|

سلامتی

چیدہ طالبان جنگجو ایران میں خصوصی فورسز سے غیر معمولی تربیت حاصل کر رہے ہیں

ایران کی خصوصی فورسز، تہران کے حکم کو پورا کرنے کے جواب میں، طالبان کے جنگجوؤں میں سے "سب سے زیادہ ذہین اور قابل" کے لیے ایک چھہ ماہ کا تربیتی پروگرام فراہم کر رہی ہیں۔

از سلیمان


طالبان کے چیدہ جنگجو نامعلوم مقام پر تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ]طالبان کے ترجمان ضیاء اللہ مجاہد/ ٹوئٹر[

طالبان کے چیدہ جنگجو نامعلوم مقام پر تصویر کھنچوا رہے ہیں۔ ]طالبان کے ترجمان ضیاء اللہ مجاہد/ ٹوئٹر[

کابل -- طالبان اور افغان حکام کے مطابق، سینکڑوں طالبان جنگجو ایران کے عسکری کیمپوں میں تربیت حاصل کر رہے ہیں جس کے دو بڑے مقاصد ہیں: افغان حکومت کو کمزور بنانا اور افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف جنگ کو تیز کرنا۔

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے، ایران کے مفادات کے لیے کام کرنے والے عسکری گروہوں کو تربیت، مالی اور لاجسٹک امداد فراہم کر کے، طویل عرصے سے افغان اور علاقائی معاملات میں مداخلت کی ہے۔

لندن کے دی ٹائمز نے 2 جولائی کو خبر دی کہ تاہم، موجودہ عسکری تربیت کی وسعت "غیر معمولی" ہے۔

پاکستان میں اپنے کوئٹہ شوری ہیڈکواٹرز میں طالبان کے لیے 38 سالہ نامعلوم سیاسی مشیر کے مطابق، طالبان اور ایران کے درمیان عسکریت پسندوں کو چھہ ماہ کی جنگی تربیت کے لیے ایران بھیجنے کے مذاکرات موسمِ بہار میں شروع ہوئے تھے۔

سنگین ڈسٹرکٹ، ہلمند صوبہ سے تعلق رکھنے والے سابقہ بم بنانے والے نے دی ٹائمز کو بتایا کہ ایران نے کہا کہ "ہمیں افغانستان میں امریکی اور نیٹو کے مفادات پر حملہ کرنے پر زیادہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے"۔

مئی میں، طالبان کے "ذہین ترین اور قابل ترین نوجوان جنگجوؤں" نے ایران کے عسکری تربیتی کیمپوں میں جانا شروع کیا۔

ایک 25 سالہ طالبان کمانڈر جو کہ نوید کی عرفیت سے جانا جاتا ہے نے دی ٹائمز کو کرمان شاہ صوبہ، ایران کے ایک کیمپ میں اپنے تجربات کے بارے میں بتایا۔

اس نے افغانستان میں ایک پناہ گاہ سے جہاں وہ عید الفطر کی چھٹیوں پر آیا ہوا تھا، کہا کہ "وہاں پر ہم تقریبا 500 سے 600 افراد ہیں جو تربیت کی مختلف سطحوں پر ہے۔ ہم حربوں، قائدانہ صلاحیتوں، بھرتی سے لے کر بم بنانے اور ہتھیاروں کی تربیت حاصل کرتے ہیں"۔

اس نے کہا کہ "تمام استاد ایران کی خصوصی فورسز سے تعلق رکھتے ہیں تاہم ان میں سے بہت سے دوسری زبان کے طور پر پشتو بولنے کے قابل ہیں"۔

طالبان کی امداد کی تاریخ

کابل سے تعلق رکھنے والے فوجی تجزیہ کار محمد اگل مجاہد نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایران کافی عرصے سے طالبان کے عسکریت پسندوں کی تربیت کر رہا ہے

انہوں نے کہا کہ "وہ انہیں مالی اور عسکری سہولیات بھی فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی ان کے بہت سے راہنماؤں اور کمانڈروں کو پناہ گاہیں اور رہنے کے اچھے حالات بھی مہیا کرتا ہے"۔

مجاہد نے کہا کہ "اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایران کرمان شاہ، زاہدان اور ملک کے کچھ دوسرے علاقوں میں طالبان کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں، ایران کے جنرل اس سے پہلے ہلمند صوبہ آئے تھے تاکہ طالبان کو 'ریڈ یونٹ' کے بارے میں ہدایات دے سکیں"۔

مجاہد نے کہا کہ "ایران کے فوجی حکام افغانستان میں طالبان کو ہتھیار اور اسلحہ بھیجتے ہیں۔ تاہم طالبان کو اپنی عسکری امداد کو آشکار ہونے سے بچانے کے لیے وہ یہ ہتھیار دوسرے ممالک سے خریدتے ہیں اور پھر انہیں طالبان کو دیتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "افغان حکومت کے پاس طالبان سے ایران کے تعلقات اور اس کی امداد کے بارے میں بہت سی دستاویزات ہیں"۔

علاقے کے لیے خطرہ بننے والی دہشت گردی کے لیے ایرانی حکومت کی امداد

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے نائب ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے کہا کہ "ہمسایہ ممالک کے لیے ہماری پالیسی بالکل صاف شفاف ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ہمارے علاقے کو ہمارے ہمسایہ ممالک کے مفادات کے خلاف استعمال نہیں کیا جا رہا۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک کی سرزمین کو بھی ہمارے خلاف استعمال نہیں کیا جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہسمایہ ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات حکومتوں کی سطح پر ہونے چاہیں"۔

مرتضوی نے کہا کہ "دہشت گرد گروہوں سے کسی قسم کا تعلق یا امداد ۔۔۔علاقے کی سیکورٹی، امن اور استحکام میں مددگار نہیں ہے۔ اس کے برعکس، یہ سارے علاقے کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "دہشت گردی کی کوئی سرحد یا جفرافیہ نہیں ہوتا اور یہ سارے ممالک کے لیے خطرہ ہے۔ اس رجحان سے لڑنے کے لیے تمام ممالک کے تعاون کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کا مقصد ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم ایران سے بھی بات چیت کر رہے ہیں۔۔۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد میں ایک مثبت نتیجہ حاصل کر سکیں گے"۔

ایران کا دہرا کھیل

ولسی جرگہ (پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں) کی بین الاقوامی تعلقات کی کمیٹی کے ایک رکن، داود کالاکانی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایران افغانستان میں دوہرا کردار ادا کرتا ہے

انہوں نے کہا کہ "ایک طرف ایران افغانستان کی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اپنے آپ کو افغانستان کو ایک دوست کے طور پر پیش کرتا ہے جبکہ دوسری طرف یہ طالبان کو امداد فراہم کرنے سے افغانستان کے لوگوں اور حکومت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیتا ہے"۔

ہرات صوبہ کے ایک سیاسی تجزیہ نگار عارف کیانی نے کہا کہ "ایران کی افغانستان کے معاملات میں مداخلت اور اس کے ساتھ ہی طالبان کو فراہم کی جانے والی مالی و اخلاقی امداد، خصوصی طور پر جنوب مغربی افغانستان میں، کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ اس امداد نے افغانستان میں سیکورٹی کی صورت حال کو نقصان پہنچایا ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ ایران کی طرف سے شام میں لڑنے کے لیے افغان مہاجرین میں سے سپاہی بھرتی کرنا اور اب طالبان کے عسکریت پسندوں کو افغانستان میں لڑنے کے لیے تربیت فراہم کرنا "عیاں اور ناقابلِ تردید" ہے۔

کیانی نے کہا کہ "ایران جن وجوہات کی بنیاد پر طالبان کو اپنے عسکری کیپموں میں تربیت فراہم کرتا ہے اور مختلف طریقوں سے امداد فراہم کرتا ہے، ان میں سے بڑی وجوہات ایران میں پانی کی کمی، افغانستان پر طالبان کے ذریعے ایران کا غلبہ اور آئی آر جی سی کا منشیات اور انسانوں کی اسمگلنگ میں ملوث ہونا شامل ہیں"۔

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار نبی مشتاق نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایران ہمارے ملک میں عدم استحکام اور بے قاعِدگی چاہتا ہے تاکہ وہ افغانستان میں اپنے طویل المعیاد مفادات کو قائم رکھ سکے۔ ان طویل المعیاد مفادات میں ہمارے ملک کے پانی، کانوں اور قیمتی پتھروں کے وسائل کو استعمال کرنا اور ہمارے ملک کو ایران کی صارف منڈی میں تبدیل کرنا شامل ہیں

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 36

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Ahmadshah | 07-28-2018

یار یہ دہشت گردی آخر کب تک جاری رہے گا ہمارے پشتون کتنا بیوقوف ھے دوسروں کی جنگ اپنے گلے میں وٹیاء ھے

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج