|

سلامتی

کوئٹہ کا خیراتی ادارہ نور فاؤنڈیشن ایران کی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فاؤنڈیشن کی عمارت پر دو دفعہ چھاپہ مارا اور کم از کم چار ارکان کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) اور تہران کی جانب سے شام میں لڑائی کے لیے پاکستانی شیعوں کی بھرتی میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کر لیا۔

از عبدالغنی کاکڑ


ایک اعلیٰ ایرانی فوجی افسر گزشتہ اکتوبر میں زینبیون بریگیڈ، اور قم، ایران میں فاطمیون ڈویژن کے چھ جنگجوؤں کے جنازے کے جلوس میں شریک ہے۔ یہ جنگجو، جنہیں اکثر پاکستان اور افغانستان میں شیعہ علاقوں سے بھرتی کیا جاتا ہے، بشار الاسد کی شعیہ حکومت کی حمایت کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔ کوئٹہ کی مقامی نور فاؤنڈیشن ایسے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے ایرانی مورچے کی خدمات انجام دینے پر موردِ الزام ٹھہرائی جاتی رہی ہے۔ [Defapress.ir]

ایک اعلیٰ ایرانی فوجی افسر گزشتہ اکتوبر میں زینبیون بریگیڈ، اور قم، ایران میں فاطمیون ڈویژن کے چھ جنگجوؤں کے جنازے کے جلوس میں شریک ہے۔ یہ جنگجو، جنہیں اکثر پاکستان اور افغانستان میں شیعہ علاقوں سے بھرتی کیا جاتا ہے، بشار الاسد کی شعیہ حکومت کی حمایت کرتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔ کوئٹہ کی مقامی نور فاؤنڈیشن ایسے جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے ایرانی مورچے کی خدمات انجام دینے پر موردِ الزام ٹھہرائی جاتی رہی ہے۔ [Defapress.ir]

کوئٹہ -- کوئٹہ کی مقامی فلاحی تنظیم، جو نور فاؤنڈیشن کے نام سے مشہور و معروف ہے، اسے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ایک ایسے مورچے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جسے ایران پاکستان میں بہت سے تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

گزشتہ دسمبر میں، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں سمنگلی روڈ پر واقع نور فاؤنڈیشن کی عمارت پر چھاپہ مارا تھا، جس میں کم از کم چار ارکان ، بشمول جماعت کے بانی، کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے ساتھ روابط کے شبہے میں تحویل میں لیا گیا تھا۔ تمام گرفتار شدگان سیکیورٹی ایجنسی کے ہاتھوں میں ہیں، جن کی شناخت ظاہر کرنے سے اسلام آباد کے مقامی سینیئر دفاعی اہلکار نے انکار کر دیا۔

مارچ کے مہینے میں، پاکستانی مفادات کے خلاف ایران کی بڑھتی ہوئی دست درازیکی اطلاعات کے بعد، سیکیورٹی فورسز نے فاؤنڈیشن پر دوسری بار چھاپہ مارا۔

دوسرے چھاپے کے متعلق درانی کا کہنا تھا، "سیکیورٹی فورسز نے نور فاؤنڈیشن کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا، اور مزید اعلیٰ سطحی تحقیقات جاری رہیں۔"

درانی نے دسمبر کے چھاپے کی تصدیق کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "نور فاؤنڈیشن کے زیرِ حراست ملزمان نے اپنی مشکوک سرگرمیوں کے متعلق بہت حساس معلومات کا انکشاف کیا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ان کے انکشافات کے بعد، سیکیورٹی فورسز اُن [ایرانی] عناصر کے پورے نیٹ ورک کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔"

دوسری جانب دسمبر میں ہی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میں ایرانی قونصلیٹ کے ویزہ سیکشن میں تعینات سفارتکار، جواد دہقان کو نور فاؤنڈیشن کے متعلق شکوک و شبہات سے منسلک ہونے پر گرفتار کر لیا تھا۔

درانی نے کہا کہ دہقان کے پاس بہت سے پاکستانی موبائل سبسکرائبر آئڈنٹٹی ماڈیول (سم کارڈز) اور بڑی مقدار میں غیر ملکی کرنسی موجود تھی۔ بعد ازاں اسے ایران ملک بدر کر دیا گیا تھا، اس واقعہ کو مقامی ذرائع ابلاغ نے نشر نہیں کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "وفاقی سطح پر، پاکستان نے اپنے تحفظات ایرانی ہم منصبوں تک پہنچا دیئے ہیں۔ایران کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کبھی بھی کسی غیر ملکی ایجنڈے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔"

انہوں نے کہا، "ایران کبھی بھی پاکستان میں اپنی جارحیت میں کامیاب نہیں ہو گاکیونکہ اب اس کے فسادی حکمران خطے میں بہت زیادہ ننگے ہو چکے ہیں۔"

ایرانی روابط، چالیں

شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کوئٹہ میں ایک اعلیٰ خفیہ اہلکار نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تحقیقات نے نور فاؤنڈیشن اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے درمیان روابط کا انکشاف کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ نور فاؤنڈیشن کے بہت سے مشکوک ارکان فلاحی امور کے بھیس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے لیے کام کر رہے تھے۔"

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی پشت پناہی سے پراکسی ملیشیا کی جانب سے پاکستانی نوجوانوں کی مسلسل بھرتیجو تہران کی زیرِ کمان شام میں اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حساس علاقوں میں جنگ لڑتے ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "اس تنظیم کو مبینہ طور پر شیعہ باغیوں کی بھرتی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے جو [شامی صدر بشار] الاسد کی حکومت کے لیے شام میں لڑ رہے ہیں۔"

رپورٹیں بتاتی ہیں کہ ایران نے بھلا پھسلا کر 12،000 کی تعداد تک پاکستانی اور افغانی شیعہ کوایرانی پاسدارانِ انقلاب کی زینبیون بریگیڈ اور فاطمیون ڈویژنمیں شامل کر لیا ہے، جس کے لیے زد پذیر نوجوانوں کو دھوکہ دینے کے لیے "شیعہ حقوق اور تحفظ" جیسی جنگی آہوں کو استعمال کیا گیا ہے۔

اس عام بیانیئے کو اپناتے ہوئے، نور فاؤنڈیشن کا فیس بُک صفحہ پاکستان میں موجود شیعہ کو سنی اکثریت کے مظالم کا شکار دکھانے کے لیے پرتشدد تصاویر پوسٹ کرتا رہتا ہے۔

خفیہ اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب ایرانی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی شیعوں کو لبھانے کے لیے بہت سے وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارا دشمن ہمارے خلاف جو بھی حربے استعمال کر رہا ہے ہم ان سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔"

نور فاؤنڈیشن نے الزامات کی تردید کی ہے۔

نور فاؤنڈیشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار سید حسن نے کہا، "ہم اپنی تنظیم پر ایرانی خفیہ اداروں کے متعلق لگائے جانے والے تمام الزامات کی پُرزور تردید کرتے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہماری تنظیم عوام کی خدمت کے لیے کام کر رہی ہے، اور ہم کسی بھی ریاست مخالف کارروائیوں کا کبھی بھی حصہ نہیں رہے۔"

انہوں نے کہا، "اگر ہمارے گرفتار شدہ ارکان کے خلاف کوئی الزامات ہیں، تو انہیں کسی عدالت میں پیش کیوں نہیں کیا گیا؟ ہم نے اپنی تنظیم کا پورا ریکارڈ خفیہ حکام کے حوالے کر دیا ہے، اور وہ کئی مرتبہ ہمارے ہیڈکوارٹر تشریف لائے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے مقامی پولیس میں بھی اطلاع دی ہے کہ ہماری تنظیم کے چار ارکان کئی ماہ سے غائب ہیں، اور ابھی اس معاملے پر کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے۔"ہمیں اپنے عملے کی سلامتی کی بہت فکر ہے۔"

پاکستان کے خلاف جاری ایرانی سرگرمی

پاکستانی شیعوں کی ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے بھرتی پاکستان کی جڑیں کاٹنے کی واحد مثال نہیں ہے۔

فروری میں،طالبان جنگجوؤں کے ایک گروہ نے کہا کہ ایرانی تربیت، سرمائے اور احکامات پر انہوں نے افغانستان میں ترکمانستان-افغانستان-پاکستان-انڈیا (تاپی) قدرتی گیس پائپ لائن کی افتتاحی تقریب پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا-- ایک منصوبہ جس کی ایران بھرپور مخالفت کرتا ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور افغان صدر اشرف غنی ان اعلیٰ شخصیات میں شامل تھے جو اس تقریب میں شریک تھیں۔

22 اپریل کو،طالبان کے ایک دوسرے گروہ نے تاپی پر حملہ کرنے کے ایرانی احکامات کو مسترد کرتے ہوئے افغان حکام کے سامنے ہتھیار پھینکے تھے۔

اسلام آباد کے مقامی دفاعی تجزیہ کار، میجر (ر) محمد قمر نے پاکستان فاوروڈ کو بتایا، "ایران سے منسلک جنگجو گروہ ملک میں شناخت چھپا کر کارروائیاں کر رہے ہیں اور ہماری مقامی آبادی کو خراب کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان میں ایران سے منسلک تمام تنظیموں کی سختی سے تحقیقات ہونی چاہیئیں۔ پاکستان میں ایرانی جارحیت ہماری خارجی اور داخلی سلامتی کی پالیسی کو سنگین خطرات لاحق کر رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ وقت ہے کہ ایران اور دیگر ممالک جو شام میں صدر الاسد کی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، کے ساتھ تعلقات کی ہماری پالیسی پر نظرِثانی کی جائے۔"

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر عسکری اور دفاعی تجزیہ کار، لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان میں ایران کی جارحیتکا دوطرفہ تعلقات پر بہت برا اثر پڑ رہا ہے، اور یہ اہم ہے کہ پاکستان ملک میں بیرونی مداخلت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔"

انہوں نے کہا، "ان عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیئے جو غیر ملکی مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں۔" انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان "کسی بھی مزید فرقہ پرستی یا اپنی سرزمین پر کسی بھی دیگر تنازعہ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 60

3 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Comment bubble | 10-17-2018

You are Saudi dog and barking at Iran spreading false and baseless news \n \nLanat bar america lanat bar Saudi dogs

جواب
اکرام الحق بهاتی | 05-23-2018

پاکستان دارالحکومت (اسلام آباد) میں واقع ایرانی سفارتخانہ، مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان، کراچی، کوئٹہ، لاهور و پشاور می واقع ایرانی قونصلیٹ اور خانه های فرهنگ ایران راولپنڈی، پشاور، لاهور، ملتان، حیدرآباد، کراچی اور کوئٹہ در اصل سفارتی اور ثقافتی سرگرمیوں کی آڑ میں پوری طرح جاسوسی کاروائیوں میں ملوث ھیں، ان کا نٹ ورک اتنا وسیع هے که گلگت و بلتستان تک پهیلا هوا هے. فرقه وارانه لٹریچر کی ترسیل کے لۓ غیر سفارتی نمبر پلیٹوں والی گاڑیاں استعمال هوتی هیں. بار ها پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے ان کو پکڑا بهی هے- یه کام ایرانی انقلاب کے بعد س هو رها هے اور اسی بنا پر مذکوره ایرانی اداروں می کام کرنے وال تمام پاکستانی سنی ملازمین کو 1997 میں فارغ کردیا گیا تها. شام کی خانه جنگی می جهونکنے کے لۓ ایرانی پاسداران انقلاب کی زینبیون بریگیڈ اور فاطمیون ڈویژن پاکستانی اور افغان شیعه نوجوانوں کو بهرتی کرکے بذریعه ایران لے جاتے ہیں ! \n

جواب
Sabir Hussain | 05-03-2018

کیوں لوگوں کو بیوقوف بنا رہےہو نور ویلفیئر کو بنایا ہی پاکستانی ایجنسیز نے تاکہ ہزارہ قوم کی کوئٹہ قتل عام کے دوران لاشوں کو جلد سے جلد اٹھا کر علاقے میں پہنچایا جایے۔ 2 سال میں درجن کے قریب ایمبولینسیز کہاں سے آئے ؟۔ سار ے سرکاری اداروں نے دی تھی۔ بلوچستان میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دینا ہماری اسٹیبلشمنٹ کا منشور بن چکا ہے جس میں ایران برابر کے شریک ہے

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج