2017-11-02 | دہشتگردی

بن لادن کی نئی جاری شدہ دستاویزات القاعدہ-ایران تعلقات پر روشنی ڈالتی ہیں

اے ایف پی

سینیئر القاعدہ رہنما کی ایرانی تحفظ کے تحت کام کرنے کی واضح صلاحیّت ان دعووں کی توثیق کرتی ہے کہ تہران اور بن لادن کی سرگرمیاں باہم مربوط تھیں۔


نئے جاری شدہ شواہد ایران اور القاعدہ کے مابین ایک موہوم تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کے بارے میں طویل عرصہ سے قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ ایران کے تحفظ میں رہتا ہے، اور القاعدہ کے مرحوم رہنما نے ایران کے روحانی پشوا آیت اللہ علی خامنائی کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ 18 مارچ 2017 کو لبنان کی عسکریت پسند شعیہ حزب اللہ تحریک کے نوجوان حامی شام میں ایک جنگ میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے ایک جنگجو کے جنازہ کے دوران اسلامی جمہوریہؑ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی (بائیں) اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنائی (دوسرے بائیں) کی تصاویر اٹھائے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ]محمود زایّات/اے ایف پی[
نئے جاری شدہ شواہد ایران اور القاعدہ کے مابین ایک موہوم تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کے بارے میں طویل عرصہ سے قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ ایران کے تحفظ میں رہتا ہے، اور القاعدہ کے مرحوم رہنما نے ایران کے روحانی پشوا آیت اللہ علی خامنائی کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ 18 مارچ 2017 کو لبنان کی عسکریت پسند شعیہ حزب اللہ تحریک کے نوجوان حامی شام میں ایک جنگ میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے ایک جنگجو کے جنازہ کے دوران اسلامی جمہوریہؑ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی (بائیں) اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنائی (دوسرے بائیں) کی تصاویر اٹھائے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ]محمود زایّات/اے ایف پی[
نئے جاری شدہ شواہد ایران اور القاعدہ کے مابین ایک موہوم تعلق کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ اسامہ بن لادن کے بیٹے حمزہ کے بارے میں طویل عرصہ سے قیاس کیا جا رہا تھا کہ وہ ایران کے تحفظ میں رہتا ہے، اور القاعدہ کے مرحوم رہنما نے ایران کے روحانی پشوا آیت اللہ علی خامنائی کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ 18 مارچ 2017 کو لبنان کی عسکریت پسند شعیہ حزب اللہ تحریک کے نوجوان حامی شام میں ایک جنگ میں ہلاک ہونے والے حزب اللہ کے ایک جنگجو کے جنازہ کے دوران اسلامی جمہوریہؑ ایران کے بانی آیت اللہ روح اللہ خمینی (بائیں) اور ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنائی (دوسرے بائیں) کی تصاویر اٹھائے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ ]محمود زایّات/اے ایف پی[

سینیئر القاعدہ رہنما کی ایرانی تحفظ کے تحت کام کرنے کی واضح صلاحیّت ان دعووں کی توثیق کرتی ہے کہ تہران اور بن لادن کی سرگرمیاں باہم مربوط تھیں۔

واشنگٹن – بدھ (یکم نومبر) کو امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) نے القاعدہ کی اندرونی دستاویزات کا ایک وسیع آرکائیو جاری کیا، جس میں 2011 میں پاکستان میں اسامہ بن لادن کے کمپاوٴنڈ پر مہلک چھاپے کے دوران ضبط کی گئی اس کے ہاتھ سے لکھی گئی ڈائری شامل ہے۔

قبل ازاں سی آئی اے ایبٹ آباد میں کمپاوٴنڈ پر امریکی نیوی سیلز کے دھاوے اور القاعدہ کے عالمی شدّت پسند نیٹ ورک کے رہنما کو گولیاں مار کر ہلاک کیے جانے پر بازیاب کی گئی فائلز کو منظرِ عام پر لائی تھی۔

470,000 اضافی فائلوں کے اجراء میں بن لادن کے بیٹے حمزہ کے بطور بالغ پہلی عام تصاویر شامل ہیں۔

نئے غیر مخفی خزانے تک رسائی حاصل کرنے والے سکالرز کا کہنا ہے کہ یہ دستاویزات القاعدہ کے ایران کے ساتھ مبہم تعلق پر نئی روشنی ڈالتے ہیں۔

ایران میں شادی

حمزہ بن لادن کی شادی کی ویڈیو کی شمولیت بن لادن کے لاڈلے بیٹے کی بطور ایک بالغ دنیا کو پہلی تصاویر فراہم کرتی ہے – بظاہر یہ ویڈیو ایران میں فلمائی گئی۔

مئی 2015 میں اے ایف پی کی جانب سے منکشف کیے گئے خطوط سمیت قبل ازاں جاری کی گئی دستاویزات کے مطابق، بن لادن حمزہ کو القاعدہ کے عالمی جہادی نیٹ ورک کے رہنما کے طور پر اس کی جانشینی کرنے کے لیے تیار کر رہا تھا۔

لیکن مہلک امریکی چھاپے کے بعد اسے ایبٹ آباد میں بن لادن کی کمین گاہ پر لائے جانے کے منصوبے بظاہر منسوخ کر دیے گئے، اور اب سمجھا جاتا ہے کہ -- 27 سے 28 کا – یہ نوجوان ایران میں ہے۔

فاوٴنڈیشن فار ڈیفنس اینڈ ڈیموکریسیز (ایف ڈی ڈی) کے سکالرز، جنہیں منظرِ عام پر لائے جانے سے قبل اس خزانے کو دیکھنے کی رسائی مل سکی، نے ایف ڈی ڈی کے لانگ وار جارنل بلاگ میں لکھا کہ نئے جاری شدہ دستاویزات میں ایک 19 صفحات پر مشتمل تحقیق ہے جو بن لادن کے ایک لفٹین کی جانب سے قلمبند کی گئی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے گزشتہ ماہ ایف ڈی ڈی کے منظم شدہ ایک سمینار کے دوران کہا، "تعلقات بھی ہیں اور روابط بھی۔ ایسے ادوار بھی رہے ہیں جب ایرانیوں نے القاعدہ کے ہمراہ کام کیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ایسے روابط رہے ہیں، جہاں انہوں نے کم از کم ایک دوسرے کا تعاقب نہ کرنے کے معاہدے کیے ہیں۔"

کام سے متعلق روابط

ان روابط کی مکمل حد اور حقیقی نوعیت غیر واضح اور اسکالرز اور پالیسی سازوں کے درمیان متنازع ہے۔

ایک طرف، تہران اور مشرق وسطیٰ میں اس کی شیعہ اکثریتی پراکسی قوتیں القائدہ کے سخت فرقہ وارانہ نظریہ سے منسلک سنی قوتوں سے جنگ کرتی ہیں۔مثال کے طور پر ایران کی پشت پناہی میں حزب اللہ، القائدہ سے منسلک شامی باغیوں سے تنازعہ میں ملوث ہے۔

لیکن حمزہ اور دیگر اعلیٰ عسکری شخصیات کی ایرانی تحفظ کے تحت کام کرنے کی ظاہری اہلیت اس تاثر کو تقویت دیتی ہے کہ حمزہ کے والد اور تہران کے درمیان کام سے متعلق باہمی روابط تھے۔

جوزیلین اور روگیو لکھتے ہیں، ایک دستاویز، ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ایران نے القائدہ کے "سعودی بھائیوں" کو اس شرط پرتربیت، پیسہ اور ہتھیاروں کی پیشکش کی کہ وہ خلیج میں امریکی مفادات پر حملہ کریں گے۔

تاہم کچھ فائلیں تہران اور القائدہ کے درمیان کھلی عدم موافقت ظاہر کرتی ہیں۔ بن لادن نے اپنے رشتہ داروں کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لئے ایک بار اس وقت کے ایرانی رہنما آیت اللہ علی خمینائی کو لکھا تھا۔

جوزیلین نے لکھا، "دیگر فائلیں ظاہر کرتی ہیں کہ ایک تبادلے پر مجبور کر نے کے لئے القائدہ نے ایک ایرانی سفارتکار کو اغوا کرلیا تھا۔"

"اسامہ بن لادن کی مراسلت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے اور اس کے ساتھیوں کو خدشہ تھا کہ حمزہ یا کنبے کے دیگر ارکان کی رہائی کے بعد ایرانی ان کا پیچھا کریں گے۔"

روگیو اور جوزیلین مزید بتاتے ہیں کہ بن لادن نے، پورے مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثرو نفوذ، جسے وہ تباہ کن سمجھتا تھا، روکنے کے لئے منصوبوں پر خود غوروخوض کیا۔

تاہم، وہ دلیل دیتے ہیں کہ خفیہ معلومات کا تجزیہ، القائدہ کے ایرانی سرزمین پر اپنی "بنیادی سہولیات" قائم رکھنے کے قابل ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

تنویر احمد | 11-13-2017

ایران عظیم ہے

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج