| سلامتی

امن کی واپسی کے ساتھ، اقوامِ متحدہ نے عملہ کو اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت دے دی

اشفاق یوسفزئی


پاکستان میں معذور خواتین کو درپیش ہراساں کیے جانے کے مسئلہ پر ایک مزاکرہ کے بعد اقوامِ متحدہ کی خاتون ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فمزائل ملامبو-نگکوکا (دائیں) گزشتہ برس 7 دسمبر کو مہمانوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہی ہیں۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

پاکستان میں معذور خواتین کو درپیش ہراساں کیے جانے کے مسئلہ پر ایک مزاکرہ کے بعد اقوامِ متحدہ کی خاتون ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فمزائل ملامبو-نگکوکا (دائیں) گزشتہ برس 7 دسمبر کو مہمانوں کے ساتھ تصاویر بنوا رہی ہیں۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

اسلام آباد –امن کی واپسی کی ایک اور علامت میںاقوامِ متحدہ (UN) نے 20 جون کو اپنے عملہ کے لیے "بنا اہلِ خانہ" ڈیوٹی سٹیشن کے طور پر پاکستان کا درجہ ختم کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کے لیے پاکستان کی نمائندہ ملیحہ لودھی کو اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی سول سروس کمیشن (ICSC) کی جانب سے ایک خط کے مطابق، یہ فیصلہ اسلام آباد میں سلامتی کی صورتِ حال کا اندازہ لگانے والے انڈر-سیکریٹری جنرل برائے تحفظ و سلامتی پیٹر ڈرنن کی تجویز پر کیا گیا۔

ICSC چیئرمین لاربی جاکتا کی جانب سے خط میں کہا گیا، "کمیشن کی جانب سے تفویض شدہ اختیارات کے تحت، میں نے 14 جون 2019 سے اسلام آباد ڈیوٹی سٹیشن کا بنا اہلِ خانہ کا درجہ ختم کر دیا ہے۔"


اقوامِ متحدہ کے عہدیداران نے 20 مارچ کو اسلام آباد میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔ سیکیورٹی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے غیر ملکی ملازمین کو اپنے اہلِ خانہ کو پاکستان لانے کی اجازت دے رہی ہے۔ [اقوامِ متحدہ]

اقوامِ متحدہ کے عہدیداران نے 20 مارچ کو اسلام آباد میں ایک اجلاس میں شرکت کی۔ سیکیورٹی میں بہتری کا حوالہ دیتے ہوئے یہ تنظیم اقوامِ متحدہ کے غیر ملکی ملازمین کو اپنے اہلِ خانہ کو پاکستان لانے کی اجازت دے رہی ہے۔ [اقوامِ متحدہ]

اقوامِ متحدہ کے مطابق، بنا اہلِ خانہ ڈیوٹی سٹیشن کا مطلب ہے کہ "تحفظ اور سلامتی کی وجوہات کی بنا پر، تمام اہل زیرِ کفالت افراد کی ڈیوٹی سٹیشن پر چھ ماہ یا زائد تک موجودگی ممنوع ہے۔" اس درجہ میں تبدیلی کا مطلب ہے کہ اقوامِ متحدہ کا پاکستان میں تعینات عملہ اب مستقل طور پر اپنے اہلِ خانہ کو ساتھ لا سکتا ہے۔

لودھی نے ٹویٹر پر کہا، "یہ ایک مثبت پیش رفت ہے جس پر ہم سب نے مل کر کام کیا۔"

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹویٹر پر کہا، "اچھی خبر! سلامتی پر جامع نظرِ ثانی کی بنیاد پر، اقوامِ متحدہ نے اپنے بین الاقوامی عملہ کے لیے اسلام آباد کا درجہ فیملی سٹیشن کے طور پر بحال کر دیا ہے۔ میں اس فیصلہ کا پرجوش خیرمقدم کرتا ہوں۔"

انہوں نے ARY نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ درجہ میں یہ تبدیلی ایک خوش آئیند پیش رفت تھی کیوں کہ پاکستان نے ماضی میں دہشتگردی کی وجہ سے بین الاقوامی تنقید کا سامنا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کا یہ اقدام تمام ممالک کے ساتھ پاکستان کے لیے تجارت اور سفارتی تعلقات کی نئے مواقع کھولے گا۔

قریشی نے کہا، "اقوامِ متحدہ نے امن کے لیے ہماری کاوشوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس سے ہمارے ملک کو فائدہ ہو گا۔۔۔ کیوں کہ عالمی برادری نے پاکستان کو پرامن ملک کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔"

سابق ریاستی وزیر برائے داخلہ، شہریار آفریدی نے کہا، "جیسا کہ ہم نے پاکستان کو ایک پر امن ملک بنانے کے لیے متعدد کاوشیں کی ہیں، بالاخر دہشتگردی کے خلاف ہماری کاوشیں تسلیم کر لی گئیں۔ دہشتگردی کا خاتمہ ہمارے ہی مفاد میں ہے۔"

آفریدی نے کہا کہ پاکستان میں سیکیورٹی صورتِ حال بہتر ہو گئی ہے اور آسودہ حالی پیدا کرنے کے لیے مزید کاوشیں جاری ہیں۔

بہتر سلامتی

اب اقوامِ متحدہ کے پاکستان میں تعینات غیرملکی ملازمین اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے لیے متواتر اپنے آبائی ممالک کو سفر کرنے کے بجائے اس ملک میں اپنے ان کے ساتھ رہ کر کام کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے ساتھ کام کرنے والے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی شرط پر کہا، "میں اسلام آباد میں کام کر رہا ہوں، لیکن میرے اہلِ خانہ امریکہ میں ہیں۔ اب یہاں بہتر سلامتی کی وجہ سے ہمیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے کی اجازت ہے۔"

انہوں نے کہا، "میں نے اپنے اہلِ خانہ سے اسلام آباد منتقل ہونے کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔"

پاکستان ہی میں اقوامِ متحدہ کے ایک اور ملازم نے بھی اپنی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا، "میں اکثر اپنے والدین، بیوی اور بچوں کی وجہ سے گھر سے دور رہنے پر کمی محسوس کرتا ہوں، لیکن اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہنے کی اجازت سے مجھے مدد ملی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اب میں جلد از جلد اپنے اہلِ خانہ کو یہاں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم نے دیکھا ہے کہ یہاں سلامتی میں بہت پیش رفت ہوئی ہے، لہٰذا ہم ہر ایک شہر کا سفر کر سکتے ہیں۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کا کام ہماری سرگرمیوں میں بہتری کا باعث ہوا ہے۔"

حوصلہ افزا سرمایہ کاری

یہ اقدام غیرملکی سرمایہ کاری اور کاروباری شعبہ کے لیے ایک مثبت علامت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک کاروباری، عقیل کریم دھیدی نے دنیا ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دنیا بھر میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان سرمایہ کاروں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔

انہوں نے کہا، "پاکستانی کاروباری افراد کو دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے مزید مواقع ملیں گے۔ اس سے ایک پر امن ملک کے طور پر پاکستان کا تصور بہتر کرنے میں نہایت مدد ملے گی۔"

پشاور سے تعلق رکھنے والے سینیئر سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے ایک انٹرویو میں کہا، "حال ہی میں پاکستان نےغیر ملکی سیاحوں کی کشش کے لیےمتعد منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "اقوامِ متحدہ کا یہ فیصلہ حکومت کے منصوبے کے نفاذ کے لیے نہایت مددگار ہو گا کیوں کہ اب سیّاحوں کو سلامتی کا ایک احساس ہو گا۔"

شاہ نے کہا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشتگردوں کی پکڑ میں رہا ہے، لیکن صورتِ حال بہتری کی علامتیں دکھا رہی ہے، جو کہ ملک کے عوام کے لیے اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے پاکستان کے درجہ کی تبدیلی دہشتگردی کی بیخ کنی میں ملک کی کامیابی کا اعتراف ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

0
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha