|

دہشتگردی

دہشت گردی سے پاکستان کی معیشت کو118 بلین ڈالر کا نقصان ہوا: رپورٹ

ملک بھر میں دہشت گردی کی مہمات کے زبردست معاشی اثرات کے ساتھ ساتھ ساٹھ ہزار افراد بھی اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

عدیل سید


اٹھائیس اکتوبر 2009 کو پشاور کے مینا بازار میں کار بم کے دھماکے کے بعد پاکستانی شہری اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس دھماکے میں نوے افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔ پاکستان کو 2002 سے 2016 تک دہشت گردی سے 118 بلین امریکی ڈالر اور تقریبا ساٹھ ہزار جانوں کا  نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ]بہ شکریہ عدیل سید[

اٹھائیس اکتوبر 2009 کو پشاور کے مینا بازار میں کار بم کے دھماکے کے بعد پاکستانی شہری اکٹھے ہوئے ہیں۔ اس دھماکے میں نوے افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی۔ پاکستان کو 2002 سے 2016 تک دہشت گردی سے 118 بلین امریکی ڈالر اور تقریبا ساٹھ ہزار جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ]بہ شکریہ عدیل سید[

پشاور - دہشت گرد پاکستان کو شدید مالی نقصان پہنچا رہے ہیں جس کے بارے میں سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے حال ہی میں خصوصی طور پر بتایا ہے۔

ایس بی پی نے کے مالی سال کے لیے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ 2002 سے اب تک، انتہاپسندانہ تشدد سے ملک کو118.3 بلین ڈالر 12.4 (ٹریلین روپے) کا بلواسطہ اور بلاواسطہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

ایس بی پی نے یہ رپورٹ نومبر میں جاری کی تھی۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "معاشی بڑھوتی اور سماجی شعبے کی ترقی دونوں کو دہشت گردی سے متعلقہ واقعات کی وجہ سے شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے"۔

اس تحقیق میں واضح کیا گیا ہے کہ نقصانات مختلف صورتوں میں تھے جن میں کبھی نہ آنے والی غیر ملکی سرمایہ کاری سے لے کر تجارت میں کمی اور سرمایے کا براہ راست ملک سے باہر چلا جانا شامل ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باعث پاکستان کو جن نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے اس نے اس کے بیرونی عوامی قرضے کی سطح کو تقریبا دوگنا کر دیا ہے"۔

المناک جانی نقصان

تاہم، پاکستانیوں کو پہنچنے والا نقصان روپوں سے زیادہ ہے۔ یہ بات سیکورٹی کے تجزیہ نگار اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکریٹری برائے سیکورٹی ریٹائرڈ محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتائی۔

انہوں نے کہا کہ "ایس بی پی کی طرف سے تخمینہ کردہ نقصانات سے بھی کہیں زیادہ بڑا نقصان اس وقت میں ان ساٹھ ہزار جانوں کا نقصان اور اسکولوں، سڑکوں اور دیگر عوامی املاک کی تباہی کی صورت میں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی دہشت گردی کے شکار خاندانوں کے دکھ، فاٹا سے بے گھر ہونے والی پوری آبادی کے صدمے، اور بم دھماکوں میں بچ جانے والے افراد جو معذور ہو کر اپنے خاندانوں پر بوجھ بن چکے ہیں، کی قیمت نہیں لگا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور عالمی برادری کو ان لامحدود نقصانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے جس کا سامنا ملک کو انتہاپسندی سے جنگ کے دوران کرنا پڑا ہے۔ دوسرے افراد بھی پاکستان کو پہنچنے والے بڑے پیمانے کے نقصانات سے اتفاق کرتے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے تاجر اور قبائلی علاقوں کے ایوانِ صنعت و تجارت کے بانی صدر اکبر خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دہشت گردی سے پاکستان "کو عمومی طور پر اور خیبر پختونخواہ اور فاٹا کو خصوصی طور پر پہنچنے والا نقصان بہت بڑا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کو شکست دینے کے لیے، قوم کو اپنی سیکورٹی افواج کے ساتھ متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہیے۔

رکی ہوئی ترقی

کے پی کی صوبائی اسمبلی کے ایک رکن سردار حسین بابک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اگر عسکریت پسندی نہ ہوتی تو "پاکستان ایک خوشحال ملک" ہوتا۔

بابک کی جماعت، عوامی نیشنل پارٹی، کے تقریبا آٹھ سو سے زیادہ ارکان گزشتہ کئی سالوں میں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ سب سے زیادہ شکار ہونے والے پاکستانی، فاٹا، کے پی اور بلوچستان کے شہری ہیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ انتہاپسندوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابقہ صدر حاجی غلام علی، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ معاشرے کے تمام طبقات کو دہشت گردی کے بدترین سالوں میں نقصان اٹھانا پڑا خواہ یہ معاشی نقصان تھا یا انسانی جانوں کا نقصان۔

علی جو کہ سابقہ سینٹر بھی ہیں نے کہا کہ "2002 سے 2016 کا دورانیہ، ملک کی تاریخ میں سیاہ دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا"۔

پرامیدی ابھر رہی ہے

علی نے آپریشن ضربِ عضب کے "قابلِ ذکر نتائج" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اس کی وجہ سے امیدیں ابھر رہی ہیں"۔

پاکستانی فوج نے اس مہم کا آغاز جون 2014 میں شمالی وزیرستان سے کیا تھا۔ ضربِ عضب جو کہ ابھی تک جاری ہے، میں ابھی تک درجنوں عسکریت پسندوں کو ہلاک یا باہر نکالا جا چکا ہے۔

علی نے کہا کہ لوگوں کو دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے متحد ہو جانا چاہیے جو کہ "صرف گنے چنے افراد" ہیں اور ترقی کے نئے دور میں داخل ہو جانا چاہیے۔

دہشت گردی کے متاثرین نے، جن میں پشاور کے فواد صدیقی بھی شامل ہیں، نے ہمت ہارنے سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "2009 میں مینا بازار میں ہونے والے خودکش دھماکے میں ان کی دکان تباہ ہو گئی"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارے پاس اپنی ہمت کو جمع کرنے اور دوبارہ سے آغاز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا"۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کے پی کے تاجروں میں سے اکثریت کی زندگیوں کی دہشت گردی کی وجہ سے ایسی ہی کہانیاں ہیں۔

فواد نے پاکستان کی طرف سے دکھائی جانے والی ہمت کی تعریف کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ فوجیں جلد ہی عسکریت پسندوں کو ہمیشہ کے لیے شکست دے دیں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج