| سلامتی

سرحد دوبارہ کھلنے پر مہمند کے باسیوں کی نظریں معاشی مواقع پر

از غلام دستگیر


افغان سرحد کے قریب ضلع مہمند میں ایک بازار 4 جولائی کو دکھایا گیا ہے۔ [غلام دستگیر]

افغان سرحد کے قریب ضلع مہمند میں ایک بازار 4 جولائی کو دکھایا گیا ہے۔ [غلام دستگیر]

غلانائی -- افغانستان کے ساتھ سرحد کے ساتھ کئی راستوں، جو کبھی عسکریت پسندی کی وجہ سے بند ہو گئے تھے، کا دوبارہ کھلنا مقامی باشندوں کے لیے امید لا رہا ہے۔

5 جولائی کو فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا کہ وہ بدھ (7 اگست) سے آغاز کرتے ہوئے ضلع مہمند میں گرسل سرحدی راستہ اور ضلع چترال میں اراندو راستہ کھول دے گا۔

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایف بی آر کے ایک اہلکار نے بتایا کہ سرحدی راستے کو کھولنا ایک ترجیح ہے، مگر ان تجارتی راستوں کو فعال کرنے میں وقت لگے گا۔

سوموار (5 اگست) کے روز انہوں نے کہا، "اس وقت، ہماری پوری توجہ ضلع خیبر میں طورخم کے سرحدی راستے کوچوبیس گھنٹے فعال بنانےپر مرکوز ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ نئے سرحدی مقامات کا کھلنا اس سرحدی راستے پر بوجھ کم کرنے میں مدد کرے گا۔

حکام نے گرسل سرحدی راستے کو ایک دہائی قبلعسکریت پسندوں کی وجہ سےبند کر دیا تھا۔

مقامی باشندوں کے ایک خام اندازے کے مطابق اس اقدام سے تحصیل خویزئی کی تقریباً 40 فیصد آبادی اور بیزئی کی 70 فیصد آبادی گھر بدر ہو گئی تھی۔

خویزئی تحصیل میں قریبی عطا بازار، جو کبھی 200 سے زائد دکانوں پر مشتمل ایک گہما گہمی والا مرکز ہوا کرتا تھا، تقریباً ویران ہو گیا۔

بیزئی تحصیل سے تعلق رکھنے والے مہمند قبیلے کے ایک 73 سالہ بزرگ شاہوال مہمند نے کہا، "یہ [عطا بازار] خویزئی [تحصیل] کا مرکزی بازار ہے، جو افغانستان سے آنے والی اشیاء کے لیے مشہور تھا۔ مگر سنہ 2009 میں سرحد کی بندش سے تجارتی سرگرمیاں بالکل رُک گئیں۔"

راز محمد، جو کہ عطا بازار میں کریانے کی ایک دکان چلاتے ہیں، کو امید ہے کہ گرسل سرحدی راستے کا کھلنا ناصرف خویزئی میں بلکہ پورے ضلع مہمند میں تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں مدد دے گا۔

انہوں نے کہا کہ دس برس پہلے، خویزئی میں کم از کم 50 بڑے گودام تھے، جو ہزاروں ملازمتیں فراہم کرتے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مقامی تاجر افغانستان سے (دیگر ممالک میں تیار کردہ) الیکٹرانک سامان اور ساتھ ہی ساتھ روزمرہ استعمال کی اشیاء جیسے کہ کھانا پکانے کا تیل، صابن، کپڑے دھونے کا پاؤڈر اور تازہ اور خشک میوہ جات درآمد کریں گے۔

راز محمد نے کہا، "وہ ملک کے دیگر حصوں میں لے جانے کے لیے ان اشیاء کو خویزئی میں موجود گوداموں میں اتروائیں گے۔ یہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھا۔"

تجارت کو سہارا دینا

معیشت دانوں اور کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ مزید سرحدی راستوں کا کھلنا پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی روابط کو مضبوط کر سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا ایوانِ صنعت و تجارت کے سابقہ چیئرمین زاہد شینواری نے کہا، "طورخم، گرسل، غلام خان اور چمن [بلوچستان] کے سرحدی راستوں کے دونوں اطراف ہمارے وہی ایک جیسے قبائلی ہیں۔"

شینواری نے کہا کہ سرحدی راستوں کا کھلنا سرحد کے دونوں جانب نقل و حرکت میں سہولت کاری کرے گا، جو دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کے لوگوں کے ساتھ رابطے کو بہتر بنائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایسا اقدام "دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو بہتر بنائے گا، جس کے ان کے سفارتی روابط پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔"

یونیورسٹی آف پشار کے شعبۂ مطالعات امن و تنازعات کے چیئرمین، سید حسین شہید سہروردی نے کہا کہ دو ممالک کے درمیان تجارتی روابط کو منقطع کرنے کے ہمیشہ ان کے اپنی اپنی معیشتوں پر بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں، پاکستان زیادہ نقصان اٹھاتا ہے کیونکہ یہ سہروردی کے مطابق، فروخت کنندہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان، جو کہ چاروں طرف سے خشکی میں گھرا ملک ہے، تجارت کے لیے پاکستان کا دست نگر ہے۔ مگر جب پاکستان مخصوص سرحدی مقامات کو بند کر دیتا ہے، افغانستان متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

"اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہے کہ افغانستان نے متبادل تجارتی راستے تلاش کر لیے ہیں؛ یہ واضح ہے کیونکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان کے ساتھ ہماری سالانہ تجارت 3 بلین ڈالر سے کم ہو کر 1.5 بلین ڈالر ہو گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے ساتھ مضبوط اقتصادی روابط جنگ زدہ ملک میں امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں اپنے کردار کو مضبوط کرنے میں پاکستان کی مدد کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اس سے پہلے، پاکستان کا افغانستان میں ایک دفاعی کردار تھا، جو کہ اب انتہائی مختصر ہو چکا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ تجارت کو فروغ دیتے ہوئے، "ہم افغانستان میں اپنے حصے کو بڑھا سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

12
8
نہیں
تبصرے 2
تبصرہ کی پالیسی Captcha
| 08-17-2019

news

جواب
| 08-13-2019

طورخم دافغانانو لپاره او زايي قبايلو لپاره بايد بغير دويزو كلاو شي .

جواب