|

سلامتی

کے پی میں 4 برسوں میں دہشت گردی کے کم ترین واقعات

مکینوں کا کہنا ہے کہ عوام اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے یا خریداری کرنے جانے میں اب اتنے خوفزدہ نہیں ہیں جتنے ماضی میں ہوا کرتے تھے۔

از جاوید خان


پاکسانی فوجی اور پولیس کے سپاہی 7 فروری کو ہری پور سینٹرل جیل کے باہر پہرے پر کھڑے ہیں، جہاں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے اپریل 2017 میں مردان میں مشال خان کے قتل کے ملزمان کے خلاف فیصلہ سنایا۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

پاکسانی فوجی اور پولیس کے سپاہی 7 فروری کو ہری پور سینٹرل جیل کے باہر پہرے پر کھڑے ہیں، جہاں انسدادِ دہشت گردی کی ایک عدالت نے اپریل 2017 میں مردان میں مشال خان کے قتل کے ملزمان کے خلاف فیصلہ سنایا۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

پشاور -- حکام کے مطابق، خیبرپختونخوا (کے پی) کی امن و امان کی صورتحال میںمتواتر بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس میں چار برسوں میں دہشت گردی کے کم ترین واقعات شامل ہیں۔

کے پی پولیس کے ترجمان وقار احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سنہ 2018 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران دہشت گردی کے 21 واقعات کی اطلاع دی گئی، جبکہ اس کے مقابلے میں گزشتہ برس اتنے ہی عرصے میں 53 واقعات ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ یہ "گزشتہ چار برسوں میں [دہشت گردی کے واقعات کی] کم ترین تعداد ہے"۔ پولیس نے سنہ 2014 میں اتنے ہی عرصے کے دوران 52 واقعات، سنہ 2015 میں 108 واقعات، سنہ 2016 میں 113 واقعات اور 2017 میں 53 واقعات ریکارڈ کیے تھے۔

احمد نے کہا کہ رپورٹنگ کے اسی عرصے کے دوران، کے پی شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے 419 دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) کو ناکارہ بنایا۔ اس کے مقابلے میں، سی ٹی ڈی نے سنہ 2014 میں اتنے ہی عرصے کے دوران 77 بموں، سنہ 2015 میں 228 بموں، سنہ 2016 میں 206 بموں اور سنہ 2017 میں 152 بموں کو ناکارہ بنایا تھا۔

کے پی پولیس نے دیگر جرائم جو کہ کے پی میں عروج پر تھے میں بھی کمی ریکارڈ کی۔

پشاور میں سینٹرل پولیس دفتر کے مطابق، مثال کے طور پر، جنوری سے مئی تک بھتہ خوری کے 10 واقعات کی اطلاع دی گئی، جس کے مقابلے میں سنہ 2014 میں اتنے ہی عرصے کے دوران 58 واقعات، سنہ 2015 میں 113 واقعات، سنہ 2016 میں 67 واقعات اور سنہ 2017 میں 44 واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔

احمد نے کہا، "علاوہ ازیں، پہلے پانچ ماہ کے عرصے میں ٹارگٹ کلنگ کے 15 واقعات کی اطلاع دی گئی، جبکہ سنہ 2014 میں [اتنے ہی عرصے میں] 8 واقعات، سنہ 2015 میں 55 واقعات، سنہ 2016 میں 77 واقعات اور سنہ 2017 میں 29 واقعات کی اطلاع دی گئی تھی۔"

جنوری تا مئی 2018 میں اغواء برائے تاوان کی تین وارداتیں ریکارڈ کی گئیں، اس کے مقابلے میں سنہ 2014 میں اتنے ہی عرصے کے دوران 17 وارداتیں، سنہ 2015 میں 26 وارداتیں، سنہ 2016 میں 16 وارداتیں اور سنہ 2017 میں 7 وارداتیں ریکارڈ کی گئیں۔

حفاظت کی بحالی

پشاور کے ایک مقامی صحافی رفعت اللہ اورکزئی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مؤثر کارروائیاں نیز کے پی پولیس کی قربانیاں صوبے اور باقی ملک میں امن و امان کی بہتر صورتحالکو واپس لائی ہیں۔

انہوں نے کہا، "عوام کی بہادری کا سیکیورٹی فورسز کی کوششوں اور قربانیوں کے ساتھ ملنا وہ چیز ہے جو کے پی اور باقی ملک میںدہشت گردوں کی شکستکی طرف لے کر گئی ہے۔"

پشاور کے مضافاتی علاقے میں 40 سال عمر کے پیٹے میں ایک تاجر، عبدالہادی نے کہا کہ کے پے کے مکین اب تحفظ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم روزانہ پشاور اور دیگر بہت سے اضلاع میں بم دھماکوں کے بارے میں سنا کرتے تھے۔ ابھی بھی دہشت گردی کے کچھ واقعات ہو رہے ہیں ۔۔۔ لیکن بہتری بہت نمایاں ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ عوام اب اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے یا خریداری کے لیے جانے میں اتنے خوفزدہ نہیں ہیں جتنے وہ ماضی میں ہوا کرتے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج