|

سلامتی

دیر میں سیکیورٹی فرائض کی منتقلی علامتِ امن کے طور پر دیکھی جا رہی ہے

پاک فوج نے 11 اپریل کو دیر بالا اور دیر زیریں کی سولین حکومت کو سیکیورٹی فرائض منتقل کر دیے۔

اشفاق یوسفزئی


11 اپریل کو بالمبٹ میں پاک فوج کی جانب سے سیکیورٹی فرائض دیر بالا اور دیر زیریں کی سول انتظامیہ کے حوالہ کیے جانے کی ایک تقریب میں مالاکنڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل علی عامر اعوان خطاب کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

11 اپریل کو بالمبٹ میں پاک فوج کی جانب سے سیکیورٹی فرائض دیر بالا اور دیر زیریں کی سول انتظامیہ کے حوالہ کیے جانے کی ایک تقریب میں مالاکنڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل علی عامر اعوان خطاب کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

پشاور – حکام اور مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فرائض دیر، خیبر پختونخواہ (کے پی) کی سول انتظامیہ کو منتقل کیے جانے کا پاک فوج کا فیصلہ خطے میں بحالیٴ امن کی ایک علامت ہے۔

11 اپریل کو بالمبٹ میں ایک تقریب کے دوران عسکری حکام سیکیورٹی فرائض دیر بالا اور دیر زیریں کی سولین حکومتوں کے حوالے کر دیے۔

ڈان نے خبر دی کہ تقریب میں مالاکنڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل علی عامر اعوان نے کہا کہ ایک دہائی قبل جب عسکریت پسندوں نے حکومت کے اختیار کو للکارنا، سکولوں کو اڑانا اور بم اور خود کش حملے کرنا شروع کیے تو پاک فوج کو مالاکنڈ ڈویژن کے سات اضلاع میں تعینات کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اب جیسا کہ عسکریت پسندوں کی بیخ کنی کر دی جا چکی ہے، دیر بالا اور دیر زیریں کے تمام ناکے پولیس کے حوالہ کر دیے گئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں میں رہیں گی اور امنِ عامہ کو برقرار رکھنے میں سول انتظامیہ سے مکمل تعاون کریں گی۔

اعوان نے خطے میں بحالیٴ امن میں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سول انتظامیہ کے کردار کی پذیرائی کی، انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف لڑائی میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران 470 فوجی شہید ہوئے۔

منتقلی کا ایک طویل عرصہ

ڈان نے 12 اپریل کو خبر دی کہ قبائلی علاقہ جات میں سیکیورٹی کی منتقلی کی پلاننگ کا آغاز 2017 کے اواخر میں ہوا۔

مالاکنڈ ڈویژن میں اس عمل کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا، جہاں نفاذِ قانون کی سولین ایجنسیاں فوج کی سابق ذمہ داریاں اٹھانے میں مستعد تر معلوم ہوتی ہیں۔

مالاکنڈ کے کمشنر سید زہیر الاسلام نے پاکستان فاروڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے نہ صرف امن بحال کیا بلکہ طالبان کے ہاتھوں تباہ ہونے والے 300 سکولوں کو بحال کیا اور 32 نئے سکول بنائے۔

انہوں نے کہا، "فوج نے دہشتگردی سے متعلقہ سانحات سے نمٹنے کے لیے پولیس کو تربیت دی ہے۔"

زہیر نے 12 اپریل کو ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ سوات میں دیر کے ساتھ ملحقہ سیکیورٹی چیک پوائنٹس کی تعداد 60 سے کم ہو کر 6 رہ گئی ہےاور فوج سے سول انتظامیہ کو ذمہ داریوں کی منتقلی کا عمل جلد مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "فوج، پولیس اور مقامی رہائشیوں کی مشترکہ کاوشوں اور قربانیوں کے نتیجہ میں بطورِ کل اطمینان بخش سیکیورٹی صورتِ حال ممکن ہوئی۔"

قیامِ امن، عسکریت پسندوں کی واپسی کی انسداد

کے پی وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری عمل کی جانب ایک عزم نے معمول کی جانب واپسی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا، "دس برس قبل جب عسکریت پسند سوات میں نمودار ہوئے تو ہمارے لوگوں نے شدید مشکلات کا سامنا کیا، لیکن انہوں نے شدت پسندی کے خلاف اتحاد کا مظاہرہ کیا اور ایک چٹان کی طرح فوج کے پیچھے کھڑے رہے۔"

دیر سے تعلق رکھنے والے ایک ٹرانسپورٹر مشتاق احمد نے امن برقرار رکھنے میں فوج اور سیاسی قائدین کی کاوشوں کی پذیرائی کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اب مقامی انتظامیہ سیکیورٹی فرائض لے سکتی ہے کیوں کہ رہائشی تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں اور وہ مستقبل میں شدت پسندوں کے قدم جمانے کو مسترد کرتے ہیں۔"

مالاکنڈ یونیورسٹی کے ایک سیاسیات کے لکچرار نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے اور تجارتی، تعلیمی اور کھیلوں کی سرگرمیاں پورے عروج پر ہیں۔ اب عوام عسکریت پسندی کو اپنی تمام اقسام میں مسترد کرنے کے لیے متحد ہے۔"

پائیدار امن

پاکستان کی قومی اسمبلی میں سوات سے تعلق رکھنے والے ایک قانون ساز مراد سعید نے عسکریت پسندی اور دہشتگردی کے لیے زرخیز زمینوں کے خاتمہ کو فوج، سول حکومت اور عوام کا مرہونِ منّت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فرائض کی منتقلی "علاقہ کی معاشی ترقی کے دور کی جانب رہنمائی کرے گی اور رہائشی امن کے ثمرات حاصل کریں گے۔"

عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ میاں افتخار حسین نے فوج پر امن کو سبوتاژ کرنے کی دھمکی دینے والے تمام کے خلاف اپنی مہم جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "سول انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی چھوٹ عسکریت پسندوں کو مستحکم بنا سکتی ہے اور ہمیں صورتِ حال پر کڑی نگرانی رکھنی ہے۔"

انہوں نے کہا، "مالاکنڈ کے رہائشی شدت پسندی کے بدترین شکار رہے ہیں، اور انہیں صورتِ حال کا ادراک کرنا چاہیئے اور ایک دیرپا امن کے لیے پوری طرح سے انتظامیہ کی حمایت کرنی چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج