http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/06/17/feature-01
| سلامتی

تیل کے ٹینکروں پر مبینہ ایرانی حملے عالمی تجارت کے لیے 'واضح خطرہ'

اے ایف پی اور پاکستان فارورڈ

ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی طرف سے چلائی جانے والی ایک گشتی کشتی کو خلیج عمان میں 13 جون کو تباہ ہونے والے ٹینکر ایم ٹی ایم ٹی کوکوکا کریجیئس سے ایک نہ پھٹنے والی بارودی سرنگ ہٹاتے ہوئے دیکھا اور ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ]سینٹ کام[

دو تباہ شدہ ٹینکر اتوار (16 جون) کو متحدہ عرب امارات کے ساحل پر دو مقامات پر بحفاظت پہنچ گئے، ان پر گزشتہ جمعرات کو اسٹریجک آبنائے ہرمز کے قریب حملہ کیا گیا تھا۔

امریکی فوج نے جمعہ کو ایک فوٹیج جاری کی جس کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس میں ایرانی گشتی کشتی کو ایک جہاز سے "غیر دھماکہ شدہ بارودی سرنگ" ہٹاتے ہوئے دیکھایا گیا ہے۔

جاپان کے ملکیتی کوکوکا کریجیئس 13 جون کو انتہائی آتش گیر میتھنل کو جلیج عمان سے لے کر جا رہا تھا جب اس پر ناروے کے ملکیتی فرنٹ آلٹایر کے ساتھ نشانہ بنایا گیا -- یہ اس اسٹریجک شپنگ لین میں ایک ماہ میں ہونے والا دوسرا حملہ ہے۔

ناروے کے ملکیتی فرنٹ آلٹایر ٹینکر پر 13 جون کو خلیج عمان میں کیے جانے والے حملے کے بعد سے دھواں اٹھ رہا ہے۔ ]آئی ایس این اے[

ایرانی فوجی 30 اپریل کو آبنائے ہرمز میں "قومی خلیجِ فارس دن" میں حصہ لے رہے ہیں۔ ]عطا کنارا/ اے ایف پی[

12 مئی کو متحدہ عرب امارات کے ساحل پر چار ٹینکروں کو نقصان پہنچایا گیا تھا اور اس حملے کا الزام بھی ایران پر ہی لگایا گیا ہے۔

امریکہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پیمپیو نے عہد کیا کہ امریکہ آبنائے کو کھلا رکھنا یقینی بنائے گا۔

انہوں نے کہا کہ "آپ کو اس بات پر یقین کرنا چاہیے کہ ہم آبنائے سے نقل و حمل کی آزادی کو یقینی بنائیں گے۔ ایرانیوں کو یہ بات صاف طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ ہم ایسے اقدامات اٹھانا جاری رکھیں گے کو ایران کو اس طرح کے رویے کو اپنانے سے روکیں رکھیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہاں کیا ہوا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرف کمرشل شپنگ اور نقل و حمل کی آزادی پر حملے تھے جن کا صاف مقصد اس آبنائے سے راستہ فراہم کرنے سے انکار کرنا ہے"۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن پر ایران "کا نام ہر جگہ لکھا ہوا" ہے۔

برطانیہ کے خارجہ سیکریٹری جرمی ہنٹ نے نتیجہ اخذ کیا کہ ذرمہ داری "تقریبا یقینی طور پر" ایران پر ہے۔

ہنٹ نے ایک بیان میں کہا کہ "یہ تازہ ترین حملے ایرانی رویے کو غیر مستحکم کرنے کے ایک طریقے پر تعمیر کیے گئے ہیں اور علاقے کے لیے سنگین خطرے کا باعث ہیں"۔

دفترِ خارجہ کے بیان نےجمعرات کو ہونے والے حملوں کا الزام "سپاہِ انقلابِ اسلامی" پر لگایا ہے۔

دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ "کوئی اور ملک یا غیر سرکاری کردار ممکنہ طور پر ذمہ دار نہیں ہو سکتا"۔

"دیکھتے ہیں کہ ایران حزب اللہ کے ذریعے لبنان میں اپنی غیر مستحکامانہ کوششوں کو، یمن میں جہاں وہ سعودی عرب اور خلیج پر، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، میزائل پھینک رہا ہے، کو روکتا ہے۔ یہ طویل المعیاد حل ہے"۔

ایرانی حکومت نے افغانستان پاکستان میں بھی ضرر رساں کاروائیاں کرتی ہے۔

'ناقابلِ تردید' ثبوت

کچھ اتحادیوں کا کہنا ہے کہ انہیں کسی نتیجہ پر پہنچنے سے پہلے مزید ثبوت کی ضرورت ہے۔

پومپیو نے کہا کہ "میں تسلیم کرتا ہوں کہ ایسے ملک ہیں جو چاہتے ہیں کہ یہ نظروں سے اوجھل ہو جائے"۔

انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ "جیسے جیسے ہم حقائق کا نمونہ بنائیں گے، دنیا بھر میں ملک نہ صرف بنیادی حقائق کو تسلیم کر لیں ہے، جو کہ میرے خیال میں ناقابِل تَردید ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ جائیں گے کہ یہ دنیا کے لیے ایک اہم مشن ہے"۔

امریکہ کی ہاوس انٹیلیجنس کمیٹی کے چیرمین اور ٹرمپ کے ایک بڑے نقاد آدم شیف نے کہا کہ ایرانی کے ملوث ہونے کا ثبوت "بہت ٹھوس اور ناقابلِ تردید" ہے۔

انہوں نے کہا کہ "درحقیقت یہ ایران کی طرف سے اول درجے کی غلطی تھی، بارودی سرنگ کو جہاز پر لگانا"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ پھٹی نہیں اور انہیں اسے قبضے میں کرنے کے لیے دوبارہ جانا پڑا۔ میں تصور کر سکتا ہوں کہ اس ناکام آپریشن پر کچھ ایرانی سر ہل رہے ہیں"۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے غیر جانب دارانہ تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکواٹر میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ "سچ کو جاننا بہت اہم ہے اور ذمہ داریوں کو واضح کرنا"۔

ایرانی حکومت نے ان الزامات کو "بے بنیاد" قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں "کسی حقیقی یا واقعاتی شہادت کے ٹکڑے" کے بغیر بنایا گیا ہے۔

تہران نے پیر (17 جون) کو اعلان کیا کہ وہ یورینیم کے ذخیرے کی حد کو پار کرے گا جو کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ اس کے نیوکلیائی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

تیل کا چوک پوائنٹ

گزشتہ ہفتے کا حملہ آبنائے ہرمز کے جنوب مشرق میں ہوا جو کہ توانائی سے بھرپور مشرقِ وسطی کے ممالک کو عالمی منڈیوں سے ملانے والا انتہائی اہم راستہ ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق، دنیا کا تقریبا 15 فیصد تیل اس چوک پوائنٹ سے گزرتا ہے۔

ایرانی حکومت نے ماضی میں کئی بار متنبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے کو امریکہ کی طرف سے کسی حملے کی صورت میں نسبتا کم تکنیکی اور زیادہ اثر والے جوابی قدم کے طور پر بلاک کر دے گا۔

ایسا کرنے سے خلیج فارس اور خلیج عمان جو کہ بحیرہ ہند اور عالمی برآمدی راستوں تک جاتی ہے، کے درمیان آئل ٹینکروں کی ٹریفک متاثر ہو گی۔

ایران کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باغیری نے نیم سرکاری اثناء کو اپریل میں بتایا تھا کہ "اگر دشمنوں کی جارحیت میں اضافہ ہوا تو ہم ایسا کرنے کے قابل ہوں گے"۔

بلاک کرنے سے تیل کی عالمی فراہمی شدید متاثر ہو گی اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ردعمل کے طور پر تیل کی قمیتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ردعمل کے لیے تیار

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 13 جون کو ایک بیان میں کہا کہ "امریکہ اور علاقے میں ہمارے شراکت دار اپنے آپ کو اور ہمارے مفادات کا دفاع کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں گے"۔

اس میں کہا گیا کہ مبینہ ایرانی حملے "نقل و حمل کی بین الاقوامی آزادی اور تجارت کی آزادی کے لیے واضح خطرہ" ہیں۔

سینٹ کام نے مزید کہا کہ "امریکہ اور بین الاقوامی برادری اپنے مفادات کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہے جس میں نقل و حمل کی آزادی بھی شامل ہے"۔

امریکہ کی فوج نے گزشتہ ماہ علاقے میں ایک جنگی جہاز تعینات کیا ہے جس پر گاڑیاں، جن میں سے کچھ پانی اور زمین دونوں پر چلتی ہیں اور پیٹریٹ میزائل کی بیٹری بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے اس نے ایران کی طرف سے "ناگزیر" خطرات کے جواب میں علاقے میں ہوائی جہاز کیریئر کو بھیجا تھا"۔

گزشتہ ماہ کے آخیر میں امریکہ نے مشرقِ وسطی میں 1,500 اضافی فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا اور پینٹاگان نے اس کی وجہ "اعلی سطح" کی ایرانی قیادت کی طرف سے امریکہ افواج کے لیے "مسلسل موجود خطرات" کو قرار دیا تھا۔

امریکی موجودگی کو جاسوسی کے جہازوں اور بارہ جنگی جیٹوں کے ایک اسکواڈ سے مزید استحکام ملا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
9
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha