| کاروبار

پولیس کی جانب سے پشاور میں کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے خصوصی چوکیوں کی تشکیل

عدیل سعید


30 اپریل کو پاکستانی کارکنان پشاور میں تعمیر کے ایک مقام پر کام کر رہے ہیں۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

30 اپریل کو پاکستانی کارکنان پشاور میں تعمیر کے ایک مقام پر کام کر رہے ہیں۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) حکام نے شہر میں کامرس اور تجارت کے تحفظ کے لیے پشاور انڈسٹریئل اسٹیٹ میں ایک خصوصی پولیس چوکی تشکیل دی ہے۔

کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر قاضی جمیل الرّحمٰن نے 14 ستمبر کو افتتاحی تقریب کے دوران کہا، "کاروباروں کے لیے تحفظ پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے اور انڈسٹریل اسٹیٹ پشاور میں اس چوکی کا قیام اس ذمہ داری کی بجاآوری کی جانب ایک قدم ہے۔"

سیکیورٹی میں اضافہ، ملازمتوں کی تشکیل

سرحد ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر زاہد اللہ شنواری نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا "خصوصی چولیوں کی تشکیل کاروباروں اور کے پی پولیس کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے جو معاشرہ کے دو اہم حصوں کے درمیان ۔۔۔ مضبوط تعاون کی عکاسی ہے۔"


پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر قاضی جمیل الرّحمٰن اور سرحد ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر زاہد اللہ شنواری 14 ستمبر کو انڈسٹریل سٹیٹ پشاور میں شروع ہونے والی خصوصی پولیس چوکی کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [سرحد ایوانِ صنعت و تجارت]

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر قاضی جمیل الرّحمٰن اور سرحد ایوانِ صنعت و تجارت کے صدر زاہد اللہ شنواری 14 ستمبر کو انڈسٹریل سٹیٹ پشاور میں شروع ہونے والی خصوصی پولیس چوکی کا معائنہ کر رہے ہیں۔ [سرحد ایوانِ صنعت و تجارت]

انہوں نے کہا کہ اس چوکی کے لیے زمین کے پی اکنامک زونز ڈیویلپمنٹ اینڈ مینیجمنٹ کمپنی نے فراہم کی، جبکہ انڈسٹریئلسٹس ایسوسی ایشن پشاور (آئی اے پی) نے اندرونی آرائش کے لیے حصّہ ڈالا۔

انہوں نے کہا کہ انڈسٹریئل اسٹیٹ پشاور میں بہتر سیکیورٹی طویل مدت سے ایک مطالبہ رہا ہے۔

شنواری نے کہا کہ قبائلی پٹی سے قربت کی وجہ سے اکثر کاروبارمالکان، بطورِ خاص نقد لین دین کرتے ہوئے، غیر محفوظ محسوس کرتے تھے۔

کاروبار مالکان کو اغوا برائے تاوان کا بھی خوف رہتا، جو نہ صرف شہر سے سرمایہ کی منتقلی کا باعث بنتا بلکہ سرمایہ کاری کرنے اور نئے کاروبار شروع کرنے کا ارادہ رکھنے والے باہر کے افراد کی بھی حوصلہ شکنی ہوتی۔

اس پولیس چوکی کی تشکیل سے کاروباری ماحول بہتر بنے گا اور نوجوانوں اور مہارت رکھنے والے محنت کشوں کے لیے ملازمت کے نئے مواقع تشکیل دینے میں مدد ملے گی۔

شنواری کے مطابق، انڈسٹریئل اسٹیٹ پشاور میں لگ بھگ 118 کارخانے کام کرتے ہیں اور نوکریوں کے تقریباً 60,000 بلاواسطہ مواقع اور 170,000 بالواسطہ ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "[اسٹیٹ میں] 100 سے زائد [دیگر صنعتی اکائیوں] کو نقصان پہنچ چکا ہے یا وہ بند ہو چکی ہیں، جس کی مرکزی وجہ کاروباروں کے ’سیکیورٹی خدشات‘ کی وجہ سے سرمایہ کی منتقلی ہے۔"

کاروباروں کی واپسی کی حوصلہ افزئی

آئی اے پی کے صدر زرک خان خٹک نے پاکستان فارووڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "سکیورٹی کاروباری برادری کے بڑے خدشات میں سے ایک ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اکیس پولیس افسران دن بھر چوکی کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ایک سب انسپکٹر چوکی کا انچارج ہے، جس کے پاس علاقہ میں معمول کے گشت کے لیے ایک نئی گاڑی اور دو موٹرسائیکل ہیں۔

خٹک نے کہا کہ تمام آئی اے پی ارکان چاہتے ہیں کہ پشاور کے کارخانوں میں کام کرنے والے کارکنان کے بھیس میں مجرموں کے داخلہ کی انسداد کے لیے ان کے تمام ملازمین کا پولیس میں اندراج ہو۔

انہوں نے کہا، " پشاور اور کے پی کی کاروباری برادری بالخصوص 2008-2013 کے درمیان عسکریت پسندی سے شدید متاثر ہوئی، جس کی وجہ سے صوبہ سے سرمایہ کی بڑے پیمانے پر منتقلی ہو گئی۔"

ایک بہتر کیا گیا سیکیورٹی ماحول ممکنہ طور پر چلے جانے والے کاروبار مالکان کو پشاور لوٹنے پر آمادہ کرنے کے ساتھ ساتھ باہر کے ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے گا جو کے پی میں کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں۔

پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ انڈسٹریئلسٹس کے سابق صدر احتشام حلیم نے کہا، "ایک دہائی طویل عسکریت پسندی کی لہر اور دہشتگردی کی جاری آفت نے بالخصوص کے پی پر اور بالعموم پاکستان کی معیشت پر ایک بے حساب اثر مرتب کیا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہماری سیکیورٹی فورسز کے تعاون اور حمایت کے بغیر، کاروباری برادری کاربار جاری رکھ کر ملک و قوم کی آسودہ حالی کے لیے جدوجہد نہیں کر سکتی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

3
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha