http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/09/21/feature-02
| سفارتکاری

نئے امکانات کی طرف اشارہ کرتی علامات کے باعث پاکستان انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہش مند

جاوید محمود


پشاور میں 19 اگست 2018 کو پاکستانی مرد، ایک ریسٹورانٹ میں نئے منتخب ہونے والے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا ٹیلی ویژن پر قوم سے کیا جانے والا خطاب سن رہے ہیں۔ خطاب میں خان نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[

پشاور میں 19 اگست 2018 کو پاکستانی مرد، ایک ریسٹورانٹ میں نئے منتخب ہونے والے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا ٹیلی ویژن پر قوم سے کیا جانے والا خطاب سن رہے ہیں۔ خطاب میں خان نے انڈیا کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ ]عبدل مجید/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- مشاہدین کا کہنا ہے کہ پاکستان-انڈیا سرحد کے دونوں اطراف کے سیاست دان، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہے ہیں مگر امن اور اقتصادی ترقی کے لیے بڑے پیمانے پر مشترکہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں۔

انتخابات کے بعد اپنی پہلی تقریر میں 19 اگست کوپاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت انڈیا کے ساتھ پرامن تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر امن اور دوستی کو فروغ دینے کے لیے انڈیا ایک قدم بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھائے گا۔


انڈیا کے سیاست دان بن جانے والے کرکٹ کے کھلاڑی اور پنجاب کی کابینہ کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو (درمیان میں) دوسرے سکھ عقیدت مندوں کے ساتھ 25 اگست کو امرتسر، انڈیا میں، ڈیرہ بابا نانک، انڈیا سے کرتارپور صاحب، پاکستان کے درمیان سکھ یاتریوں کے لیے ایک "راہداری" کھولنے کی اپنی تجویز کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔ ]نریندر نانو/ اے ایف پی[

انڈیا کے سیاست دان بن جانے والے کرکٹ کے کھلاڑی اور پنجاب کی کابینہ کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو (درمیان میں) دوسرے سکھ عقیدت مندوں کے ساتھ 25 اگست کو امرتسر، انڈیا میں، ڈیرہ بابا نانک، انڈیا سے کرتارپور صاحب، پاکستان کے درمیان سکھ یاتریوں کے لیے ایک "راہداری" کھولنے کی اپنی تجویز کے لیے دعا مانگ رہے ہیں۔ ]نریندر نانو/ اے ایف پی[


سکھ یاتری جنوری 2017 کو صوبہ پنجاب میں لاہور کے قریب ننکانہ صاحب میں گوردوارہ جنم استھان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ]جاوید محمود[

سکھ یاتری جنوری 2017 کو صوبہ پنجاب میں لاہور کے قریب ننکانہ صاحب میں گوردوارہ جنم استھان کا دورہ کر رہے ہیں۔ ]جاوید محمود[

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق، خان نے دوستی کا یہ ہاتھ، ناریندرا مودی کی طرف سے 18 اگست کو "پاکستان کے ساتھ تعمیری اور پرمعنی نسبت" قائم کرنے کے مطالبے کے جواب میں بڑھایا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ایک ترجمان محمد فیصل نے 13 ستمبر کو اسلام آباد میں کہا کہ "ہم انڈیا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے اپنا نکتہ نظر عالمی برادری تک پہنچا دیا ہے اور اب انڈیا کو اس کا جواب دینا ہے"۔

سیاست اور کرکٹ کے ذریعے خیرسگالی

قومی اسمبلی میں سندھ کی نمائندگی کرنے والی، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی قانون ساز، نصرت واحد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان کے وزیراعظم نے ہمسایہ ملک انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیےخیرسگالی کا اظہار کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہماری حکومت نے انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے اور اب ان کی باری ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور اس مثبت قدم کا جواب مثبت قدم سے دیں"۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ انڈیا کی حکومت کو پاکستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے کے لیے لچک اور برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، کہا کہ دونوں ملکوں کو بات چیت شروع کرنی چاہیے اور تمام باہمی معاہدوں کو تحریری شکل دینی چاہیے تاکہ سب کچھ صاف اور واضح ہو جائے۔

وحید نے کہا کہ "انڈیا میں لچک کا نہ ہونا اور غَیر مُصالحانَہ رویہ، دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان پرامن تعلقات کو قائم کرنے کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ انڈیا کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حصہ کے طور پر، خان -- جو کہ ایک سابقہ کھلاڑی ہیں -- نے انڈیا کے بہت سے ریٹائر ہو جانے والے کرکٹ کے کھلاڑی دوستوں کو 18 اگست کو اسلام آباد میں اپنی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت نے انڈیا کے سیاست دان بن جانے والے کرکٹ کے کھلاڑی نوجوت سنگھ سدھو کی درخواست پر، کرتارپور بارڈر کراسنگ کو دوبارہ کھولنے پر بھی اتفاق کیا تاکہ ایسے سکھ یاتریوں کے ٹرانزٹ کو آسان بنایا جا سکے جو انڈیا سے گوردوارہ دربار کرتارپور آتے ہیں۔

تاہم، بارڈر کراسنگ ابھی بھی بند ہے اور جیو نیوز کی طرف سے دفترِ خارجہ کے ترجمان محمد فیصل کے 19 ستمبر کے بیان کے حوالے کے مطابق "پاکستان اور انڈیا کے درمیان کرتارپور سرحد کو کھولنے کے بارے میں کوئی باضابطہ بات چیت نہیں ہوئی ہے"۔

ایک باہمی فائدہ مند تعلق پر نظر

صوبہ سندھ کے سابقہ وزیرِ اطلاعات اور پاکستان ٹیلی ویژن کے کرنٹ افیئرز کے سابقہ ڈائریکٹر آغا مسعود شورش نے کہا کہ "پاکستان اور انڈیا کو طویل عرصے سے موجود پرُخار معاملات جیسے کہ کشمیر اور پانی کی تقسیم کو حل کرنا چاہیے تاکہ کشیدگی اور تنازعات کے اس دور کا خاتمہ کیا جا سکے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جب تک دونوں ملک اپنے بڑے مسائل کو حل نہیں کریں گے، امن، استحکام اور معاشی ترقی صرف ایک خواب ہی رہے گی"۔

انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور انڈیا ہر سال ہتھیاروں کی خریداری اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اکثر ہونے والی جھڑپوں، جن سے دونوں اطراف اموات ہوتی ہیں، پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں"۔

ایل او سی انڈیا اور پاکستان کے زیرِ کنٹرول کشمیر کے علاقوں کے درمیان فی الحقیقت سرحد ہے۔

شورش نے کہا کہ اگر دونوں حکومتوں کو اپنے بنیادی مسائل کا کوئی دوستانہ حل مل گیا تو وہ اپنے عسکری اخراجات کو کم کر سکتی ہیں اور اسے ان لاکھوں شہریوں کی بہبود کے لیے استعمال کر سکتی ہیں جنہیں انتہائی غربت اور خوراک کی کمی کا سامنا ہے۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی ٹی وی تجزیہ کار روزینہ جلال نے کہا کہ دونوں ملکوں کو اپنی سرحدوں کو کھول دینا چاہیے تاکہ سیاحت کو فروغ ملے اور کھیلوں اور تفریح میں تعاون کیا جا سکے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دوستانہ تعلقات سے دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں اور اس کے ساتھ ساتھ ہی ثقافتی اور تجارتی تعلقات کو بھی فروغ ملے گا"۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کو ان کے اپنے ملکوں کی پچوں پر کھیلا جاتا ہوا دیکھنا پسند کریں گے۔ ایسے میچ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کے باعث معطل ہو گئے ہیں اور وہ کسی تیسرے ملکک زیادہ تر دبئی یا یو اے ای میں ہی منعقد ہوتے ہیں۔

تجارتی، ثقافتی تعلقات کو بڑھانا

پاکستان اکانومی واچ کے صدر مرتضی مغل نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پاکستان اور انڈیا کے درمیان سالانہ 2.3 بلین ڈالر کے سامان کی تجارت ہوتی ہے جس میں تجارتی توازن زیادہ تر انڈیا کے حق میں ہے جبکہ عالمی بینک کی طرف سے کی جانے والی ایک تحقیق نے دونوں ملکوں کے درمیان 10 بلین ڈالر سالانہ کی تجارت کے امکان کا تخمینہ لگایا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے رہائشیوں نے کشیدگی، سیاسی دباؤ اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے اکثر ہونے والے واقعات کے باعث اپنے تجارتی اور دیگر تعلقات کو محدود کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "باہمی غلط فہمیوں کے خاتمے، کئی دیہائیوں پرانے مسائل کو حل کرنے اور تجارت اور اس کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور سفارتی تعلقات کے فروغ کے لیے جامع مذاکرات کو دوبارہ سے شروع کرنا ضروری ہے"۔

مغل نے کہا کہ پاکستانی اور ہندوستانی تاجر اپنے مقامی صارفین کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے، باقاعدگی سے ایک دوسرے کی زرعی مصنوعات خریدتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تعلق سے ایسی تجارت بڑھ سکتی ہے جس کے نتیجہ میں کسانوں اور تاجروں کی آمدن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے سول سوسائٹی کے سرگرم کارکن اور پاکستان پیس کیپنگ مشن کے بانی، فرحان ولایت بٹ نے کہا کہ "دونوں ملکوں کے ہزاروں شہری ویزہ کی پابندیوں کے باعث، پاکستان اور انڈیا میں موجود اپنے اولیاء کے مزاروں پر نہیں جا سکتے ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ان پابندیوں کو ختم کرنے سے، پاکستان اور انڈیا نہ صرف مذہبی سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں بلکہ لاکھوں ڈالر بھی کما سکتے ہیں جس سے نہ صرف ان کے کاروباروں میں ترقی آئے گی بلکہ برداشت، امن اور خوشحالی کو بھی فروغ ملے گا"۔

ہر سال، انڈیا سے تعلق رکھنے والے ہزاروں سکھ یاتری ننکانہ صاحب، صوبہ پنجاب آنا چاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے روحانی راہنما اور سکھ مت کے بانی، گورونانک دیو جی کو نذرانہِ عقیدت پیش کر سکیں اور اسی طرح ہزاروں پاکستانی اجمیر شریف میں صوفی بزرگ خواجہ محی الدین چشتی کی درگاہ پر جانا چاہتے ہیں جو انڈیا کے راجھستان میں ہے۔ تاہم، سفارتی مسائل اور ویزہ کی پیچیدگیاں اکثر ایسا ہونے سے روکے رکھتی ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha