|

سلامتی

ایران کی زینبیون برگیڈ نے پاکستان میں بھرتی تیز کر دی

ایران کی آئی آر جی سی نے اپنی زینبیون برگیڈ کے لیے گزشتہ چھہ ماہ میں 1,600 زیادہ پاکستانی شیعہ نوجوانوں کو بھرتی کیا ہے تاکہ وہ ایرانی مفادات کے لیے شام میں جنگ لڑیں۔

عبدل غنی کاکڑ


ایک تصویر جسے ایران نے پروپیگنڈا فلم "لورز سٹینڈ ڈائنگ"، جو پاکستانی شہریوں کو زینبیون برگیڈ میں بھرتی کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، میں استعمال کیا گیا۔ ]فائل[

ایک تصویر جسے ایران نے پروپیگنڈا فلم "لورز سٹینڈ ڈائنگ"، جو پاکستانی شہریوں کو زینبیون برگیڈ میں بھرتی کرنے کے لیے بنائی گئی ہے، میں استعمال کیا گیا۔ ]فائل[

کوئٹہ -- پاکستان کے انٹیلیجنس حکام کے مطابق، ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے شام میں ایرانی مفادات کے لیے جنگ کرنے کے لیے پاکستانی شیعہ کو کرائے کے سپاہیوں کے طور پر بھرتی کرنا جاری رکھا ہوا ہے۔

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے انٹیلیجنس کے سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ آئی آر جی سی کی زینبیون برگیڈ نے 1600 سے زیادہ نئے جنگجوؤں (جو زیادہ تر شیعہ مدرسوں سے تعلق رکھتے ہیں) کو، گزشتہ چھہ ماہ کے دوران پاکستان سے بھرتی کیا ہے۔

اہلکار نے کہا کہ "پاکستان کے سیکورٹی ادارے کے سامنے پیش کی جانے والی ایک حالیہ رپورٹ میں، انسدادِ عسکریت پسندی کے حکام نے آشکار کیا کہ گزشتہ چھہ ماہ میں زینبیوں برگیڈ کی طرف سے پاکستان کے اندر بھرتی کیے جانے والے جنگجوؤں کی اصل تعداد، موجود اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زینبیون برگیڈ کے زیادہ تر نئے بھرتی کیے جانے والے جنگجوؤں کو پاکستان سے ایران بہت کم استعمال ہونے والے اور غیر قانونی راستوں سے بھیجا گیا ہے۔ دریں اثنا، جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد زائرین کے بھیس میں بھی ایران گئی ہے"۔

تقریبا 4,000 شیعہ زائرین نومبر 2016 سے جون 2017 کے درمیان ایران میں داخل ہوئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ یہ بات پاکستانی انٹیلیجنس کی ستمبر 2017 کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

عملی قدم

اہلکار نے کہا کہ وفاقی حکومت کے پاس جمع کروائی جانے والی حالیہ رپورٹ میں مشورہ دیا گیا ہے کہ پاکستان کو زینبیون برگیڈ کی عسکری اور امن مخالف سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے فوری طور پر ایک ایکشن پلان بنانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس ٹھوس ثبوت موجود ہے کہ ایران اپنی پراکسیوں کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے مگر اس بات پر یقین رکھیں کہ وہ اپنے مذموم ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے زینبیون برگیڈ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی لڑاکوں کو شام میں مقاماتِ مقدسہ کے رکھوالوں کا نام دیا ہے اور وہ زیادہ تر شام کے ان علاقوں میں جنگ میں مصروف ہیں جہاں آئی آر جی سی جنگ میں شام کے صدر بشیر الاسد کی فوج کی حمایت کر رہی ہے"۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے سینئر اہلکار جاوید ناصر نے کہا کہ "پاکستان میں شیعہ افراد کی کافی زیادہ آبادی ہے اور ہمارے لیے یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ ایران یہاں پر شیعہ برادری میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل کو استعمال کر رہا ہے۔ ایسے شیعہ علماء کی ایک بڑی تعداد، جنہوں نے ایران کے مدرسوں سے گریجویشن کی ہے پہلے ہی پاکستان میں ایران کے اس مکروہ ایجنڈا کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

ناصر نے کہا کہ "آئی آر جی سی سے جڑی ہوئی زینبیون برگیڈ نہ صرف ایران کے لیے بھرتی کرنے میں ملوث ہے بلکہ وہ متشدد ایرانی انقلاب کو تہران سے پاکستان درآمد کرنے کی سازش بھی کر رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان نہ صرف پاکستان میں ایران کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے دوسرے قدم اٹھا رہا ہے۔ ہماری سیکورٹی کی ایجنسیاں ان ثقافتی مراکز کا بھی قریبی جائزہ لے رہی ہیں جو کہ تقریبا پاکستان کے ہر بڑے شہر میں کام کر رہے ہیں"۔

ایران کے بھرتی کاروں پر کریک ڈاون

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے وزارتِ دفاع کے اہلکار عامر موسی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں، پاکستان کی سیکورٹی ایجنسیوں نے مختلف چھاپوں میں کم از کم 15 ملزمان کو، زینبیون برگیڈ کے ساتھ ان کے مبینہ تعلقات پر کوئٹہ اور تافتان، جو کہ بلوچستان کا ایک سرحدی شہر ہے، سے گرفتار کیا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اپنے علاقے میں غیر ملکی اثر و رسوخ کو ناکام بنانے کے لیے تمام کوششیں کی جا رہی ہیں اور بلوچستان کے تمام سرحدی علاقوں، خصوصی طور پر ایسے علاقے جو ایران اور افغانستان کی سرحد کے ساتھ لگتے ہیں، میں سخت نگرانی کی جا رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "سیکورٹی کے ادارے ملک میں زینبیون برگیڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے قریبی طور پر کام کر رہے ہیں اور بھرتی کے بہت سے اہم مراکز کو بھی گزشتہ دو تین سالوں میں ختم کر دیا گیا ہے"۔

موسی نے کہا کہ "ہمارے پاس ایسی خبریں ہیں کہ زینبیون کے کچھ کارندے مذہبی علماء کے بہروپ میں کام کر رہے ہیں اور انہوں نے ماضی میں پاکستانی کے چند ایسے نمایاں شیعہ علماء کے ساتھ بھی کام کیا ہے جنہوں نے ایران کے قم صوبہ کے مدرسوں سے گریجویشن کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "زینبیون برگیڈ کے ملزمان زیادہ تر پاراچنار، کرم قبائلی ڈسٹرکٹ، کوئٹہ، سیالکوٹ، پشاور اور ملک کے چند دوسرے علاقوں سے جنگجوؤں کو بھرتی کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "زیرِ تفتیش ملزمان نے زینبیون برگیڈ کے نیٹ ورک کے بارے میں اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ معلومات کی بنیاد پر، سیکورٹی کی ایجنسیاں اس گروہ کی حکومت مخالف سرگرمیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہیں"۔

انسانوں کی اسمگلنگ اور موت کی دھمکیاں

کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے سینئر اہلکار جو انسانی اسمگلنگ کے انسداد کے ڈیسک پر تعینات ہیں، نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ایرانی کی پراکسی ملیشیا ہونے کے ناطے، زینبیون برگیڈ نے پاکستان سے جنگجوؤں کی بھرتی کے لیے بہت سے مختلف طریقوں کو استعمال کیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے کڑی نگرانی کے باعث، زینبیون برگیڈ کے بھرتی کار انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایجنٹوں کا روپ دھارے ہوئے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بے روزگاری کی بلند شرح کے باعث، بے روزگار انسانی اسمگلنگ کا شکار ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زینبیون برگیڈ کے بھرتی کار اس صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس ایسی خبریں موجود ہیں کہ زینبیون برگیڈ نے کوئٹہ، پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے شیعہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد کو غیر قانونی راستوں سے ایران منتقل کیا ہے۔ ایران میں آئی آر جی سی نے انہیں اپنے قبضے میں کر لیا"۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "تفتیش کے دوران، ہمیں علم ہوا کہ آئی آر جی سی نے تہران اور ملک کے کچہ دوسرے حصوں میں پاکستانی شیعہ مہاجرین کے لیے خصوصی حراستی مراکز بنائے ہیں جہاں زینبیون برگیڈ کے علماء ان مہاجرین کی برین واشنگ کرتے ہیں تاکہ وہ شام میں مقدس مزاروں کے محافظوں کے طور پر زینبیون برگیڈ میں شامل ہو جائیں"۔

اہلکار نے کہا کہ آئی آر جی سی نے ایران میں ان شیعہ قیدیوں کو برین واشنگ کے عمل کے دوران سزائے موت کی دھمکیاں دی ہیں اور انہیں بتایا گیا ہے کہ وہ زینبیون برگیڈ میں شامل ہو کر اس سے بچ سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہلاک کیے جانے کے خوف کے باعث، شیعہ قیدیوں میں سے بہت سے زینبیون کا حصہ بن گئے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 155

32 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 10-20-2018

سب بکواس ہے

جواب
Reply comment | 10-20-2018

Ya sub bakwaas ha sir ji agr koi gaya bhe ha too janay to wahan mar jay gi a hum q pareshan hon pakistan k khelaf koi kam ya koi noksan kiya ha too batao mojhay bake ya sub bakwaas ha \n

جواب
Comment bubble | 10-18-2018

ایران کے شہر سے پاکستان کو بچانا ہو گا شیعہ ہمارے مسلمان بھائی ہیں مگر ایران پاکستان مخالف تھا اور ہمیشہ رہے گا

جواب
Reply comment | 10-19-2018

G \nHan

جواب
Comment bubble | 10-18-2018

اگر یہ حقیقت پر مبنی ہے تو میں اس پوسٹ کے حق میں ہوں اور حکومت وقت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ جو زائرین پاکستان سے جاتے ہیں انہیں ویزے کی مقرر مدت تک واپسی کا بی کوئی بندوبست کرنا چاہئے، \nاور اگر یہ پوسٹ مہذ مخالفت ہے تو میں اس کو اہمیت نہیں دیتا •

جواب
Comment bubble | 10-17-2018

Jhoot he ye

جواب
Comment bubble | 10-17-2018

زائرین کربلا کے راستوں میں روڑے اٹکانے کے لیے یہ سفید جھوٹ لکھا گیا ہے .... کالم لکھنے والے کو شاید پتہ ہی نہیں کہ جو زائرین ویزہ لیتے ہیں اس کا سالار ایک قسم نامہ بھی جمع کراتا ہے کہ واپسی پر آہ کر اپنے پاسپورٹ کی ایگزٹ کاپی کے ساتھ جمع کرائیں گے .. اگر کسی نے جمع نہیں کرائی تو اس پر ایف آئی آر کاٹ لی جاتی ہے اور بلیک لسٹ بھی کیا جاتا ہے ... گذشتہ پانچ سالوں میں ایک سالار پر بھی ایف آئی آر نہیں کٹی اور بلیک لسٹ نہیں کیا گیا پھر کوئی کیسے جائے گا؟ جبکہ بغیر گروپ کے ویزا بھی نہیں ملتا ... ؟ اللہ کو مانو کسی کے تعصب اور دشمنی میں حد سے تجاوز نا کرو... اللہ دیکھ رہا ہے ...

جواب
Comment bubble | 10-16-2018

بکواس

جواب
Comment bubble | 10-15-2018

لکهنا سي معلوم هي تعصب اگر پاکستان کا خيال هي تو سب پر لکهو جو بحرين اور يمن مين هي جو سعوديون ني بنا رکهي هين وه نظر نهين آتي

جواب
Comment bubble | 10-15-2018

جو وقت اس وقت شام پر پڑا ہے یہ وقت پاکستان پر بھی آنا ہے لہزاہمیں اپنے ملک کا دفاع پہلے کرنا ہے کیوں کے مولا علی علیہ سلام نے فرمایا ہے* \nآنے ولاوقت جانے ولے وقت سے زادہ خطرناکہو گا اس لیے امن کے دن میں جنگ کی تیاری کرو \nجو حلات ہمارے ملک کی ہے تو اللہ بہترکرے سب جانتے ہیں اس ملک میں کھچہ بھی ہوسکتا ہے جب یہں ملک کے فوجی مہفوظ نہیں ہے توہم کہاں محفوظ ہونگے یار خدا کے لیے پکستان میں رہنے والے شیعہ کے سات ظلم بند کرو کیوں کے دروازہ ہمارہ ہی کھٹ کھٹاوگے اگر یقین نہی ہے تو تارخ پھڑلوں \n \nخدا اس ملک پکستان کی حفظت فرماے \nوسلام بندہ خدا

جواب
Comment bubble | 10-15-2018

Ye sab fazool bakwas hy dehshtgardon ky khilaf jihaad Allah Rasool ka hukm hy jo hr musalmn pr fraz hy zarori nhn ky jihad islm k freeza hy log iran ky hi kehny pr jihaad kren or qesy bhi jihadd krny men chupny ki kiya zaroort hy ye hr sachy musalmn k deeni or sharww freeza hy

جواب
Comment bubble | 10-15-2018

Ye siraf Aik Safeed jhoot h aur khuch nh kya inko pakistan mn sargaram Kaladam Lashkary Jhangvii Nazr nh ati Khuch sharm hoti Khuch Hayya hoti h wo ap mn nh h

جواب
Reply comment | 10-15-2018

اچھا جواب

جواب
Comment bubble | 10-15-2018

Iran waqya hi bashful asad ki hamayat kar raha ha na k wahan k mazloom logon ki...

جواب
Comment bubble | 10-14-2018

Jo bhi pakistan ki taraf kafir ghalt nzae se daikhy us harami ko naa do

جواب
Comment bubble | 10-14-2018

مقدسات کا دفاع کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے اور یہ جھوٹ ہے کہ حرم کو حوثیوں سے خطرہ ہے لیکن مزاریات کو داعش دے خطرہ ضرور ہے

جواب
Comment bubble | 10-12-2018

ایران اور شیعہ مخالف پرپیگنڈا ۔ سعودی عرب اگر یمن میں حوثی باغیوں کو مارنے کے لیے بندے بھرتی کرے تو جائز ایران داعش کے مقابلے کے لیے بندے بیجھے تو دشہتگردی " واہ رے تیرا قلم" ایران سے اتنا خوف یا سعودیہ کی خوشامد؟ واللّہ علم

جواب
Comment bubble | 10-11-2018

پوری طرح سے جانبدارنہ، یہ درست نہیں ہے۔ \n

جواب
Comment bubble | 10-11-2018

آپ نے نہایت جامع رپورٹ شائع کی ہے۔ بلاشبہ پاکستان پہلے ہی ایسے گروہوں کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہے اور ہمیں خدشہ ہے کہ مستقبل میں یہ داخلی صورتِ حال کو ابتر کر سکتے ہیں۔ یہ ناگزیر ہے کہ ہر قسم کے عسکریت پسند کا خاتمہ کر دیا جائے۔ \n

جواب
Comment bubble | 10-11-2018

گمراہ کن \n

جواب
Comment bubble | 10-10-2018

کیا پاکستان میں ای ایس ای کو اس بات کا علم نہی کہ ھمارے غریب عوام کے ساتھ کیا هورہا ھے اور اگر علم ھے تو اس پر آکشن لینا چاہیے \n \n \n

جواب
Comment bubble | 10-10-2018

حکومت پاکستان سعودی ریالوں کی وجہ سے اندھی ہو چکی ہے.یمن میں انسانی حقوق کے خلاف ووٹ دینے کے بعد اب شیعہ کمیونٹی اور زائرین کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے.

جواب
Comment bubble | 10-09-2018

ہا ہا ہا ہا ہا ہا ہا \n

جواب
Comment bubble | 10-08-2018

Iran sham or Iraq ma Sunni musalmano ko shaheef kr Raha ha.lakan Iran bhi sakoon sa nahin Raha ga.

جواب
Comment bubble | 10-08-2018

Sab jhoot ha agr wahan hamara muqadas muqamat ko koi b khatra howa to 1 b shia pakistan ma nhe raha ga rehbar k fitwa par sab jain ga. Yeh sab is lia keh raha ho k is page abi tak ham na koi ache khabar nhe suni har bar jhoot aur mangarat batain likhe howi hoti hain. Wahan jana larna aur shahees hona hr koi apan lia saadat ka baais samjha ga.

جواب
Comment bubble | 10-07-2018

Jo b PAKISTAN ko bori nazar se dykn us ko latka du .

جواب
Comment bubble | 10-07-2018

بہت زبردست مضمون ہے پاکستان کا امن خراب کرنے میں ایران اور سعودی عرب پیش پیش رہے ہیں

جواب
Reply comment | 10-07-2018

ایران کے فعالیت پسندوں پر پاکستان میں پابندی ہونی چاہیئے \n

جواب
Comment bubble | 10-07-2018

یہ مکمل طور پر جھوٹا پروپیگنڈا ہے۔

جواب
Comment bubble | 10-05-2018

یہ سب جعلی ہے۔ \nکیا تم وہابی بھول گئے کہ تم نے 80 کی دہائی میں افغانستان میں روس کے خلاف کیا کیا ۔۔۔ نام نہاد جہاد \nیہ تمہارے منہ پر تمانچہ ہے

جواب
Reply comment | 10-15-2018

یہ بالکل درست ہے۔ ایران مسلم برادری کا دشمن رہے گا۔ \n

جواب
Reply comment | 10-18-2018

Firqa perrasti ko pehlanay ki koshish. .sirf propegenda.

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج