|

سلامتی

ایران پر مذہبی جنگ شروع کرنے کے لیے افغانستان میں مسجدوں کو شہید کرنے کا الزام

بہت سے سابقہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ ایران دانستہ طور پر افغانستان میں فرقہ ورانہ کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے تاکہ علاقے بھر میں پراکسی جنگوں میں لڑنے والے اپنے عسکریت پسندوں کی بھرتیوں میں اضافہ کیا جا سکے۔

سلیمان


شہری، 3 اگست 2018 کو پکتیا صوبہ کے علاقے گردیز میں ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے اندر چل رہے ہیں۔ برقع پہنے ہوئے خودکش بمباروں نے شیعہ مسجد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ہفتہ وار نماز کے لیے نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، کم از کم 29 افراد ہلاک  اور 80 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ]فرید ظاہر/ اے ایف پی[

شہری، 3 اگست 2018 کو پکتیا صوبہ کے علاقے گردیز میں ایک مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے بعد اس کے اندر چل رہے ہیں۔ برقع پہنے ہوئے خودکش بمباروں نے شیعہ مسجد کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ ہفتہ وار نماز کے لیے نمازیوں سے بھری ہوئی تھی، کم از کم 29 افراد ہلاک اور 80 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ ]فرید ظاہر/ اے ایف پی[

کابل -- سابقہ حکام نے متنبہ کیا ہے کہ ایران، افغانستان میں خوف پھیلانے اور ایک مذہبی جنگ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور وہ اسے نوجوان شیعہ مسلمانوں کو فاطمیون ڈویژن میں بھرتی کرنے کے لیے مائل کرنے کے ایک طریقہ کے طور پر دیکھتا ہے۔

فاطمیون ڈویژن جو کہ ایران کی پاسدارانِ انقلابِ اسلامی فوج (آئی آر جی سی) کا ایک ایسا بدنام یونٹ ہے جو کہ شیعہ افغانیوں پر مشتمل ہے اور وہ ایران اور اس کے گاہکوں کے لیے لڑتا ہے جن میں شام کی حکومت بھی شامل ہے۔

نیشنل ڈائریکٹرییٹ برائے سیکورٹی کے سابقہ ڈپٹی ڈائریکٹر برائے اطلاعات و تجزیہ، اجمل بلوچ زادہ نے کہا کہ "اپنے دراندازوں کے ذریعے جن میں ایسے افراد اور ادارے شامل ہیں جو اس کی انٹیلیجنس سروسز کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں اور انہیں ثقافتی اور زائرین کے اداروں کی آڑ میں چھپایا گیا ہے، ایران فاطمیون ڈویژن میں نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے اپنی طرف کھینچ رہا ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "یہ نوجوان افراد پھر دوسرے صوبوں سے کابل آتے ہیں اور انہیں وہاں سے نمروز اور ہرات صوبوں میں لے جایا جاتا ہے جہاں سے انہیں پھر ایران لے جاتے ہیں۔ ایران میں یہ افراد تربیت حاصل کرتے ہیں اور انہیں شام کی جنگ میں لڑنے کے لیے بھیجے جانے سے پہلے ساز و سامان مہیا کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "افغانستان میں شیعہ برداری میں خوف کو پھیلانے اور مسجدوں اور دیگر مذہبی مقامات پر خودکش حملے اور دھماکے کرنے سے، ایران یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی طرف سے افغانستان میں شیعوں کی نسل کو ختم کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ایسے بہانوں کے تحت، ایران نے فاطمیون ڈویژن کے لیے شیعہ نوجوانوں کی بھرتی میں اضافہ کر لیا ہے"۔

بلوچ زادہ نے کہا کہ "ایران، ارزگان اور غزنی صوبہ میں ہونے والی حالیہ جنگوں میں ملوث تھا اور وہ شیعہ برادری کو بھڑکانا چاہتا تھا تاکہ وہ یہ دکھا سکے کہ یہ ایک مذہبی اور فرقہ ورانہ جنگ ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "دریں اثنا، ایران افغانستان کے سیاسی اور سیکورٹی کے معاملات میں مداخلت کرنا چاہتا ہے اور ہر ممکن طریقے سے افغانستان میں مذہبی اور فرقہ ورانہ جنگ شروع کرنے کی کوشش کرتا ہے جس میں بہت سے عسکریت پسند گروہوں کی مدد کرنا اور فاطمیون ڈویژن کی تخلیق بھی شامل ہیں"۔

افغان سیکورٹی کے لیے ایک خطرہ

یہ فاطمیون جنگجو -- اگر شام سے زندہ واپس آ گئے -- تو افغانستان کی سیکورٹی کے لیے ایک خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات افغان سیکورٹی کے سابقہ اور موجودہ حکام نے کہی۔

افغان نیشنل سیکورٹی کونسل میں خطرات کی تشخیص کے سابقہ ڈائریکٹر ارین شریفی نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "نوجوان افغان شیعہ کی بڑی تعداد جن کی برین واشنگ کی گئی ہے اور جو اس وقت شام میں جنگوں اور تشدد میں لڑ رہے ہیں، افغانستان واپسی پر افغان تنازعہ میں شامل ہو جائیں گے ایسی صورت میں، ایک اور محاذ کھل جائے گا جو کہ مذہبی جنگ ہو گا اور جس سے افغانستان کے لیے ایک انتہائی خطرناک صورتِ حال پیدا ہو جائے گی"۔

شریفی نے کہا کہ "فاطمیون ڈویژن -- ملک میں تین طرح کے خطرات لے کر آئی ہے: افغان شہریوں کے لیے انسانی خطرہ، خصوصی طور پر ان افغان مہاجرین کے لیے جو ایران میں موجود ہیں، افغانستان کی قومی سیکورٹی کے لیے ممکنہ خطرہ اور افغانستان کے دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات پر منفی اثر"۔

وزارتِ دفاع کے لیے ایک سابقہ ترجمان جنرل محمد رمنیش نے اس انتباہ سے اتفاق کیا۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "افغان شہری جو شام میں لڑ رہے ہیں وہ ہتھیاروں اور لڑائی کے اس حد تک عادی ہو جاتے ہیں کہ جب وہ افغانستان واپس آئیں گے تو اس سے ملک کو نقصان پہنچے گا"۔

بلوچ زادہ نے مزید کہا کہ "ایک دشمن ریاست کے لیے کام کرنے والی عسکری قوت کے طور پر، فاطمیون ڈویژن کے ایسے جنگجو جو افغانستان واپس آئیں گے ملک کی سیکورٹی کے لیے ایک انتہائی بڑا خطرہ ہوں گے"۔

شیعہ زائرین کو بھرتی کرنا

فاطمیون ڈویژن میں افغانیوں کی دو اقسام نے شمولیت اختیار کی ہے: ان کی اکثریت پہلے سے ہی مہاجروں یا پناہ گزینوں کے طور پر ایران میں قیام پذیر ہے اور افغانستان کے اندر ایک چھوٹا گروہ ہے جو ایران کے پروپیگنڈا کا شکار ہوا ہے۔

شریفی نے کہا کہ "ہماری معلومات کے مطابق، ایران کے اندر افغان مہاجرین کی کچھ تعداد اور اس کے ساتھ ہی کچھ دوسرے افغانیوں کو فاطمیون ڈویژن میں بھرتی کیا گیا ہے۔ بھرتی کے مراکز بامیان، ہرات، دیاکنڈی، کابل اور بہت سے دوسرے صوبوں میں واقع ہیں"۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ "عام اور خفیہ ذرائع سے حاصل ہونے والی وسیع معلومات کے مطابق، افغان شہریوں کی کچھ تعداد جو زائرین کے طور پر ایران جاتی ہے وہ فاطمیون ڈویژن میں شامل ہو جاتی ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "2017 میں، 14,000 سے 21,000 کے درمیان افغانیوں نے ایران کی طرف سے شام، عراقی اور یمنی تنازعات میں فاطمیون ڈویژن کی صفوں سے لڑائی میں شرکت کی۔ اتنی ہی تعداد میں افراد اس وقت فاطمیون ڈویژن کے لیے خدمات انجام دے رہے ہیں اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ ایران ان تجربہ کار نوجوان جنگجوؤں کے بڑے گروہ کو افغانستان میں ناجائز طریقے سے استعمال کرے گا"۔

افغانیوں کا "توپ کے ایندھن" کے طور پر استحصال

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر ایران فاطمیون ڈویژن کے سابقہ جنگجوؤں کو افغان سیکورٹی اور سیاسی صورتِ حال کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے جیسا کہ اس نے پہلے ہی آئی آر جی سی کے حمایت یافتہ طالبان جنگجوؤں کے ساتھ مل کر کیا ہے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار سید عبدل کریم ہاشمی نے کہا کہ "فاطمیون ڈویژن کے ڈھانچے کے اندر افغان نوجوانوں کو بھرتی کرنے سے، ایران دو اضافی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پہلا تو یہ ہے کہ وہ علاقے میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جیسے کہ شام، عراق اور یمن اور دوسرا وہ انہیں افغانستان میں مستقبل کی سیاسی اور عسکری پیش رفت میں ایران کے مفادات کے لیے اپنے فائدے میں استعمال کرنا چاہتا ہے"۔

انہوں نے سلام ٹائمز کو بتایا کہ "ایران فاطمیون کے عسکریت پسندوں کو تربیت دیتا ہے اور انہیں توپ کے ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے تاکہ وہ شام کی پراکسی جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر سکے"۔

ہاشمی نے کہا کہ "اگرچہ ان میں سے کچھ جنگجو ہلاک ہو جاتے ہیں مگر باقی کے میدانِ جنگ کے تجربے کے ساتھ ممکنہ طور پر نڈر جنگجو بن جائیں گے۔ یہ تجربہ کار جنگجو ہی وہ ہوں گے جن کا ایران، افغانستان کی مستقبل کی پیش رفت اور سیاسی چالوں کے لیے استحصال کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان، ایران کی عراق میں مداخلت سے سبق سیکھ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "عراق میں ایران کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو، شیعہ آبادی کو بھڑکانے اور مسلح کرنے کے لیے، شیعہ مسجدوں کو نشانہ بنانے اور شہید کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔ اس تجربے کو افغانستان میں دوبارہ دہرایا جا رہا ہے اور ایران اس لیے ایسا کر رہا ہے کہ تاکہ وہ فاطمیون ڈویژن کے لیے افراد کی بھرتی کو بڑھا سکے"۔

ایران-طالبان کا اتحاد

وزارتِ دفاع کے سابقہ اہلکار رمنیش نے کہا کہ آئی آر جی سی پہلے ہی ایران کے اندر طالبان کے عناصر کو سہارا دے رہی ہے تاکہ وہ افغانستان میں امریکی مفادات اور افغانستان میں ترقی کو نقصان پہنچا سکے۔

انہوں نے کہا کہ "امریکہ سے لڑنے کے لیے، ایران ان گروہوں کو اپنی سرزمین پر ساز و سامان مہیا کرتا ہے۔ کچھ طالبان گروہ آئی آر جی سی کے زیرِ سایہ تافتان، مشہد، قم اور بندرعباس جو کہ چند نام ہی ہیں، جیسے علاقوں میں عسکری تربیت حاصل کر رہے ہیں"۔

رمنیش نے کہا کہ "ایران امریکہ کو چیلنج کرنے کے مقصد سے طالبان کی مدد کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے "فراہ اور نمروز سے ہلمند صوبہ اور ہلمند سے کوئٹہ (پاکستان) تک راہداری قائم کر لی ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی آر جی سی "طالبان کو جدید ہتھیار اور سامان" فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ایسی خبریں بھی موجود ہیں جو تجویز کرتی ہیں کہ طالبان کمانڈر اور گروپ لیڈر مشہد، ایران میں ایک ہوٹل میں جس کا نام ہما ہے میں ملاقاتیں کر رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "طالبان کے راہنما ایرانی پاسپورٹ استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ شناخت کیے جانے سے بچ سکیں اور طالبان کے بہت سے ارکان ایران کے مختلف حصوں میں رہائش پزیر ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 49

15 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 12-12-2018

شیعہ دنیا میں جہاں بھی ہوگا اس کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہونگی اس ملک سے ہر گز نہ ہوگی جہاں جس ملک کا کھاتے پیتے ہیں

جواب
Comment bubble | 12-06-2018

پاکستان کو سب زیادہ خارجہ پالیسی پہ نقصان ایران اور سعودی عرب کی حمایت سے ہی ہوا ہے ۔ یہ دونوں ممالک پاکستان کے دوست نہیں دشمن ہیں ۔

جواب
Reply comment | 12-06-2018

Agree

جواب
Comment bubble | 12-05-2018

لعنت ہو ایران پر لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت لعنت

جواب
Comment bubble | 12-05-2018

ہا ں ا پ نے ٹھیک لکھا شیعہ کافروں سے بھی بد تر ہیں

جواب
Comment bubble | 12-03-2018

مزاخمت مخالفت

جواب
Comment bubble | 12-03-2018

امریکی موقف کو امریکیوں سے بڑھ کر پیش کرنے پر آپکی امریکی شہریت تو پکی.... طالبان کو کسی کی بھی مدد کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہ اپنی غربت میں ہی عالمی بدمعاشوں کی ناک رگڑ چکے ہیں، آپکا امریکہ جو آئے دن بے گناہ افغانوں کو صبح شام شہید کر رہا ہے کبھی اسکی بھی مزمت کر دیا کرو، امریکہ کو اب بین الاقوامی چودھراہٹ سے باہر نکلنا ہوگا خود بھی چین سے جئے اور مسلمانوں کو بھی جینے دے آپ بھی امریکہ کی کاسہ لیسی چھوڑ کر کچھ آخرت کا بھی سوچیں نہیں تو اپنا منجن اسرائیل میں جا کر بیچنے وہاں خوب بکے گا

جواب
Comment bubble | 12-02-2018

یہ تبصرہ سرا سر امریکی مفادات کو پیش نظر رکھ کر لکھا گیا ھے اگر آپ کی سر زمین پر کوئی قبضہ کر لے تو آپ قابض کے پٹھو بنیں گے یا مزاحمت کار

جواب
Reply comment | 12-03-2018

شیعہ سراسر کافروں میں سے ھے

جواب
Comment bubble | 12-02-2018

جی ہاں

جواب
Comment bubble | 11-30-2018

بالکل ٹھیک افغانستان میں ایران بہت مداخلت کر رہا ہے

جواب
Reply comment | 11-30-2018

جی ہاں

جواب
Comment bubble | 11-30-2018

منفی پروپیگنڈا ہے

جواب
Comment bubble | 11-30-2018

سارے جھوٹ پر مبنی ہے اپ شعیہ کو بدنام کر رہے ہو

جواب
Reply comment | 12-05-2018

ایران کی جو لوگ سپوٹ کرتے ھیں وہ ایک نظرے پر کرتے ھیں اس طرح کی سپوٹ پوری دنیا سے حاصل ھے ایران کو

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج