|

سلامتی

2017 میں کے پی میں دہشتگردی کم ترین سطح پر پہنچ گئی

پولیس کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے آپریشن کیے جانے کے ساتھ صوبے میں دہشتگرد حملوں کی تعداد دس برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

جاوید خان


14 دسمبر کو کے پی پولیس حیات آباد میں ایک فرضی سیکیورٹی مشق کر رہی ہے۔

14 دسمبر کو کے پی پولیس حیات آباد میں ایک فرضی سیکیورٹی مشق کر رہی ہے۔

پشاور – حکام کا کہنا ہے کہ پاک فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے موٴثر آپریشنز کی وجہ سے خیبرپختونخوا (کے پی) میں دہشتگردانہ سانحات دس برس کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "رواں برس رپورٹ کیے جانے والے دہشتگردانہ واقعات نہ صرف گزشتہ برس ہونے والوں سے نصف تھے بلکہ ایک دہائی سے زائد عرصہ میں کم ترین تھے۔"

انہوں نے کہا 2016 میں کل 258 واقعات کے مقابلے میں رواں برس کے آغاز سے 14 دسمبر تک 126 واقعات کی اطلاع کی گئی۔

محسود نے کہا، "یہ گزشتہ برس کے مقابلے میں 51 فیصد سے زائد کی بہتری کی عکاسی کرتا ہے، جو کہ پہلے ہی متعدد برسوں میں بہترین تھا۔"

سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حملوں کا انسداد

محسود نے 21 فروری کو ضلع چارسدہ، تحصیل تنگی میں عدالت پر حملے اور یکم دسمبر کو پشاور میں زرعی تربیتی ادارے پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کے پی میں رواں برس صرف دو بڑے دہشتگردانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔

انہوں نے کہا، "اموات اور نقصان کو کم کرنے کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر ان دونوں حملوں کا فوری ردِّ عمل دیا۔"

انہوں نے کہا کہ رواں برس کے پی پولیس کے شعبہٴ انسدادِ دہشتگردی (سی ٹی ڈی) نے متعدد آپریشن کرتے ہوئے 470 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔

انہوں نے کہاکہ اگرچہ اب بھی دہشتگردی ایک خدشہ ہے، "ایک امر یقینی ہے – دہشتگردوں کا نیٹ ورک ٹوٹ چکا ہے۔ وہ 2009 اور 2010 جیسی صورتِ حال کو دہرا نہیں سکتے۔"

انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس اور صوبے کی عوام نے بہادری سے دہشتگدی کے خلاف جنگ کی ہے – یہی وجہ ہے کہ امنِ عامّہ کی صورتِ حال بہت بہتر ہو گئی ہے۔

محسود نے کہا، "نفاذِ قانون کے اداروں نے [2017] میں 95 دہشتگرد حملے ناکام بنائے،" انہوں نے مزید کہا کہ 179 عسکریت پسند گرفتار ہوئے، "جن میں سے متعدد کے سروں پر لاکھوں روپے [انعام] تھا۔"

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد طاہر نے کہا کہ صوبے کے دورافتادہ علاقوں کے ساتھ ساتھ پشاور میں بھی پولیس چاق و چوبند ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم ملزمان کی حرکت کو کچلنے کے لیے جہاں ضرورت ہو تلاش اور چھاپے کی کاروائیاں بڑھا دیتے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس نے باہر سے حملے روکنے کے لیے قبائلی پٹی کے قریب دیہات میں گشت میں اضافہ کر دیا ہے اور اضافی چوکیاں بنائی ہیں۔

مزید برآں، طاہر نے کہا کہ مستعدی کی اعلیٰ سطح کو برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی فورسز حساس تنصیبات، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر اور ان کے اطراف باقاعدگی سے فرضی سیکیورٹی مشقیں منعقد کرتی ہیں۔

جرائم کی شرح میں کمی

کے پی پولیس کے ترجمان ڈاکٹر زاہد اللہ خان کے مطابق، کے پی میں دہشت گرد حملوں میں کمی کے ساتھ جرائم کے دیگر واقعات بھی کم ہوئے ہیں۔

"رواں سال کے دوران تاوان کے واقعات میں 2016 کے مقابلے میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ 2017" میں گزشتہ سال کے مقابلے میں قتل کے واقعات 7 فیصد، کم ہوئے، اغوا12 فیصد، کار چوری 26 فیصد اور ڈاکہ زنی میں 34 فیصد کمی آئی ہے۔"

خان نے بتایا، جب ہم نے دہشت گردی کے مجموعی اعدادوشمار کا تقابل کیا تو ایک دہائی سے زیادہ میں 2017 سب سے پرامن ثابت ہوا۔

انہوں نے بتایا، سیکورٹی فورسز نے اس سال خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 1,000 سے زیادہ آپریشنز، 12,248 تلاشیاں اور چھاپہ مار کارروائیاں کیں۔

"ہم نے 378,000 سے زیادہ کرائے کے مکانوں کی تلاشی لی اور 12,891 کرایہ داروں [اور مالکان] کے خلاف مقدمات قائم کیے جنہوں نے مقامی پولیس کے پاس اندراج نہیں کرایا تھا،" خان نے بتایا۔ "صوبے میں کوئی دہشت گرد ٹھکانہ حاصل نہیں کر سکتا ہے۔"

مزید خوف نہیں

پشاور میں مقیم ایک صحافی قیصر خان نے بتایا، "ایک وقت تھا جب ہم پر تقریباً روزانہ دہشت گرد حملے ہوتے تھے، جن سے بہت سی جانیں جاتیں اور ان گنت زخمی ہوتے تھے، لیکن آج صورتحال بہت بہتر ہے۔"

2009-2010 کی صورتحال کے مقابلے میں، والدین اپنے بچوں کے اسکول جانے پر ان کے تحفظ سے متعلق اتنے فکرمند نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا، "یہی [سچ] ان لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو رات کے کھانے اور دیگر سماجی سرگرمیوں کے لئے باہر جاتے ہیں جس میں گزشتہ چند سالوں میں امن کی وجہ سے اضافہ ہوا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج