|

معاشرہ

کے پی کی کھیلوں کی نئی پالیسی کا مقصد نوجوانوں کے لیے صحت بخش، سرگرم اندازِ زندگی

یہ پالیسی تمام نجی اور سرکاری سکولوں کو طالبِ علموں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں اور تنصیبات مہیّا کرنے کی متقاضی ہے۔

دانش یوسفزئی


24 مارچ کو پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمّی، پاکستان سپر لیگ کے فائنل سے قبل کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ایک تربیتی نشست کے دوران بچوں کے لیے آٹوگراف دستخط کر رہے ہیں۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

24 مارچ کو پشاور زلمی کے کپتان ڈیرین سیمّی، پاکستان سپر لیگ کے فائنل سے قبل کراچی کے نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں ایک تربیتی نشست کے دوران بچوں کے لیے آٹوگراف دستخط کر رہے ہیں۔ [آصف حسن/اے ایف پی]

پشاور – خیبر پختونخوا (کے پی) کی کھیلوں کی نئی پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ صوبے میں ایک دہائی سے زائد عرصہ کی عسکریت پسندی اور تشدد کے نتیجہ میں جو معاشرتی اور نفسیاتی زخم نوجوانوں کو درپیش رہے ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔

کے پی کی کابینہ نے 25 اپریل کو کھیلوں کو فروغ دینے اور سکولوں میں صحت بخش اندازِ زندگی کے ایک طریقے کے طور پراس پالیسی کی منظوری دی۔

کے پی کے وزیر برائے کھیل و ثقافت محمود خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "موجودہ حکومت صوبہ کے ہر ضلع میں کھیل کے میدانوں کی تعمیر، کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد اور بالآخر صوبائی کھیل پالیسی کی منظوری جیسی صحت بخش تفریحی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔"

گزشتہ دسمبر میں، حکومتِ کے پی نے پہلی پشاور زلمی لیگ کا انعقاد کیا، جس میں ہر ضلع کے پرائمری سکولوں سے کرکٹ ٹیموں نے شرکت کی۔

حکومت نے مئی 5-7 کو لگاتار تیسری مرتبہ 23 سے کم عمر کے افراد کے کھیلوں کا سلسلہ مکمل کیا۔ جیو نیوز نے خبر دی کہ صوبے بھر سے 3,000 نوجوان مرد و خواتین ایتھلیٹس نے 43 مختلف قسم کی کھیلوں کے مقابلوں میں حصّہ لیا – 17 خواتین کے لیے اور 26 مردوں کے لیے۔

کے پی نظامتِ کھیل کے مطابق، حکومتِ کے پی نے کھیلوں پر 183 ملین روپے (1.6 ملین ڈالر) صرف کیے۔

فاتحین کو وظیفے ملے۔

خان نے کہا کہ یہ تمام کاوشیں نوجوانوں کے لیے ایک صحت مند اور مثبت مستقبل ، کو فروغ دینا ہے جو کہ چند برس پہلے، جب عسکریت پسندی عروج پر تھی، صرف ایک خواب دکھائی دیتا تھا۔

طالبِ علموں کو صحت بخش، مثبت سرگرمیوں میں مشغول رکھنا

اس پالیسی کا مقصد طالبِ علموں کو صحت بخش تفریحی سرگرمیوں میں مشغول رکھنا اور تعلیمی نظام کے ایک جزُ لازم کے طور پر کھیلوں کو فروغ دینا ہے۔

اس اقدام کے تحت، تمام نجی و سرکاری پرائمری سکول ہفتے میں ایک روز کھیلوں کے لیے مختص رکھیں گے۔ پرائمری سطح سے اوپر کے تعلیمی ادارے ہر دوسرے دن دو جماعتیں کھیلوں کے لیے منعقد کریں گے۔

ایکسپریس ٹربیون نے خبر دی کہ سکولوں میں کھیلوں کے میدانوں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ پالیسی ایک کلسٹر نظام متعارف کرواتی ہے جس میں چھ قریبی سکول کھیل کا ایک میدان یا دیگر تنصیبات استعمال کریں گے۔

کھیلوں میں طالبِ علموں کی فعال شرکت کو فروغ دینے کے لیے اس پالیسی نے پانچویں سے آٹھویں جماعت کے لیے تعلیمِ جسمانی کے گریڈ لازم کر دیے ہیں۔

کے پی کے امورِ نوجوانان کے ڈائریکٹرجنرل اسفند یار خان نے کہا، "کھیلوں کی خراب سہولیات اور نوجوانوں کے لیے دستیاب صحتمندانہ اور مثبت سرگرمیوں کی کمی کی وجہ سے کھیلوں کی ایک پالیسی درکار تھی، جو انہیں شدت پسند بھرتی کنندگان اور منشیات کے لیے زدپذیر بنا سکتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ہم نے بہت سی قربانیوں کے بعد امن اور سلامتی حاصل کی ہے، اور ہمیں یہ امر یقینی بنانا ہے کہ یہ ایک دیرپا امن ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صحت بخش سرگرمیوں میں مشغول کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔"

اس پالیسی کے تحت تمام ہائی سکولوں اور ہائر سیکنڈری سکولوں میں ایک کوچ یا تعلیمِ جسمانی کا ڈائریکٹر تعینات کیا جائے گا، اور کے پی حکام جاری تعلیمی کورسز کے ذریعے ان کی استعداد پیدا کرنے میں معاونت کریں گے۔

خان نے کہا، "یہ معین کوچ طالبِ علموں میں کھیلوں کی روح پیدا کرنے اور باصلاحیّت طالبِ علموں کی شناخت اور ضلعی سپورٹس آفس کو ان کی سفارش کرنے کےذمہ دار ہوں گے۔ مزید برآں تمام سکول کھیلوں کے سالانہ مقابلے منعقد کرائیں گے جن میں طالبِ علموں کے مابین انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔"

نئے مواقع کی تخلیق

کے پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر برائے کھیل، نعمت اللہ خان نے کہا کہ پالیسی کا مقصد حاصل کرنے کے لیے نجی سپورٹس کلب، سابق ایتھلیٹس اور کھیلوں کو فروغ دینے والی تنظیموں کو شرکت کرنا ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس طرح سے ہم اپنے نوجوانوں کو پیشہ وارانہ کوچنگ اور تربیت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے اپنے قومی سٹارز کو ملازمت کے مواقع فراہم کر سکیں گے۔"

اس پالیسی پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے شعبہٴ تعلیم کے تمام محکموں اور ان کی متعلقہ نظامتوں میں ایک سپورٹس سیکشن تشکیل دیا جائے گا۔

وہ سکولوں کے مابین مقابلوں کے لیے کھیلوں کے سالانہ کیلنڈر کا انصرام کرنے، ایسے کیلنڈر میں درج سرگرمیوں کی نگرانی اور عملدرآمد کرانے اور سکولوں، کالجوں، تکنیکی اداروں اور جامعات کی بطورِ کل کارکردگی کا تجزیہ کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔

والدین اور طالبِ علموں، ہر دو نے نئی صوبائی کھیل پالیسی کو سکول کے ایک صحتمندانہ ماحول کی جانب ایک مثبت اقدام کے طور پر سراہا۔

گورنمنٹ پرائمری سکول باڑہ گیٹ پشاور میں پڑھنے والے تین بچوں کے والد مدثر رحیم نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کی صحت سے متعلق فکرمند ہیں، کیوں کہ سخت تعلیمی مقابلہ انہیں کسرت کرنے کا کم ہی موقع دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کے بچوں کا پڑھائی کا ایک سخت جدول ہے، کیوں کہ انہیں سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے 90 فیصد سے زیادہ نمبر حاصل کرنا ہوتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس سے کھیلوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں بچتی، جو کہ بچوں کی صحت کے لیے مقدم ہے۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد کھیل نصاب کا جزُ بن جائیں گے۔"

پشاور میں حیات آباد ماڈل سکول کے ایک 15 سالہ طالبِ علم راشد خان نے کہا کہ وہ فٹبال کا ایک عمدہ کھلاڑی ہے اور وہ اسے اپنا پیشہ ورانہ مستقبل بنانا چاہتا ہے۔

اس نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "مجھے یقین ہے کہ اگر درست موقع اور تربیت ملے تو میں قومی فٹبال ٹیم تک راہ بنا لوں گا۔ میرے بہت سے دوست کرکٹ اور والی بال میں اچھے ہیں۔"

اس نے کہا، "یہ پالیسی ہم سب کو اپنی حقیقی استعداد کا ادراک کرنے کا ایک موقع دے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج