|

مذہب

کے پی کے حکام نے اہل اماموں کے لیے اعزازیہ منظور کیا

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم سے معاشرے میں نماز کے قائدین کا مقام بلند ہو گا اور انتہاپسند بھرتی کاروں یا دیگر کی طرف سے انہیں بھرتی کرنے کی کمزوری میں کمی آئے گی جو ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

محمد شکیل


پشاور میں ایک امام، گزشتہ جون میں مسجد میں جمعہ کا خطبہ دے رہا ہے۔  ]محمد شکیل[

پشاور میں ایک امام، گزشتہ جون میں مسجد میں جمعہ کا خطبہ دے رہا ہے۔ ]محمد شکیل[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) کے حکام نے بڑی مساجد کے اماموں کے لیے ماہانہ وظیفے کی منظوری دی ہے جس سے انہیں اپنی مکمل توانائی کو مذہب اور معاشرے میں اپنے احترام کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل جائے گا۔

یہ فیصلہ 7 جنوری کو صوبائی کابینہ کی ایک میٹنگ کے دوران کیا گیا جس کی سربراہی کے پی کے وزیرِ اعلی پرویز خٹک کر رہے تھے۔

کابینہ نے پشاور سے تعلق رکھنے والے اماموں کے لیے جو کے پی کے مسقتل شہری ہیں اور پانچ دینی مدارس کے بورڈز میں سے کسی ایک کے مطابق اہل ہیں، کو ماہانہ 10,000 روپے (100 ڈالر) اعزازیہ دینے کی منظوری دی ہے۔

ڈسٹرکٹ کی سطح پر ایک سات رکنی کمیٹی بھی بنائی جانے گی جو ایسے اماموں کا انتخاب کرے گی جو اس اعزازیہ کو وصول کرنے کے اہل ہیں۔ اس قدم پر مجموعی طور پر 3.25 بلین روپے (32 ملین ڈالر) سالانہ کی لاگت متوقع ہے۔

کے پی کے اوقاف، حج، مذہب اور اقلیتوں کے امور کے وزیر حبیب الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی کی مساجد میں خدمات سر انجام دینے والے اماموں کو اپنے مقام کو اونچا کرنے، اپنے خاندان کی خدمت اور مکمل عزم و ذمہ داری سے اپنے فرائض کو انجام دینے کے ذرائع مہیا کرنے چاہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس قدم کے مقاصد میں پیش اماموں کی بہتری، ان کے مقام کو بہتر بنانا اور انہیں کسی بھی بیرونی دباؤ سے متاثر ہونے سے روکنا شامل ہیں"۔

صوبے میں انتہاپسندی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دیگر کوششیں بھی جاری ہیں۔

کے پی کی حکومت نے گزشتہ اکتوبر میں، طلباء میں بنیاد پرستی کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے حصہ کے طور پر تمام مدرسوں کی رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا۔

ہر مدرسے کے لیے شعبہ تعلیم کے ساتھ رجسٹر ہونا، عسکریت پسندی، حکومت مخالف سرگرمیوں یا فرقہ واریت کی حوصلہ افزائی نہ کرنے کا عہد کرنا اور تسلیم شدہ چارٹر اکاؤنٹنٹ سے سالانہ آڈٹ کی اجازت دینا لازمی ہے۔

اماموں کے مرتبے کو بڑھانا

پشاور کے مذہبی عالم مقصود احمد سلفی نے جو بین المذہبی تنظیم، پاکستان کاونسل آف ورلڈ ریلیجنز کے ایک سرگرم رکن بھی ہیں، نے کہا کہ "موجودہ سماجی حدود میں ہماری زندگیوں پر پیش اماموں اور علماء کا اثر و رسوخ بہت اہم ہے اور اسے کمزور نہیں کیا جانا چاہیے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے پیش اماموں کو جو احترام حاصل ہے وہ نیچے کی سطح سے شروع ہوتا ہے اور آبادی کا زیریں طبقہ زیادہ جوش و جذبے سے ان کی تقلید کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اماموں کا مقام اور مرتبہ اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ نہ صرف انہیں وہ عزت و احترام دیا جائے جس کے وہ حق دار ہیں بلکہ انہیں اتنی مالی امداد بھی دی جائے جس سے وہ ایسی زندگی گزار سکیں جو معاشرے میں ان کے مرتبے سے مطابقت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اعزازیہ سے بنیاد پرستی، فرقہ واریت اور منبروں کے غلط استعمال کے امکان کو کم سے کم کیا جا سکے گا"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک مذہبی عالم اور کے پی کے سابقہ صوبائی وزیر قاری رسول اللہ مدنی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اماموں کو گزر اوقات کے بہتر طریقے مہیا کریں اور انہیں موثر طور پر اپنی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے قابل بنائیں"۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا پیش اماموں کو وظیفہ دینے کا صوبائی حکومت کا فیصلہ انہیں کسی اثر یا دباؤ کے بغیر اپنی فرائض انجام دینے کو جاری رکھنے میں مدد فراہم کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ان کوششوں کی کامیابی میں اس صورت میں مزید اضافہ ہو سکتا تھا اگر حکومت مختص فنڈز کا جائزہ لیتی اور ان میں مناسب اضافہ کرتی تاکہ اماموں کو صوبے میں سرکاری ملازمین کے برابر لایا جا سکتا"۔

بیرونی دباؤ سے بچنا

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے سابقہ سیکورٹی سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اہل اماموں کے لیے اعزازیہ صوبائی حکومت کی طرف سے ایک اچھا قدم ہے جس سے پیش اماموں کو مرکزی دھارے میں لانے، معاشرے میں ان کے کردار اور مقام کو بڑھانے اور نفرت انگیز تقاریر، فرقہ واریت اور انتہاپسندی کی ثقافت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی"۔

انہوں نے کہا کہ اس قدم کی سول سوسائٹی کے ارکان کی طرف سے نگرانی کی جانی چاہیے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار اور کالم نگار کرنل (ریٹائرڈ) جی بی شاہ بخاری نے کہا کہ " کچھ مخصوص استثناء کے علاوہ ہمارے پیش امام، اپنے مقام کے باجود مالی مشکلات کا سامنا کرتے رہے ہیں جس کا نتیجہ ذاتی مقاصد رکھنے والوں کی طرف سے ان کے استحصال کی صورت میں نکلا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اماموں سے منسلک سیاسی اور مذہبی راہنماؤں کو ان پر اثرانداز ہوتے اور ان پر دباؤ ڈالتے ہوئے دیکھا گیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ واقعات میں مساجد کے قرب و جوار کے بارسوخ شہری پیش اماموں پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ایک مطمیئن اور اہل شخص اپنا راستہ منتخب کرنے اور اپنے فیصلوں کے اثرات کے بارے میں غور کرنے کی زیادہ بہتر اہلیت رکھتا ہے"۔

بخاری نے کہا کہ "استحصال کے امکانات کو کم کرنے سے اس بات کے امکان میں اضافہ ہو گا کہ ہمارے پیش امام فرقہ واریت، انتہاپسندی اور بنیاد پرستی کی تشہیر کرنے والے عناصر کا نشانہ بننے کی بجائے، اپنی مذہبی ذمہ داریوں کو ترجیح دیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "علاوہ ازیں،ہم ان کی خدمات کو تسلیم کرنے اور معاشرے میں انہیں ان کا واجب مقام دینے سے، پیش اماموں کی طرف سے انتہاپسندی کے خلاف ایک زیادہ ترقی پسندانہ کردار کی توقع رکھ سکتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج