2017-01-06 | topic/sports/pakistan

امن کی بحالی کے بعد فاٹا کے شہری کھیلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

اشفاق یوسف زئی

وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) فوج کی طرف سے طالبان کو نکالے جانے اور ترقی کے لیے راہ ہموار کرنے والی مہم کے بعد، کھیلوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔


کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا (سینے پر جیب میں رومال) اکیس دسمبر کو خیبر ایجنسی میں خیبر پیس گیمز - 2016 میں کامیاب ہونے والی ٹیم کو ٹرافی دے رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ کے پی گورنر ہاوس[
کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا (سینے پر جیب میں رومال) اکیس دسمبر کو خیبر ایجنسی میں خیبر پیس گیمز - 2016 میں کامیاب ہونے والی ٹیم کو ٹرافی دے رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ کے پی گورنر ہاوس[
کے پی کے گورنر ظفر اقبال جھگڑا (سینے پر جیب میں رومال) اکیس دسمبر کو خیبر ایجنسی میں خیبر پیس گیمز - 2016 میں کامیاب ہونے والی ٹیم کو ٹرافی دے رہے ہیں۔ ]بہ شکریہ کے پی گورنر ہاوس[

وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقے (فاٹا) فوج کی طرف سے طالبان کو نکالے جانے اور ترقی کے لیے راہ ہموار کرنے والی مہم کے بعد، کھیلوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔

پشاور - وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے شہری، عسکری آپریشن کے بعد کھیلوں کی سرگرمیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں جس نے علاقے کو طالبان کے عسکریت پسندوں سے پاک کیا اور امن قائم کیا ہے۔

جمرود تحصیل، خیبر ایجنسی کے شہری اور والی بال کے بیس سالہ کھلاڑی رفیق احمد نے کہا کہ "ماضی میں، ہمارے لوگ طالبان کے عسکریت پسندوں کے ساتھ اس لیے شامل ہوتے تھے کیونکہ ان کے پاس کھیلوں اور دوسری تفریحی سرگرمیوں کی کمی تھی۔ اب وہ کھیلوں میں شامل ہوں گے اور صحت مندانہ سرگرمیوں میں مصروف رہیں گے"۔

انہوں نے لنڈی کوتل، خیبر ایجنسی میں بننے والی سہولت کے حوالے سے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "لوگ ہمارے علاقے میں ایک اسٹیڈیم کی تعمیر پر بہت زیادہ خوش ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمارا خواب سچا ہو گیا ہے اور اب ہم اپنے ہی علاقے میں ہر طرح کی کھیلیں کھیل سکیں گے۔ اس سے پہلے، ہم ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کے لیے پشاور کا سفر کرتے تھے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں دہشت گردی سے دور ہونے کے لیے کھیلوں کی ضرورت ہے"۔

انتہاپسندی کو شکست دینے کے لیے کھیلیں

خیبرپختونخواہ کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا نے 21 دسمبر کو اسٹیڈیم میں کہا کہ نوجوان پاکستان کے مستقبل کے معمار ہیں اور ان کی مناسب تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔

وہ خیبر پیس گیمز- 2016 کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔

گورنر کے بیان سے اقتباس پیش کرنے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ "خیبر پیس گیمز- 2016 کا انعقاد ایک خوش کن پیش رفت ہے جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ تشدد ماضی کی ایک کہانی بن چکا ہے۔ کھیلیں نوجوانوں کو صحت مندانہ سرگرمیوں میں ملوث رکھنے اور دہشت گردی کو اس کی تمام اشکال اور توضیحات میں شکست دینے کے لیے اہم ہیں"۔

گورنر، جن کے دائرہ اختیار میں فاٹا بھی شامل ہے، نے سیاسی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ کھیلوں کو فروغ دیں اور فاٹا کی تمام ساتوں ڈسٹرکٹس میں کھیلوں کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ابھی تک، مقامی حکومت فاٹا میں کھیلوں کی سہولیات کو چلانے کے لیے ایک بلین روپے (10 ملین امریکی ڈالر) خرچ کر رہی ہے۔

نومبر میں، سابقہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے کرکٹ کے کھلاڑی شاہد آفریدی کے ساتھ خیبر ایجنسی میں ایک نئے کرکٹ اسٹیڈیم کا افتتاح کیا۔

شریف نے اس تقریب کے شرکاء کو بتایا کہ "یہ نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کا ایک اہم اور بر وقت قدم ہے۔ ہم فوجی آپریشنز کے نتیجہ میں عسکریت پسندوں کو باہر نکالنے میں کامیاب رہے ہیں اور اب ہمیں ترقی کرنے کے لیے لوگوں کے لیے اچھا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے"۔

آفریدی نے اسی تقریب میں کہا کہ "یہ ہماری اہم ترین ذمہ داری ہے کہ ہم کھیلوں کے مزید میدان بنائیں تاکہ ہم کھیلوں سے تشدد کو شکست دے سکیں "۔

امن، فاٹا کی ترقی

خیبر ایجنسی کے سولہ سالہ قیصر آفریدی جنہوں نے نینشل گیمز 2016 میں جوڈو میں سونے کا تمغہ حاصل کیا، کہا کہ "ہم عسکریت پسندی کے شکار علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کے لیے کھیلوں میں بہت گہری دلچسپی رکھتے ہیں"۔ یہ کھیلیں گزشتہ اکتوبر میں لاہور اور فیصل آباد میں منعقد ہوئی تھیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کھیلوں اور تفریح کی سرگرمیوں میں عسکریت پسندی کی زیادتی ایک اہم رکاوٹ رہی ہے مگر پاکستانی فوج نے علاقے کو صاف کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم صحت مندانہ سرگرمیاں شروع کریں"۔

فاٹا اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر شاہد شینواری، نے امن کی واپسی اور حکومت کی طرف سے کھیلوں کے فروغ پر دی جانے والی توجہ پر اپنی خوشی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ آٹھ سالوں کے دوران، طالبان کی موجودگی کا مطلب فاٹا میں بہت کم اور چھوٹے پیمانے پر کھیلوں کی سرگرمیوں کی صورت میں نکلا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کھیلوں کی تقریبات اور اسکولوں پر طالبان کے حملوں نے لوگوں کو بڑے مجمع کی صورت میں اکٹھا ہونے سے ڈرا دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب، امن کی بحالی کی وجہ سے عوام کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "گزشتہ سال فاٹا میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے بہت ثمرآور ثابت ہوا۔ ہم ٹورنامنٹ منعقد کر رہے ہیں جن میں لوگ بھرپور شرکت کر رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم اپنے لوگوں کو کھیلوں کی سرگرمیاں فراہم کرنے پر فوج کی تعریف کر رہے ہیں"۔

کھلیں زوروں پر

باجوڑ ایجنسی کے کھیلوں کے پرموٹر محمد جبار نے یاد کیا کہ کیسے انہوں نے دوسرے پرموٹروں کے ساتھ مل کر اگست میں ایک کرکٹ میچ منعقد کیا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ دن تک جاری رہنے والی اس تقریب میں دس ہزار سے زیادہ تماشائیوں نے شرکت کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تین سال پہلے، نوجوان اپنے گھروں میں قید تھے اور اسٹیڈیم خالی تھے۔ وہ دن چلے گئے جب فاٹا میں فوج جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ اب ہر طرح کی کھیلیں پوری طرح جاری ہیں"۔

فاٹا کے اسپورٹس ڈائریکٹر ریاض خان نے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے خیبر ایجنسی کے شاہ خاص علاقے میں ایک اسٹیڈیم کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے جہاں تمام ڈسٹرکٹس کے درمیان مقابلے منعقد ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس میں کرکٹ، فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال، اسکواش، ٹینس، بیڈ منٹن اور ہاکی کھیلنے کی سہولیات ہوں گی جس کے ساتھ ہی ایک سوئمنگ پول، جم اور ٹیبل ٹینس اور مارشل آرٹس کی سہولیات موجود ہوں گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی جگہ پر لڑکوں کا ہاسٹل، مسجد، کینٹین اور میڈیا سینٹر بھی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا تمام میدانوں میں عالمی معیار کے اتھیلیٹس پیدا کرتا رہا ہے۔ جون میں، فاٹا سپورٹس ڈائریکٹوریٹ کی طرف سے منظم کردہ کھیلوں کے میلے میں 10,000 اتھیلیٹس نے شرکت کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صحت مندانہ سرگرمیوں میں شرکت کے لیے مزید حوصلہ افزائی کرنے کے لیے، فاٹا نے ایک پالیسی بنائی ہے جس کے تحت تعلیمی ادارے میں کھیلوں کا میدان مہیا کیا جائے گا۔

کرکٹر محمود خان نے کہا کہ وہ حال ہی میں بنوں سے جنوبی وزیرستان آئے ہیں جہاں فوج نے کھیلوں کے میدان بنائے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم اپنے میدانوں میں کھیل کر بہت زیادہ خوش ہیں۔ طالبان کے خلاف فوجی آپریشن سے پہلے، کھیلنا ناممکن تھا کیونکہ وہ اسے اسلام کے خلاف سمجھتے تھے"۔

انہوں نے کہا کہ عوام فوج کی طرف سے علاقے کو عسکریت پسندوں سے خالی کرنے کے بعد اس کی زبردست تعریفیں کر رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

گزشتہ سالوں میں پاکستانی فورسز نے عسکریت پسندی کے خطرے کا مقابلہ کتنے اچھے طریقے سے کیا ہے؟

نتائج