|

جرم و انصاف

قوم کو دھچکا دینے والے جرائم کے بعد، پاکستانی بچوں کی بہتر حفاظت کے لیے متحد

ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی جنسی اور متشدد درندوں کے بارے میں آگاہی پیدا کر رہے ہیں جب کہ پولیس ایسے درندوں کو ڈھونڈ کر گرفتار کر رہی ہے۔

جاوید خان


صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف (دائیں) 23 جنوری کو امین انصاری، زینب فاطمہ انصاری کے والد، جو قصور میں زیادتی اور قتل کے بعد ملی تھی، کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ پولیس نے اس واقعہ کے مرکزی مجرم کو پکڑ لیا ہے جس نے زینب سے زیادتی اور اس کے قتل کا اعتراف کیا  ہے اور اس کے ساتھ ہی سات دوسرے بچوں سے سفاکی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[

صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلی شہباز شریف (دائیں) 23 جنوری کو امین انصاری، زینب فاطمہ انصاری کے والد، جو قصور میں زیادتی اور قتل کے بعد ملی تھی، کے ساتھ پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ پولیس نے اس واقعہ کے مرکزی مجرم کو پکڑ لیا ہے جس نے زینب سے زیادتی اور اس کے قتل کا اعتراف کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی سات دوسرے بچوں سے سفاکی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ ]عارف علی/ اے ایف پی[

پشاور -- بہت سی کم عمر بچیوں سے زیادتی اور قتل کے واقعات کے بعد، جنہوں نے پوری قوم کو پریشان کر دیا ہے، پاکستانی حکام، مشہور شخصیات، والدین اور اساتذہ مختلف محاذوں پر اقدامات کر رہے ہیں تاکہ بچوں کی بہتر طور پر حفاظت کی جا سکے۔

#جسٹس فار زینب

پہلا واقعہ جس نے اس سال قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل کی وہ، زینب فاطمہ امین کا تھا جس کی عمر 6 سے8 سال کے درمیان بتائی گئی ہے۔

زینب کو 4 جنوری کو صوبہ پنجاب کی قصور ڈسٹرکٹ سے اغواء کیا گیا۔ پانچ دنوں کے بعد اس کی لاش، جس پر زیادتی کیے جانے کے نشانات تھے، اس کے گھر کر قریب کچرے کے ڈھیر سے ملی۔

اے ایف پی کے مطابق، اس کی لاش کی دریافت سے قصور میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ پاکستان بھر میں موم بتیاں جلا کر یادگاری تقاریب منعقد ہوئیں اور سوشل میڈیا پر جسٹس فار زینب کا ہیش ٹیگ مقبول ہوا۔ مشہور شخصیات، سیاست دانوں اور غصے کے شکار لوگوں نے اقدامات کا مطالبہ کیا۔

حکام کی طرف سے اس بات کی تصدیق کے بعد کہ علی کا ڈی این اے جسے جائے وقوعہ سے حاصل کیا گیا تھا، علاقے میں ہونے والے سات مماثل واقعات سے حاصل کیے گئے نمونوں سے مطابقت رکھتا ہے، پولیس نے 24 سالہ ملزم محمد عمران علی کو 23 جنوری کو قصور کے قریب سے گرفتار کیا۔

گزشتہ دو سالوں میں قتل اور زیادتی کے کم از کم مزید چار دوسرے واقعات بھی رپورٹ کیے گئے ہیں مگر ابھی یہ بات واضح نہیں کہ آیا وہ اس سے تعلق رکھتے ہیں یا نہیں۔

خیبر پختونخواہ میں اسماء

ایک اور واقعہ میں، چار سالہ اسماء خیبر پختونخواہ (کے پی) کی مردان ڈسٹرکٹ میں 13 جنوری کو لاپتہ ہو گئی۔ اس کی لاش اگلے دن مل گئی۔

پولیس نے 6 فروری کو اسماء کے کزن، 15 سالہ محمد نبی کو گرفتار کر لیا۔

مردان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس محمد عالم شینواری نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بہت سی رکاوٹوں کے باوجود، ہم نے کیس کو حل کر لیا اور ملزم کو گرفتار کر لیا"۔

شینواری نے کہا کہ نبی نے گلہ گھونٹ کر اسے مارنے سے پہلے، گنے کے کھیتوں میں بچی سے زیادتی کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے راہنما عمران خان نے اس کیس کو حل کرنے پر کے پی پولیس کی تعریف کی۔

ڈان کے مطابق، انہوں نے کہا کہ اسماء کے قتل اور دوسرے واقعات نے دکھایا ہے کہ "ذرائع ابلاغ اور سیاسی تنقید کے باوجود، ایک پیشہ ورانہ مثالی پولیس فورس کیسے اپنا کام موثر طریقے سے کرتی ہے اور ٹھوس نتائج دکھاتی ہے"۔

بچوں کو جنسی درندوں کے بارے میں تعلیم دینا

ان واقعات نے، بچوں اور ان کے والدین کو، کم عمر بچوں کو جنسی استحصال سے بچانے کے طریقوں کے بارے میں، تعلیم دینے کے لیے ملک بھر میں ایک مہم کو جنم دیا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی تین بچوں کی ماں، نورین سمعی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ طریقے سے بیٹھی اور میں نے انہیں سکھایا کہ اجنبیوں یہاں تک کہ وہ لوگ جنہیں وہ اردگرد سے جانتے ہوں یا رشتہ داروں، کے غیر دوستانہ طور پر چھونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں جن میں بچوں کا استحصال ہوا ہے مگر انہیں کبھی پولیس کے پاس رپورٹ نہیں کیا گیا۔ "زینب کے واقعہ کے بعد، لوگ ایسے واقعات سے اب اپنے بچوں کی بہتر حفاظت کریں گے"۔

اسلام آباد میں قائم رویہ اور علم کی تبدیلی کی ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر شاد بیگم نے کہا کہ "حالیہ واقعات کا مشاہدہ کرنے کے بعد، انسان کا دل کرتا ہے کہ وہ تمام خواتین کو اکٹھا کرے اور ان لوگوں کو سبق سکھا دیے جو خواتین کا استحصال کرتے ہیں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خواتین اور بچوں کا احترام کیا جانا چاہیے اور انہیں زیادتی یا دوسری اقسام کے استحصال کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ "جنسی استحصال وسیع پیمانے پر پھیلا ہوا مسئلہ ہے جسے ایک انفرادی کام کا تجزیہ کرنے سے حل نہیں کیا جا سکتا"۔

بیگم نے کہا کہ والدین، اساتذہ اور معاشرے کے ہر شخص کو نہ صرف اپنے بچوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے بلکہ ایسی ثقافت کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کرنے کی بھی ضرورت ہے جس میں عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا"۔

آگاہی کی وکالت کرنا

پاکستان کی مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر ایک آگاہی کی مہم کا آغاز کیا جس کا مقصد نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کو جنسی استحصال، اغوا اور قتل سے محفوظ رکھنا ہے۔

اداکارہ اور سرگرم کارکن نادیہ جمیل جن کا تعلق لاہور سے ہے، ان مشہور شخصیات میں سے ایک ہیں جنہوں نے بچوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں بچوں کو ایک ایسا ماحول فراہم کرنے کے لیے جہاں وہ اپنے آپ کو محفوظ اور آرام دہ محسوس کریں، مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے"۔

جمیل بچوں اور خواتین کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ٹوئٹر پر ایک مہم چلا رہی ہیں۔

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ "اصلاحات کے لیے دباؤ ڈالیں، بچوں کی حفاظت کے لیے ہمارے قوانین کو جدید کرنے پر دباؤ ڈالیں، شادی کی عمر بڑھائیں، تعلیم کو جدید بنائیں اور اسے لازم کریں اور چائلڈ لیبر کو رپورٹ کریں۔ آئیں ہم سب مل کر اس کے لیے دباؤ ڈالیں"۔

انہوں نے پاکستان کے ہر قصبے پر زور دیا کہ وہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کھیلوں کا تفریحی مرکز قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ "میں نے کھیلوں کو بہت سے استحصال شدہ بچوں کی سمت کو بچاتے ہوئے دیکھا ہے۔ سب بچے ہمارے ہیں۔ ہر صوبہ کو ان سہولیات کو قائم کرنے کی ضرورت ہے مگر کچھ کو اس کی ضرورت دوسروں سے زیادہ ہے"۔

بچوں کی حفاظت کا دن

جیو نیوز نے خبر دی ہے کہ پنجاب، جہاں زینب کا قتل ہوا تھا، صوبائی حکومت نے 7 فرروری کو بچوں کی حفاظت کا دن قرار دیا ہے۔

اس قدم کے حصہ کے طور پر، حکومت نے ایک کتابچہ اور دوسرا تعلیمی مواد شائع کیا ہے جس میں والدین، اساتذہ اور دوسروں کو بتایا گیا ہے کہ بچوں کو نقصان سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔

ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر ایک اشتہار چلایا گیا جس میں بچوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ رشتہ داروں اور اجنبیوں کے جنسی استحصال سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

سرکاری اور نجی اسکولوں میں بہت سے اساتذہ نے اپنے طلباء کے ساتھ خصوصی سیشن منعقد کیے، خصوصی طور پر 10 سال سے کم عمر کے بچوں کے ساتھ، تاکہ انہیں اس موضوع پر سکھایا جا سکے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک استاد، جہانزیب خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تمام اسکولوں اور کالجوں کے اساتذہ کو اپنے طلباء کو بتانا چاہیے کہ کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے"۔

انہوں نے مزید بتایا کہ والدین کو بچوں سے دوستانہ تعلقات رکھنے چاہیں تاکہ وہ کسی ہچکچاہٹ کے بغیر ان سے کسی بھی موضوع پر بات کر سکیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج