|

سلامتی

پاکستان نے دہشت گرد حملوں کی تازہ لہر کے بعد حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے

پورے ملک میں ہونے والے خودکش بم دھماکوں کے بعد سیکیورٹی حکام نے 'قوم کے لہو کے ہر قطرے' کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔

از جاوید خان


پشاور کے پولیس اہلکار 18 فروری کو ایک راہگیر کی دستاویزات کی پڑتال کرتے ہوئے۔ پاکستان نے دہشت گرد حملوں کی طغیانی کے بعد حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ [جاوید خان]

پشاور کے پولیس اہلکار 18 فروری کو ایک راہگیر کی دستاویزات کی پڑتال کرتے ہوئے۔ پاکستان نے دہشت گرد حملوں کی طغیانی کے بعد حفاظتی اقدامات میں اضافہ کر دیا ہے۔ [جاوید خان]

اسلام آباد -- گزشتہ ہفتے شہریوں کو متحیر کرنے اور اشتعال دلانے والی دہشت گرد حملوں کی لہر کے بعد پاکستانی حکام نے پورے ملک میں حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے ہیں۔

دیگر حملوں کے علاوہ، صوبہ سندھ میں ایک صوفی کے مزار پر 16 فروری کو ہونے والے خودکش بم دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق اور سینکڑوں زخمی ہوئے، 15 فروری کو پشاور اور مہمند ایجنسی میں چار خودکش بمباروں نے حملے کیے، اور ایک اور خودکش حملہ 13 فروری کو لاہور میں ہوا۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان نے ہفتہ (18 فروری) کے روز کہا کہ ملک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

"حتیٰ کہ قومی سلامتی اور امن کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کارروائیوں کو سفارتی ملاحظات بھی نہیں روک سکیں گے،" کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور آنے والے دنوں اور ہفتوں میں بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔"

یہ خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستانی فوج نے افغانستان سے ملحقہ سرحد کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں کی ہیں۔

انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران ترتیب دی گئی مجموعی حفاظتی حکمتِ عملی میں ابتدائی مراحل ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے نثار نے کہا، "غیر ملکی سرزمین سے ابھرتی ہوئی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے، نیز ملک کے اندر موجود ان کے سہولت کاروں کے خلاف مزید کارروائیاں کی جائیں گی۔"

حفاظتی اقدامات میں اضافہ، مخبری پر مبنی کارروائیاں

خیبرپختونخوا (کے پی) کے پشاور میں مرکزی پولیس دفتر (سی پی او) نے پولیس افسران کو اچانک تلاشی اور تلاشی کی کارروائیوں میں اضافہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ میں پولیس کو مخبری کی ان اطلاعات کے جواب میں خصوصی طور پر چوکس رہنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جن میں نشاندہی کی گئی تھی کہ دہشت گرد ان علاقوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دیگر سی پی اوز نے بھی ایسی ہی ہدایات جاری کی تھیں۔ مزید برآں، 16 فروری کو کے پی سی پی او کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا کہ کے پی پولیس کے اعلیٰ حکام اگلے دو ہفتوں کے دوران چھٹی کے لیے دی گئی تمام درخواستوں پر غور نہیں کریں گے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) ناصر خان درانی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "تمام ریجنل پولیس افسران [آر پی اوز] کو حالیہ حملوں کے تناظر میں اور بے عیب حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تمام عوامی مقامات اور حساس تنصیبات کی حفاظت کا جائزہ لینے کی ہدایت کی گئی ہے۔"

درانی نے 14 فروری کو پشاور میں ہونے والے اعلیٰ پولیس حکام اور انسدادِ دہشت گردی کے حکام کے اجلاس کی صدارت کی۔ کانفرنس میں، سپیشل برانچ کے ایڈیشنل آئی جی پی صلاح الدین محسود نے امن و امان کی مجموعی صورتحال کے بارے میں بات کی۔

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، محسود نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے کئی عسکری گروہوں نے دشمن غیر ملکی عناصر کے ساتھ ہاتھ ملا لیے ہیں۔

درانی نے کہا، "آر پی اوز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ عدالتوں، تھانوں، [دیگر] عوامی مقامات، تعلیمی اداروں اور ہسپتالوں کی حفاظت کا ذاتی طور پر یا خصوصی ٹیموں کے ذریعے جائزہ لیں۔"

پشاور کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس آپریشنز سجاد خان نے کہا کہ پولیس نے تلاشی کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں اور پشاور میں گشت بڑھا دیا ہے۔

پولیس نے 17 فروری کو ریگی میں تین دہشت گردوں کو گولی مار دی، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حالیہ دھمکیوں کے تناظر میں پولیس کو چوکس رہنے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔"

پنجاب کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس سہیل حبیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حفاظتی اقدامات بڑھا دیئے گئے ہیں اور پولیس کو چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔"

حملوں کی لہر

حالیہ ہفتوں میں پورے پاکستان میں تشدد کی لہر کے بعد دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔

پُرتشدد واقعات میں تیزی 13 فروری کو آئی تھی جب ایک خودکش بمبار نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے قریب ایک پُرامن احتجاج کو نشانہ بنایا تھا، جس میں چھ پولیس افسران سمیت، 15 افراد جاں بحق اور 87 زخمی ہو گئے تھے۔

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دھڑے جماعت الاحرار نے اس دھمکی کے ساتھ دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی کہ یہ سرکاری تنصیبات کے خلاف منصوبہ بندی کردہ حملوں کے سلسلے کا "محض ایک آغاز" ہے۔

15 فروری کو، ٹی ٹی پی کے ایک خودکش بمبار نے حیات آباد، پشاور میں کئی ججوں کو لے جا رہی گاڑی کے ساتھ موٹرسائیکل ٹکرا دی تھی۔ وین کا ڈرائیور جاں بحق ہو گیا اور چار ججوں سمیت پانچ دیگر پاکستانی زخمی ہوئے تھے جن میں تین خواتین تھیں۔

اسی روز اس سے پہلے، دو خودکش بمباروں نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی مہمند ایجنسی میں ایک سرکاری عمارت پر حملہ کیا تھا، جس میں پانچ افراد جاں بحق اور سات زخمی ہوئے تھے۔

بعد ازاں، پولیس نے کہا کہ ایک اور خودکش بمبار نے خود کو اس وقت دھماکے سے اڑا لیا تھا جب سیکیورٹی فورسز نے اسے علاقے میں تلاشی کے دوران گھیر لیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق، اگلے روز، "دولتِ اسلامیہ عراق و شام" (داعش) کے ایک خودکش بمبار نے سیہون، صوبہ سندھ میں 13 ویں صدی کے مسلمان صوفی بزرگ لعل شہباز قلندر کے مزار پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا تھا، جس میں 90 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔

دو برس سے زائد عرصے میں یہ پاکستان میں ہونے والا سب سے زیادہ خونریز حملہ تھا۔

پاکستان حکام انتقام کے خواہشمند

پاکستانی حکام انتقام لینے کا عہد کر رہے ہیں۔

دھماکے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک بیان میں کہا، "قوم کے لہو کے ایک ایک قطرے کا حساب، اور فوری انتقام لیا جائے گا۔"

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے ایک بیان کے مطابق، باجوہ نے قوم سے پُرسکون رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "آپ کی سیکیورٹی فورسز مخالف قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔ ہم اپنی قوم کے لیے کھڑے ہیں۔"

باجوہ نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف، گورنر سندھ محمد زبیر عمر اور دیگر حکام کے ہمراہ 17 فروری کو صوفی کے مزار پر بم حملے کے زخمیوں کی عیادت کی اور شہداء کے اہلِ خانہ کے ساتھ تعزیت کی۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق نواب شاہ میں ایک ہسپتال جہاں زخمی زیرِ علاج ہیں، کے دورے کے موقع پر نواز شریف نے کہا، "حکومت اور فوج دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑنے کا عہد کرتے ہیں۔"

وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وعدہ کیا کہ حکام جلد ہی لعل شہباز قلندر پر ہونے والے دھماکے کے منتظمین کو گرفتار کر لیں گے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق، انہوں نے اتوار (19 فروری) کو مزار پر کہا، "یہ متحد ہونے اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا وقت ہے۔"

سخت حفاظتی اقدامات

حکام کا کہنا ہے کہ مخبری پر مبنی کارروائیوں اور جامع تلاشی کی کارروائیوں کے فوری نتائج نکل رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے 17 فروری کو ایک بیان میں کہا کہ لعل شہباز قلندر کے مزار پر حملے کے اگلے روز پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 100 سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کیا اور "کافی تعداد میں گرفتاریاں" کیں۔

پاکستانی فوج جس نے بم دھماکوں کے بعد افغانستان کے ساتھ سرحد کو بند کر دیا تھا سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کی مشتبہ پناہ گاہوں کو کھوج رہی ہے۔

اے ایف پی نے کہا، "پاکستانی فوج نے کہا کہ اختتامِ ہفتہ پر سرحد پر دونوں جانب فضائی حملے کرنے کے بعد، سوموار [20 فروری] کو اس نے افغانستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو اڑانے کے لیے بھاری توپ خانے کا استعمال کیا۔"

اے ایف پی نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے سخت کارروائی کی وجہ سے سرحد کے دونوں اطراف "سینکڑوں خاندان" علاقہ چھوڑ کر چلے گئے۔

ڈان کے مطابق، پنجاب میں، 17 فروری کو ایک نیوز کانفرنس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے اعلان کیا کہ پولیس نے لاہور میں 13 فروری کو ہونے والے خودکش حملے کے مبینہ سہولت کار کو گرفتار کر لیا ہے۔

اپنے ریکارڈ شدہ اعترافی بیان، جو نیوز کانفرنس کے دوران دکھایا گیا تھا، میں ملزم، جس کی شناخت انوار الحق کے نام سے ہوئی ہے، نے خودکش بمبار کی پشاور سے لاہور پہنچنے میں مدد کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

وہ تقریباً 15 سے 20 بار افغانستان گیا تھا، کا اضافہ کرتے ہوئے اس نے کہا، "میں جماعت الاحرار سے وابستہ تھا، اور انہوں نے مجھے تربیت دی تھی۔"

مقامی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ ہفتہ (18 فروری) کے روز، سیکیورٹی فورسز نے ملزم کے بھائیوں خلیل اللہ اور حمید اللہ کو مہمند تحصیل، باجوڑ ایجنسی سے گرفتار کیا تھا۔

فوری کارروائی کی ضرورت

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر، سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے فوری کارروائی کرے۔

انسدادِ دہشت گردی کی حکمتِ عملی جو حکومت نے دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کی جانب سے قتلِ عام کے فوراً بعد بنائی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت کو چاہیئے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرے اور ملک میں امن کو یقینی بنائے۔"

پنجاب اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے 17 فروری کو ایک قرارداد جمع کروائی کہ حکومت امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

انہوں نے قرارداد میں کہا، "صوبائی اسمبلی کو چاہیئے کہ وفاقی حکومت سے سرحد پر حفاظتی اقدامات سخت کرنے کے لیے کہے تاکہ کوئی بھی دہشت گرد حملے کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل نہ ہو سکے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج