں اور ایرانی خفیہ اداروں دونوں کے ساتھ تعلقات مضبوط ہیں، انہوں نے توجہ دلائی کہ "تعلقات کی رمزیت اس وقت آشکار ہوئی جب ایران نے القائدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کے اہلِ خانہ کی میزبانی کی

نعیم نے کہا کہ دونوں اطراف برسوں سے فرقہ پرست تنازعات کو ہوا دیتی رہی ہیں، انہوں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا، "اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستے خود کو شیعہ کے حقوق کا تحفظ کرتے اور ان کا دفاع کرتے ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں، اور القائدہ وہی حربہ سُنی فرقے کے ساتھ استعمال کر رہی ہے۔"

مطلوب دہشت گردوں کی میزبانی کرنا

سابق سعودی ملٹری اتاشی میجر جنرل منصور الشہری نے کہا کہ 11 ستمبر 2001 میں امریکہ میں حملوں کی تحقیقات نے "تصدیق کی کہ ایران نے ان عناصر کو منصوبہ بندی کی عملی اور مادی معاونت فراہم کی، اور ان کی نقل و حرکت میں سہولت کاری کی جنہوں نے یہ حملے کیے تھے۔"

انہوں نے مزید کہا، "[دہشت گردی کے] جرائم کا ارتکاب کرنے والے ان بہت سوں کی میزبانی ایران نے کی تھی، بشمول عدل رضی [بن سقر الوہبی الحربی] اور سیف العدل، جنہوں نے کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر بم دھماکوں میں کردار ادا کیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ یہ ایران کے بین الاقوامی فوجداری استغاثہ کو آشکار کرتا ہے، کیونکہ وہ افراد "بہت سے ممالک، نیز انٹرپول کو مطلوب ہیں۔"

الشہری نے کہا کہ عدل رضی، جو ایران میں مقیم ہے، سعودی عرب کی سنہ 2011 کی مطلوب ترین افراد کی فہرست میں 18 ویں نمبر پر ہے، کیونکہ "اس نے القائدہ میں شامل ہونے کے لیے افغانستان کا سفر کیا تھا اور تنظیم کے نظریات کے آن لائن پرچار کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔"

الشہری نے کہا کہ عدل رضی اس وقت "ایران کے ذریعے عناصر کی نقل و حرکت اور فنڈز کو مربوط کرنے اور سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ میں عناصر کی نقل و حرکت کو مربوط کرنے" میں خصوصی مہارت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کا کام القائدہ کے اعلیٰ سہولت کار اور کفیل ازدین عبدالعزیز خیل کے ساتھ منسلک ہے، جو ابو یاسین السوری کے نام سے زیادہ مشہور ہے۔

الشہری نے کہا کہ سیف العدل کا اصلی نام محمد صلاح الدین زیدان ہے، انہوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ اس کا نام اس وقت تک محمد مکاوی تصور کیا جاتا تھا جب تک کہ اصل مکاوی کو سنہ 2012 میں مصری حکام کی جانب سے گرفتار کر لیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ انکشاف ہوا کہ العدل نے مکاوی نام حکام کو اپنے پیچھے سے جھٹکنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

راستہ بدلنے اور القائدہ میں شامل ہونے سے قبل سیف العدل ایک مصری فوجی افسر تھا۔ وہ تنظیم کے تربیتی کیمپوں کا انچارج تھا، اور بن لادن کے قتل کے بعد، 17 مئی 2011 کو اسے عارضی طور پر نائب سربراہ تعینات کیا گیا تھا۔

الشہری نے کہا، "ان کارروائیوں، جن کا ہدف امریکی مفادات، بشمول کینیا اور تنزانیہ میں جڑواں بم دھماکے، کے علاوہ اس نے ایران میں اپنی روپوشی میں سنہ 2003 میں ریاض، سعودی عرب میں حملے کی منصوبہ بندی کی اور اس کا حکم دیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "اس وقت وہ تنظیم کا عسکری قائد تھا۔ بم دھماکے میں 35 افراد جاں بحق ہوئے جن میں نو امریکی تھے، اور نتیجتاً اس کی گرفتاری پر رکھے گئے انعام کی رقم 5 ملین ڈالر سے بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دی گئی۔"

القائدہ کے لیے جنت

ایک تزویراتی تجزیہ کار اور دہشت گرد تنظیموں کے ماہر میجر جنرل یحییٰ محمد علی، جو مصری فوج سے سبکدوش ہوئے ہیں، نے کہا، "اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں نے القائد کے امراء اور عناصر کو ایران کی جانب سے پناہ دیتے ہوئے ایک پورا علاقہ تشکیل دیا ہوا ہے جو ان کے لیے ایک جنت ہے۔"

انہوں نے المشرق کو بتایا، "یہ ایک پہاڑی علاقہ ہے اور ایران عراق جنگ کے دوران سے عراقی فوجیوں کے لیے ایک حراستی کیمپ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ [روح اللہ] خمینی کے مزار سے 15 کلومیٹر شمال میں تہران اور قم کو ملانے والی شاہراہ پر قبرستان بہشتِ زاہرہ کے قریب ہے۔"

انہوں نے کہا کہ صوبہ کرمانشاہ میں تنگِ کنشت شہر میں ایک کیمپ، اور بحیرۂ قزوین کے ساحل پر بندر انزالی بندرگاہ کے قریب ساحل الروح کیمپ کے علاوہ، یہ القائدہ کے لیے ایک خصوصی حصہ ہے۔

علی نے کہا، ذرائع ابلاغ کی اور خفیہ اطلاعات "اسلامی پاسدارانِ انقلاب دستوں کی جانب سے القائدہ عناصر کی تربیت کے لیے عراق میں کیمپوں، خصوصاً صوبہ کربلا میں ضلع عین التمر میں کیمپوں کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ القائدہ کے کلیدی عناصر جنہوں نے کسی نہ کسی مقام پر ایران میں پناہ لی ہے، ان میں محسن عائد فاضل الفضلی شامل ہے جو، "خطرناک ترین کویتی عناصر میں سے ایک اور ایران میں القائدہ کے ممتاز ترین رہنماؤں میں سے ایک ہے۔"

الفضلی سنہ 2015 میں شامل میں ایک فضائی حملے میں مارا گیا تھا۔

دیگر اعلیٰ سطحی شخصیات میں اسامہ بن لادن کا داماد سلیمان بو غیث شامل ہے، جو تنظیم کا ترجمان رہا ہے، اور اردن شہری ابو مصعب الزرقاوی، عراق میں القائدہ کا پہلا امیر، جو سنہ 2006 میں مارا گیا تھا۔

ان میں "عملی منصوبہ ساز" عبداللہ احمد عبداللہ شامل تھا، جو ابو محمد المصری کے طور پر بھی جانا جاتا تھا، جو تنزانیہ اور کینیا میں 1998 میں سفارت خانے میں بم دھماکے میں ملوث ہونے کی وجہ سے مطلوب ہے؛ اور عبدالعزیز المصری شامل تھا، افغانستان میں القائدہ کے کیمپوں میں ایک معلم جس نے دسمبر 2000 میں ایک پاکستانی مسافروں پر مشتمل فضائی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوشش میں حصہ لیا تھا۔

ان میں افغانستان میں القائدہ کا ایک بڑا رہنماء اور تنظیم کا ترجمان ابو الیث البی؛ اور ابو دجانہ الباشا، جو ابو دجانہ المصری کے طور پر بھی جانا جاتا تھا اور اب مر چکا ہے، بھی شامل تھا، جو نام نہاد "خفیہ کمانڈر" کے طور پر معروف تھا اور اس نے القائدہ کی جنوبی ایشیاء شاخ کے قیام میں ایک کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ان میں شامل تھے لیبیا کا باشندہ ابو انس البی، جو اب مر چکا ہے، القائدہ کا ایک کمپیوٹر کا ماہر جو 1998 میں سفارت خانے پر بم دھماکوں میں اپنے کردار کی وجہ سے ملزم تھا؛ اور "سفاکیت کا انتظام" کا مصنف محمد خلیل الحکائمہ، جو ایران میں القائدہ کے ذرائع ابلاغ اور پراپیگنڈہ کے سربراہ کے طور پر کام کرنے کے لیے مشہور تھا۔

احمد حسن ابوالخیر المصری، جسے تنظیم کا نائب امیر کہا جاتا تھا، سنہ 2017 میں شام کے ضلع ادلب میں مارا گیا تھا اور ایران کے ساتھ روابط رکھنے والے القائدہ رہنماؤں کی ایک طویل فہرست میں ایک اور نام ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج