http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/07/15/feature-01
| معاشرہ

تصاویر میں: کھیوڑہ کی نمک کی کان سیاحوں کے بڑی تعداد کو متوجہ کرتی ہے

سید عبدل باسط

7 جولائی کو کھیوڑہ کی کان کا اندرونی منظر دکھایا گیا ہے۔ [سید عبدل باسط]

کھیوڑہ کان کے اندر سیاح 7 جولائی کو مینارِ پاکستان کی ایک نقل کے ساتھ تصویر لے رہے ہیں۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کی چھت پر نمک کے کرسٹل بنے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے اندر ایک پل دکھایا گیا ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان میں ایک ٹرین چلانے والا مسافروں کو انتطار کر رہا ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے اندر ٹرین دکھائی گئی ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے اندر بادشاہی مسجد کی نقل دیکھی جا سکتی ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے اندر ایک غار دکھائی گئی ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے اندر تحائف کی دکان کے باہر بچے کھیل رہے ہیں۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے باہر ایک دکاندار ہمالیہ کے نمک کے لیمپ فروخت کر رہا ہے۔ [سید عبدل باسط]

7 جولائی کو کھیوڑہ کی نمک کی کان کے باہر بچے اونٹ کی سواری کر رہے ہیں۔ [سید عبدل باسط]

جہلم، پنجاب -- مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، صوبہ پنجاب کے ضلع کھیوڑہ میں نمک کی منفرد کان، کھیوڑہ کا دورہ کر رہی ہے۔

یہ کان گلابی ہمالیہ نمک پیدا کرنے کے لیے مشہور ہے اور پاکستان منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے مطابق، یہاں ہر سال تقریبا 270،000 سیاح آتے ہیں۔

یہ قدیم کانیں 1947 میں پاکستان کے کنٹرول میں آئی تھیں اور پی ایم ڈی سی نے 1947 میں ان کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

کھیوڑہ کی نمک کی کان جو کہ پنجاب کے ضلع جہلم میں واقع ہے، کا بیرونی منظر 7 جولائی کو لی گئی اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ [سید عبدل باسط]

یہ کان سفید، گلابی اور سرخ نمک پیدا کرتی ہے اور پی ایم ڈی سی کے مطابق یہ 98 فیصد خالص ہوتا ہے۔ اس نے 2018 میں 389،134 ٹن نمک پیدا کیا تھا۔

اس کان میں بجلی کی ایک ٹرین بھی ہے جو سیاحوں کو اٹھاتی ہے اور انہیں نیچے چاندنی چوک میں چھوڑتی ہے۔ اس کے اندر سیاح، دوسری چیزوں کے علاوہ بادشاہی مسجد اور مینارِ پاکستان کی نمک کی اینٹوں سے تیار کردہ نقول بھی ہیں۔

پاکستان میں امن کی بحالی کی وجہ سے، سیاح دہشت گردی کے خوف کے بغیر، زیادہ سے زیادہ جگہوں پر جا رہے ہیں۔

نمک کی کان میں ٹرین چلانے والے محمد قیوم خان نے کہا کہ وہ 1979 سے وہاں کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ملک بھر سے اور بیرونِ ملک سے سیاح ہر روز کان کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ ان دنوں تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے"۔

آنے والے ایک سیاح، 15 سالہ قاسم نے کہا کہ "ہم فیصل آباد سے آئے ہیں اور ہمارا یہ کھیوڑہ کا پہلا دورہ ہے"۔

اس نے کہا کہ "ہمیں مینارِ پاکستان کی نقل اور کان کی ٹھنڈک بہت پسند آئی۔ کان کا دورہ کرنے کے بعد ہم نے کان کے باہر اونٹ کی سواری کی اور اس سے بہت لطف اندوز ہوئے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha