|

سلامتی

نئے کورس سے کے پی پولیس کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں میں بہتری

آپریشنل کمانڈ کورس کا مقصد درمیانی سطح کے افسران کو اس بات کی تربیت دینا ہے کہ دہشت گردی کے ہنگامی حالات میں ردعمل کا اظہار کیسے کیا جائے اور چھاپے کیسے مارے جائیں۔

عدیل سید


نوشہرہ میں ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں آٹھ ہفتوں پر مبنی آپریشنل کمانڈ کورس کے آخری دن، ایک استاد 19 اکتوبر کو پولیس افسران کے سامنے ایک پیش کش کرتے ہوئے۔ ]کے پی پولیس[

نوشہرہ میں ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر میں آٹھ ہفتوں پر مبنی آپریشنل کمانڈ کورس کے آخری دن، ایک استاد 19 اکتوبر کو پولیس افسران کے سامنے ایک پیش کش کرتے ہوئے۔ ]کے پی پولیس[

پشاور -- خیبرپختونخواہ (کے پی) میں درمیانی سطح کے پولیس افسران کے لیے آپریشنل کمانڈ کا ایک نیا کورس، ان کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے اور ہنگامی حالات سے نپٹنے کے اعتماد میں اضافہ کر رہا ہے۔ یہ بات حکام اور شرکت کرنے والوں نے کہی۔

پہلے 100 افسران، جنہوں نے دو ماہ کے کورس میں شرکت کی، 19اکتوبر کو نوشہرہ کے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سینٹر سے گریجوئٹ ہوئے۔

دیگر 100 افسران اس وقت تربیت حاصل کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ دسمبر کے آخیر تک گریجوئٹ ہو جائیں گے۔

اس کورس کو درمیانی سطح کے افسران کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے - جو انسپکٹر، سب انسپکٹر یا اسسٹنٹ سب انسپکٹر کا عہدہ رکھتے ہیں اور اس کا مقصد ان کی انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور مختلف طرح کی تحقیقات اور ہنگامی صورتوں کو سنبھالنے کی صلاحیتوں میں بہتری لانا ہے۔

حکام کے مطابق، فورس میں درمیانی سطح کے 20,000 افسران ہیں جو تمام آخرکار آپریشنل کمانڈ کورس میں شرکت کریں گے۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے پاسنگ آوٹ تقریب کے دوران کہا کہ یہ تربیتی کورس کے پی پولیس کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ کورس اس میدان میں خدمات انجام دینے والے تمام اوپری ماتحتوں کے لیے لازمی ہے جس سے دہشت گردی اور جرائم سے لڑنے کی فورس کی صلاحیت میں قابلِ قدر زیادہ اضافہ ہو گا۔ اس کورس میں حاصل کی جانے والی صلاحیتوں اور علم نے شرکاء کو اس قابل بنایا ہے کہ وہ چھاپوں اور سیکورٹی کی خدمات کے دوران زیادہ اعتماد اور جنگی صلاحیتوں کے ساتھ فورسز کو حکم دے سکیں"۔

محسود نے کہا کہ امن و امان کی قومی اور بین الاقوامی صورتِ حال کے باعث، پاکستان میں دہشت گردی کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے۔ تاہم، کے پی پولیس اس سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان چیلنجوں پر پورا اترنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں اپنے فیلڈ کمانڈروں کی انسدادِ دہشتگردی کی صلاحیتوں کو لازمی طور پر قائم اور بہتر بنانا چاہیے"۔

سیکھنے کا ایک معلوماتی تجربہ

کے پی ایلیٹ فورس کے کمانڈنٹ ڈاکٹر محمد نعیم خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ آپریشنل کمانڈ فورس کے گریجویٹس نے "جارحانہ آپریشنز، حدف کو سخت بنانا، سیکورٹی آپریشنز، پبلک سیکورٹی، ابتدائی طبی امداد، ہتھیاروں کو چلانا، موثر طور پر چھاپے مارنا، قافلوں کی حفاظت، گشت کرنا اور رکاوٹیں کھڑی کرنا، گھیرا ڈالنے کی مہمات" کے بارے میں سیکھا۔

کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر حمید خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ بہت زیادہ معلوماتی -- تربیتی تجربہ تھا اور اس تربیت نے دہشت گردوں سے جنگ کرنے اور چھاپوں اور مہمات کے دوران دشمن پر قابو پانے کی بارے میں ہماری سمجھ میں اضافہ کیا"۔

خان نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے ایک پولیس اسٹیشن کے ہاوس آفیسر انچارج کے طور پر خدمات سر انجام دی ہیں مگر وہ چھاپے مارنے اور باغیوں کے خلاف خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مہمات سر انجام دینے کے درکار مناسب پیشہ ورانہ صلاحیتیں نہیں رکھتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ "آپریشنل کمانڈ کورس نے ہمیں ہنگامی حالات کو سنبھالنے اور دہشت گردوں کے خلاف مہمات کی مناسب طور پر منصوبہ بندی کرنے کے بارے میں سکھایا اور تربیت فراہم کی۔

پشاور کے ایک اسٹیشن ہاوس افسر، محمد امتیاز جنہوں نے آپریشنل کمانڈ کورس میں شرکت کی، نے بھی کہا کہ وہ اس تربیت سے پہلے خود کو تیار محسوس نہیں کرتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "جب بھی ہم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مہمات سر انجام دیں، ہم نے ایلیٹ فورس کمانڈروںکو بلایا تاکہ وہ چھاپہ مارنے والی ٹیم کی قیادت کریں۔ میرے پاس اس بات کا مناسب علم نہیں تھا کہ عادی مجرموں اور دہشت گردوں سے زیادہ پیشہ ورانہ طور پر کیسے نپٹا جا سکتا ہے اور میں زیادہ تر ایلیٹ فورس کے افسران پر انحصار کرتا تھا"۔

امتیاز نے کہا کہ "اب مجھے علم ہو گیا ہے کہ صورتِ حال کو کیسے سنبھالنا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس کورس نے ہنگامی صورتِ حال کو زیادہ پیشہ ورانہ طور پر سنبھالنے کے بارے میں علم، صلاحیتیں اور تجربہ فراہم کیا اور یہ حکومت مخالف عناصر سے جنگ کرنے کی پولیس کی اہلیت کو بہتر بنانے میں مدد کرے گا"۔

امتیاز نے کہا کہ "اس تربیت میں حصہ لینے کے بعد، میں کسی بھی دہشت گردی سے متعلقہ ہنگامی حالت کا مقابلہ کرنے میں پراعتماد محسوس کرتا ہوں بجائے اس کے کہ ایلیٹ فورس کا انتظار کروں کہ وہ آ کر ہماری رہنمائی کریں"۔

تربیت سے پیشہ ورانہ اہلیتوں میں اضافہ ہوا ہے

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی اور سیکورٹی کے تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی، جنہوں نے دہشت گردی اور معاشرے پر اس کے اثرات کے بارے میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں، نے کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کے پی پولیس کی طرف سے ادا کیا جانے والا کردار مثالی ہے اور اس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تمام کے پی پولیس، تقریبا 90,000 افسران، کسی نہ کسی قسم کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "دہشت گردی اور اسے سے متعلقہ جرائم جیسے کہ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان سے جنگ کرنے میں، ہماری پولیس نے غیر معمولی بہادری اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے"۔

یوسف زئی نے کہا کہ "آپریشنل کمانڈ کورس نے کے پی پولیس فورس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا ہے اور باغیوں اور حکومت مخالف عناصر کا راستہ روکنے والی فصیل بنانے میں مدد فراہم کی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

Latif ullah | 12-25-2017

ہاں مجھے یہ اداریہ پسند ہے۔


انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج