http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2017/01/24/feature-02
| سلامتی

خیبرپختونخوا میں پولیس کو دہشت گردی کے واقعات میں کمی لانے پر خراجِ تحسین

از جاوید خان

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز پشاور سجاد خان (بائیں سے دوسرے) 18 جنوری کو دہشت گرد حملے کے تناظر میں مقامی حفاظتی اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے۔ [بشکریہ پشاور پولیس]

پشاور -- حکام نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں کئی برسوں بعد سنہ 2016 میں دہشت گردی کے واقعات کی سب سے کم تعداد دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں پورے صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سنہ 2016 میں صوبے میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد گزشتہ چھ برسوں میں سب سے کم تھی، جو ایک ثبوت ہے کہ فوج اور پولیس کی کوششوں نے امن و امان کی صورتحال کو بہت حد تک بہتر بنایا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس، خصوصاً شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی)، نے مخبری پر مبنی تلاشی و گرفتاری کی کارروائیوں کے ذریعے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور بہت سی نئی پولیس اصلاحات کے ذریعے عسکریت پسندوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

سنہ 2015 میں 297 اور سنہ 2014 میں 610 کے مقابلے میں، سنہ 2016 میں صوبے کے اندر دہشت گردی کے 238 واقعات ہوئے، کا اضافہ کرتے ہوئے درانی نے کہا، "اگر ہم سنہ 2016 میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد کا موازنہ کریں، یہ 2015 اور 2014 سے بدرجہا بہتر ہے۔"

انہوں نے کہا، "بھتہ خوری کے واقعات بھی 2016 میں کم ہو کر 100 ہو گئے ہیں جو کہ سنہ 2014 میں 344 اور سنہ 2015 میں 178 تھے۔"

فوجی کارروائی، پولیس اصلاحات نے کامیابی دلائی ہے

سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل آئی جی پی صلاح الدین محسود نے 16 جنوری کو پشاور میں مرکزی پولیس دفتر میں درانی کو تازہ ترین اعدادوشمار پر بریفنگ دی۔

محسود، جو کہ تقریباً دو برسوں سے سی ٹی ڈی کی سربراہی کر رہے ہیں، نے کہا، "بم دھماکوں اور بھتہ خوری کے واقعات کے علاوہ، اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کی تعداد سنہ 2016 میں 22 ہو گئی، [جو کہ] سنہ 2014 میں 110 اور سنہ 2015 میں 53 تھی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، کہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں نے "کے پی میں امن و امان کی صورتحال پر نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پولیس کے لیے، دو بڑی مشکلات تھیں: اول، فرار ہوتے ہوئے جنگجوؤں کو پکڑنا جو کہ آپریشن کے نتیجے میں آبادی والے علاقوں میں فرار ہو گئے تھے، اور دوم، ان کے مزید نفوذ کو روکنا۔"

محسود کے مطابق، کے پی پولیس نے جون 2014 میں آپریشن ضربِ عضب (فوج کی شمالی وزیرستان میں کارروائی) کے بعد 1،195 بڑے جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے۔

انہوں نے کہا، "اس کے علاوہ، 121 چوٹی کے مطلوب افراد جن کے سروں پر انعام مقرر تھے انہیں بھی گرفتار کیا گیا۔ دہشت گردی کے کُل 1،192 مقدمات کا سراغ لگایا گیا اور عدالت میں بھیجے گئے۔"

انہوں نے کہا جبکہ دہشت گردی کے خطرات کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے سبوتاژ کی کسی بھی سرگرمی کو ناکام بنانے کے لیے انتہائی چوکس رہے ہیں۔

درانی نے کہا، "جو افراد کے پی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں اگر انہیں تیزی کے ساتھ نہ پکڑا جاتا تو وہ صوبے میں طوفانی تباہی مچا دیتے۔"

انہوں نے کہا، علاوہ ازیں پولیس نے ایسے جائیداد مالکان کے خلاف کارروائی کی ہے جنہوں نے عسکریت پسندوں کے شہروں میں چھپنے کو روکنے والے نئے قانون کے مطابق دیگر علاقے سے آنے والے کرایہ داروں کا اندراج نہیں کروایا تھا۔

انہوں نے کہا، "22،500 تک کی تعداد میں مقدمات ایسے مالکان کے خلاف درج کیے گئے جنہوں نے کرایہ داروں کا اندراج نہیں کروایا تھا یا ان کی تفصیلات پولیس کو فراہم نہیں کی تھیں۔"

مکمل امن کے لیے متواتر کوششوں کی ضرورت

قومی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے سابق قومی رابطۂ کار اور سابق آئی جی پی، پشاور کے ظفر اللہ خان نے کہا کہ کے پی اور باقی ماندہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کی تعداد میں مجموعی کمی حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا میں فوجی کارروائیوں نیز آبادی والے علاقوں میں پولیس کارروائیوں نے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔"

انہوں نے مزید کہا، تاہم، کے پی اور باقی ماندہ ملک میں مکمل امن قائم کرنے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، "قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھا کام کیا ہے اور اسے اس وقت تک جاری رکھنے کی ضرورت ہے جب تک کہ امن مکمل طور پر قائم ہو جائے۔"

کے پی کے مکینوں نے خودکش حملوں، بم دھماکوں، راکٹ حملوں اور دہشت گردی سے متعلقہ دیگر واقعات میں کمی پر سکھ کا سانس لیا ہے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک یونیورسٹی کے طالب علم عبدالرحمان نے کہا، "ایک وقت تھا کہ جب آپ صبح اٹھتے ہی دھماکے کے بارے میں سنتے تھے اور رات سوتے وقت راکٹوں کے دھماکے سنتے تھے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پولیس، فوج، قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی کوششوں اور حکومتی منشاء نے زندگی سے دوبارہ لطف اندوز ہونے کو ممکن بنایا ہے۔

اسکولوں اور عوامی مقامات کی حفاظت پر زور دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے عبدالرحمان نے کہا، "اگلے چند برسوں میں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ۔۔۔ اس وقت تک نہیں رکنا چاہیئے تاوقتیکہ حالات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha