|

دہشتگردی

طالبان افغانستان میں منشیات کا سب سے بڑا گروہ بن چکے ہیں: حکام

انسدادِ منشیات کی افغان وزارت کے مطابق، غیر قانونی منشیات کی تجارت سے حاصل ہونے والا تقریبا 99 فیصد منافع دہشت گرد گروہوں اور منشیات کے گروہوں کو جاتا ہے۔

از سلیمان


ایک افغان سیکیورٹی افسر 17 مئی کو بدخشاں کے باہر غیر قانونی پوست تباہ کرتے ہوئے۔ [شریف شائق/اے ایف پی]

ایک افغان سیکیورٹی افسر 17 مئی کو بدخشاں کے باہر غیر قانونی پوست تباہ کرتے ہوئے۔ [شریف شائق/اے ایف پی]

کابل -- طالبان، جنہوں نے افغانستان میں اپنی حکومت کے دوران پوست کی کاشت پر پابندی عائد کر دی تھی، اب ملک کی ہیروئین کی پیداوار پر نمایاں تسلط جماتے نظر آتے ہیں، جو انہیں اپنی سرگرمیوں کے لیے پیسے کا بہت زیادہ بہاؤ فراہم کرتی ہے۔

طالبان نے پوست کے کاشتکاروں پر ایک طویل عرصے سے ٹیکس عائد کر رکھا ہے تاکہ اپنی برسوں طویل بغاوت کے لیے سرمایہ جمع کر سکیں، لیکن حکام کو تشویش ہے کہ وہ خود اپنی فیکٹریاں چلا رہے ہیں جو پوست کی فصل کو برآمد کے لیے مارفین اور ہیروئین میں تبدیل کرتی ہیں۔

وزارتِ انسدادِ منشیات کے ایک ترجمان، سید مہدی کاظمی نے اے ایف پی کو بتایا، "طالبان کو اپنی جنگی مشین چلانے اور بندوقیں خریدنے کے لیے مزید پیسہ چاہیئے؛ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے منشیات کی فیکٹریوں کو قابو کر لیا ہے۔"

ایک تجزیہ کار جو اس وزارت کے مشیر ہیں انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ پوست کو مارفین، جو کہ اس کے ہیروئین بننے سے قبل پہلا مرحلہ ہے، میں تبدیل کرنے کے لیے درکار تیزاب اینہائڈرائید جیسے کیمیائی مادوں کو قبضے میں لینے میں اضافہ طالبان کی منشیات کی سرگرمیں میں وسعت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

ماہر نے کہا کہ چھیاسٹھ ٹن کیمیائی مواد سنہ 2016 میں قبضے میں لیا گیا تھا، جبکہ 50 ٹن اس سال کے صرف پہلے چھ ماہ میں پکڑا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی کے اوائل میں، 15 ٹن مغربی افغانستان میں ایرانی سرحد کے قریب پکڑا گیا تھا، جو کہ ترکی کے ذریعے یورپ کو منشیات فراہم کرنے کا مقبول راستہ ہے۔

مارفین کی ضبطگیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ تجزیہ کار، جن کا کہنا تھا کہ یہ جتنی تیار ہوتی ہے اس کا تقریباً صرف 10 فیصد ہی دریافت ہوتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پورے 2016 میں 43 ٹن پکڑے جانے کے مقابلے میں سنہ 2017 کی پہلی ششماہی میں ستاون ٹن پکڑی گئی تھی۔

رجحان کو پلٹنا

افغان حکومت اور اس کے بین الاقوامی اتحادی، جو اس خطرناک رجحان کو پلٹنے کے خواہشمند ہیں، نے افغان نیشنل ڈرگ ایکشن پلان (این ڈی اے پی) تیار اور نافذ کرنا شروع کیا۔

وزارتِ انسدادِ منشیات کے ایک ترجمان، محمد حنیف دانشیار نے سلام ٹائمز کو بتایا، "اس ایکشن پلان کے اطلاق کے بعد، ہم غیر قانونی منشیات کے مظہر کے ساتھ سنجیدگی سے لڑ سکتے ہیں۔"

دانشیار نے کہا، "[پلان کے] مقاصد میں پوست کی کاشت کو کم کرنا، منشیات کی پیداوار اور غیر قانونی نقل و حمل کو کم کرنا، منشیات کی طلب کو کم کرنا، انسدادِ منشیات پولیس کو مضبوط بنانا، قانون کا نفاذ کرنا، افغان سرحدوں کی حفاظت کو مضبوط کرنا، ہیروئین کی تیاری میں استعمال ہونے والے کیمیائی مواد کے داخلے کو روکنا، منشیات کے عادی افراد کے علاج کے لیے مراکز کی صلاحیت میں اضافہ کرنا، عوامی آگاہی میں اضافہ کرنا، اور کسانوں اور زمین مالکان کی معاونت کرنا اور انہیں روزگار فراہم کرنا اور پوست کی کاشت کے متبادل کے لیے زرعی اجناس فراہم کرنا شامل ہے۔"

انہوں نے کہا، "جیسے ہی پوست کی کاشت ختم ہو گی ۔۔۔ وزارتِ انسدادِ منشیات کا ایک منصوبہ تیار ہے جو ان کسانوں کی مدد کرے گا جو قانونی کاشت کرتے ہیں۔ وزارت ان کے کھیتوں میں پانی کی کمی کو دور کرے گی اور سڑکیں اور گلیاں تعمیر کرے گی، نیز طبی مراکز اور اسکول تعمیر کرے گی۔"

دہشت گردوں کا منافع؛ کسانوں کا نقصان

مبصرین کا کہنا ہے کہ فساد، دہشت گردی اور منشیات کا ایک علامتی رشتہ ہے۔

انسدادِ منشیات کے ایک تجزیہ کار، حکمت اللہ حکمت نے سلام ٹائمز کو بتایا، "افغان منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل سے ہونے والا منافع دہشت گرد گروہوں اور منشیات کے گروہوں کو جا رہا ہے نہ کی کسانوں اور زمین مالکان کو جو اسے کاشت کرتے ہیں۔"

وزارتِ انسدادِ منشیات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "افغانستان کی منشیات کی مالی قیمت اندازاً 70 بلین ڈالر [4.8 ٹریلین] سالانہ ہے، جس کا 99 فیصد دہشت گرد گروہوں اور منشیات کے سمگلروں کو جاتا ہے۔"

حکمت نے کہا، "منشیات کی غیر قانونی نقل و حمل سے منافع کے بغیر، طالبان ایک مہینے کے لیے بھی جنگ لڑنے کے قابل نہیں ہوں گے۔"

انہوں نے کہا، "عوام کو منشیات کے خطرات اور منفی نتائج سے آگاہ کرنا اس مہلک مظہر سے لڑنے کا ایک طریقہ ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ عوامی آگاہی منشیات کی کاشت، پیداوار اور استعمال کو کم کرے گی۔

انہوں نے کہا، "اگر آپ منشیات کی پیداوار کم کر دیں، دہشت گردوں کے مرکزی مالی وسیلے کو سب سے زیادہ نقصان ہو گا۔ جب دہشت گردوں کے پاس مالی امداد کم ہوتی ہے، وہ لڑ نہیں سکتے۔"

منشیات، عدم استحکام اور عدم تحفظ

صوبہ ہلمند کے ایک رکنِ اسمبلی، عبدالجبار قہرمان نے کہا کہ منشیات کا عدم استحکام اور تحفظ کی کمی سے براہِ راست تعلق ہے۔

انہوں نے کہا، "افغانستان کے وہ حصے جہاں سب سے زیادہ منشیات کاشت اور تیار ہوتی ہیں وہی خطے ہیں جنہیں ناقص تحفظ کا بھی سامنا ہے۔ مثال کے طور پر، ہلمند سب سے زیادہ غیر محفوظ صوبوں میں سے ایک ہے۔ [ہلمند میں]، افغانستان کی تقریباً نصف سے منشیات کاشت اور تیار ہوتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہلمند میں طالبان کا سب سے بڑا مالی وسیلہ غیر قانونی منشیات کی تجارت ہے۔ دراصل، منشیات طالبان کی جنگی مشین کو فعال اور جوں کا تُوں رکھتی ہے۔"

قہرمان نے کہا، "پوست کی پیدوار کے سب سے زیادہ کھیت ایسے خطوں میں واقع ہیں جہاں طالبان کو برتری حاصل ہے۔"

انسدادِ منشیات کے ایک سابق وزیر جنرل خدائی داد نے سلام ٹائمز کو بتایا، "منشیات کی وباء نہ صرف افغانستان بلکہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ لہٰذا، یہ ضروری ہے کہ خطے کے تمام ممالک اور دنیا منشیات، سمگلروں اور دہشت گردوں کے مظہر سے لڑیں۔"

انہوں نے کہا، "منشیات کے خلاف جنگ کا ایک طریقہ عوامی شراکت داری، تعاون اور تحریک ہے۔ پورے افغانستان میں لوگوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ ایک دشمن جو موجودہ دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک ہے وہ ہے -- غیر قانونی منشیات۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج