| سیاست

خان نے بطورِ وزیرِ اعظم پہلی تقریر میں ترقی اور بدعنوانی کے خلاف جنگ کو نمایاں کیا

ضیاء الرّحمٰن


19 اگست کو راولپنڈی میں ایک دکان کے باہر بیٹھے لوگ نو منتخب وزیرِ اعظم عمران خان کی پہلی تقریر نشر کرتے ہوئے ایک ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ [فاروق نعیم/اے یف پی]

19 اگست کو راولپنڈی میں ایک دکان کے باہر بیٹھے لوگ نو منتخب وزیرِ اعظم عمران خان کی پہلی تقریر نشر کرتے ہوئے ایک ٹی وی دیکھ رہے ہیں۔ [فاروق نعیم/اے یف پی]

اسلام آباد – حلف برداری کے بعد وزیرِ اعظم عمران خان کے قوم سے پہلے خطاب سے متعلق سیاسی تجزیہ کاروں اور عام پاکستانیوں نے ملے جلے ردِّ عمل ظاہر کیے۔

خان نے اتوار (19 اگست) کو رات گئے وسیع امور پر محیط ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والا ایک خطاب کیا جس میں انہوں نے بدعنوانی کو نشانہ بنانے والی اور انسانی ترقی پر مرکوز اصلاحات کا اعلان کیا۔

انہوں نے ایک گھنٹہ سے زائد خطاب کرتے ہوئے، ایک اسلامی فلاحی ریاست تعمیر کرنے سے متعلقاپنی مہم کے دوران کیے گئے وعدوںکو دہرایا لیکن ایسے مسائل کا بھی تذکرہ کیا جن کا ذکر پاکستانی وزرائے اعظم خال ہی کیا کرتے ہیں، مثلاً بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ماحولیاتی تبدیلی۔


19 اگست کو کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی جشن منا رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان قوم کے لیے اپنی ترجیحات بیان کر رہے ہیں۔ [ضیاء الرّحمٰن]

19 اگست کو کراچی میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حامی جشن منا رہے ہیں، جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان قوم کے لیے اپنی ترجیحات بیان کر رہے ہیں۔ [ضیاء الرّحمٰن]

انہوں نے نام لیے بغیر ہمسایوں کے ساتھ پاکستان کے تعلقات، اور بلوچستان اور افغانستان کے ساتھ سرحد کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقہ جات میں سیکیورٹی بہتر بنانے کا عہد کیا۔

انہوں نے کہا، "ہم امن چاہتے ہیں کیوںکہ بحالیٴ امن تک پاکستان پھل پھول نہیں سکتا۔"

خان نے کہا کہ انہوں نے وزارتِ داخلہ کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے کیوں کہ وہ غیرقانونی ترسیلِ زر اور ناجائز استحصال کے خلاف اقدامات کی ذاتی طور پر نگرانی کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے ایک تدریجی ٹیکس نظام کو ناگزیر قرار دیا اور ضرورت مندوں کے فائدہ کے لیے دولتمندوں کو بلند شرحِ فیصد ادا کرنے کی ترغیب دی۔ تاہم، انہوں نے وضاحت نہیں کی کہ وہ، بطورِ خاص دولتمندوں پر، مزید ٹیکسیشن کیسے نافذ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی قرضہ کم کرنے کے لیے پاکستان سادگی کی ایک مہم کا آغاز کرے گا۔ آغاز کے لیے خان نے اپنے اور ملک کے بجٹ کو کم کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا، جس میں وزیرِ اعظم کے دفتر کے عملہ کو 524 سے کم کر کے 2 تک لانا شامل ہے۔

انہوں نے کہا، "میں تین بیڈ روم کے ایک گھر میں رہوں گا جو ملٹری سیکریٹری کے گھر کے طور پر استعمال ہوتا تھا،" انہوں نے مزید کہا کہ وزیرِ اعظم کی سرکاری رہائش گاہ کو ایک یونیورسٹی بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا، "میں بدعنوانوں کے خلاف لڑوں گا۔ یا تو یہ ملک بچے گا، یا بدعنوان [بچیں گے]۔"

خان کی تقریر کے دیگر بڑے نکات میںمالیاتی، تعلیمی اور نگہداشت صحت کے شعبوں کی اصلاحات، ملک کی تعمیرِ نو میں بیرونِ ملک پاکستانیوں سے مدد کا مطالبہ، عدلیہ کی تعمیرِ نو، صوبہ پنجاب میں خیبر پختونخوا کا پولیسنگ ماڈل نافذ کرنا اور طاقت کا اسلام آباد سے انتقال شامل ہیں۔

شان دار وعدے امید لاتے ہیں

خان کے وعدے متعدد پاکستانیوں کے دل کی آواز تھے.

اسلام آباد کے ایک مبصر سیاسی تجزیہ کار اور صحافی صباح سید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خان نے تمام مسائل پر تبادلہ خیال کیا جو عام [شہری] کو ہر روز پیش آتے ہیں۔ "یہ ایک جامع تقریر تھی."

کراچی یونیورسٹی کے ایک طالب علم غوث الدین علی نے کہا کہ انہوں نے محسوس کیا جیسے خان نے براہ راست عوام سے بات کی تھی.

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کو پورا کریں گے کیونکہ انہوں نے تمام مسائل پر تبادلہ خیال کیا ہے."

کراچی میں ایک صحافی امار گوریرو نے ماحولیاتی مسائل کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس قدر تعریف کی کہ خان نے ماحولیاتی تبدیلی، آلودگی اور پاکستان "گرینر" بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا.

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کئی ماحولیاتی چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے جس سے انسانی صحت اور زندگی کو سنگین خطرے کا سامنا ہے.

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کے طور پر اپنی پہلی تقریر میں خان کی طرف سے ماحولیاتی مسائل کے ذکر سے "امید ظاہر ہوتی ہے کہ نئی منتخب حکومت ماحولیاتی مسائل کو سنجیدگی سے لے گی".

ناقدین کا 'سطحی' سیکورٹی منصوبے پر ماتم

تاہم، حزب اختلاف پارٹی رہنماؤں اور دیگر تجزیہ کاروں نے اپنی تقریر میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کو نظر انداز کرنے کے لئے خان پر تنقید کی.

پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رکنِ پارلیمنٹ سعید غنی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "خان نے دہشتگردی کے واقعات میں 70،000 پاکستانیوں کے قاتلوں کے بارے میں ایک ہی لفظ بھی نہیں کہا ."

کوئٹہ میں حالیہ مقیم سیاسی تجزیہ کار اور رہوڈز کے اسکالر رفیع اللہ کاکڑ نے بتایا، خان کی تقریر سے سیکورٹی لائحہ عمل مفقود تھا۔

"خان نے دہشت گردی کے بارے میں صرف ایک سرسری سا حوالہ دیا،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔

"انہوں نے نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ کی بات کی۔ لیکن دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے یہ ایک عبوری انتظام ہے، دہشت گردی کے کثیرالجہتی خطرہ سے نمٹنے کے لئے یہ کافی نہیں ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

12
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha