2017-11-29 | تعلیم

خیبرپختونخوا حکومت نے مدرسوں کے اندراج کا آغاز کر دیا

اشفاق یوسفزئی

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لے آئے گا، جس سے دہشتگردی سے روابط کا انسداد ہو گا اور حکومت نئی تنصیبات کے لیے مالیات فراہم کر سکے گی۔


30 اپریل کو کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے دینی  مدرسہ، جامعہ بنوریہ میں مدرسہ کے طلباء امتحان دے رہے ہیں۔[آصف حسین/اے ایف پی]
30 اپریل کو کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے دینی مدرسہ، جامعہ بنوریہ میں مدرسہ کے طلباء امتحان دے رہے ہیں۔[آصف حسین/اے ایف پی]
30 اپریل کو کراچی میں پاکستان کے سب سے بڑے دینی مدرسہ، جامعہ بنوریہ میں مدرسہ کے طلباء امتحان دے رہے ہیں۔[آصف حسین/اے ایف پی]

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لے آئے گا، جس سے دہشتگردی سے روابط کا انسداد ہو گا اور حکومت نئی تنصیبات کے لیے مالیات فراہم کر سکے گی۔

پشاور – حکومتِ خیبر پختونخوا (کے پی) نے طالبِ علموں کے بنیاد پرست بننے کو روکنے کی کاوش کے جزُ کے طور پر دینی مدرسوں کے اندراج کا آغاز کر دیا ہے۔

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس اقدام کا [مقصد ] مدرسوں کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے کی خواہش رکھنے والے دہشتگردوں کی موجودگی کا خاتمہ ہے۔ ماضی میں طالبِ علموں کو بنیاد پرست بنانے والے شرپسند دینی مدرسوں کا غلط استعمال کرتے رہے ہیں ۔"

صوبے کے 3,028 مدرسوں کے اساتذہ، طالبِ علموں اور کھاتوں کی درست معلومات حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی بورڈز کے ساتھ ان کا اندراج درکار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ستمبر میں وفاقی حکومت کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو مدرسوں کو مرکزی دھارے میں لانے کی ہدایات کے بعد سامنے آیا۔

فرمان نے کہا، "تمام دینی مدارس دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے تعاون کر رہے ہیں، اور ان کے طالبِ علم دینی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں۔"

27 اکتوبر کو کے پی محکمہ بنیادی و ثانوی تعلیم نے صوبے کے سات بنیادی و ثانوی تعلیمی بورڈز کو اپنے متعلقہ علاقوں میں مدارس کا اندراج کرنے اور ہفتہ وار بنیادوں پر اس عمل کی پیش رفت حکومتِ کے پی کو بتانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

تاحال ان بورڈز نے مدرسوں کو اندراج فارم تقسیم کیے ہیں اور مدرسوں کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

قبل ازاں کے پی انڈسٹریز اینڈ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ صوبے میں مدرسوں کے اندراج کے لیے ذمہ دار تھا، تاحال متعدد غیر اندراج شدہ کارگرِ عمل ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار خادم حسین نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، یہ اندراج "طالبِ علموں کے لیے ایک قانونی ماحول فراہم کرے گا، قبل ازاں کوئی بھی ]غیر قانونی [ کاروائیوں کا خاتمہ نہیں کر رہا تھا، اس لیے ان اداروں کا غلط استعمال ہو رہا تھا۔"

دہشتگردی کے ساتھ روابط کی انسداد

بنوں بنیادی و ثانوی تعلیمی بورڈ کے ایک عہدیدار محمد سہیل نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ کو دینی مدارس کے اندراج کے لیے استعمال کیے جانے کے لیے ایک 11 صفحات پر مشتمل فارم موصول ہوا ہے۔

سہیل کے مطابق، اس عمل پر عملدرامد کے لیے مدرسوں کو عسکریت پسندی، دہشتگردی، ریاست مخالف سرگرمیوں یا فرقہ واریت کو فروغ دینے والی تعلیم شامل نہ کرنے کا وعدہ کرنا ہوگا اور حکومت کے تسلیم شدہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ سے اپنے کھاتوں کا آڈٹ کرانے کے لیے رضامند ہونا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ "تمام دینی مدارس کو ]ایک تحریری اقرار [ دینا ہو گا کہ ان کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ کوئی روابط نہیں" اور یہ عہد کرنا ہو گا کہ وہ مستقبل میں ایسے نئے تعلقات نہیں بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مدرسے مقامی اور غیر ملکی اساتذہ ، دیگر ملازمین اور طالبِ علموں کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ حکومت کی جانب سے طلب کی گئی دیگر معلومات فراہم کریں گے۔

سہیل نے کہا، "اندراج مکمل ہو جانے پر، حکومت کو مدرسوں میں اندراج شدہ طالبِ علموں کی درست تعداد اور وہاں پڑھائے جانے والے مواد کا علم ہو گا۔"

کے پی کے وزیرِ تعلیم عاطف خان نے کہا کہ مدرسوں کی 'مالی حالت' کا تعین کرنے کے بعد، حکومتِ کے پی مدرسوں کو اضافی وسائل، پینے کا پانی اور بجلی فراہم کرنے کے لیے مالیات جاری کرے گی اور بیت الخلا کی تعمیر ی لاگت بھی برداشت کرے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "حکومتِ کے پی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ اندراج سے طالبِ علموں اور اساتذہ کو یکساں استفادہ ہو گا۔ "

مدارس نے دستخط کر دیے

بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن پشاور، کے سربراہ ڈاکٹر فضل الرحمٰن نے بتایا کہ مختلف مسالک کے مدارس کے نمائندگان اپنے اداروں کو رجسٹر کرانے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

"مذہبی مدارس اپنے طلبا کو دینی نصاب کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم دینے کے خواہشمند ہیں،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "ہم نے رجسٹریشن کے عمل سے متعلق ان کے خدشات دور کر دیے ہیں۔"

ہم پر اکثر دہشت گردی کو فروغ دینے کا الزام لگایا گیا ہے، جو سچ نہیں ہے، مردان میں قائم ایک دینی مدرسے کے استاد مولانا احسان علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "حکومت کے تحت رجسٹریشن ہمارے معاملات کو بہتر کر دیگی،اور جو دہشت گردی کے عمل میں ملوث ہیں سامنے آجائیں گے۔"

اسلامی مدارس کی ایک فیڈریشن، وفاق المدارس العربیہ کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا حسین احمد نے بتایا کہ وہ حکومتی اقدام سے متفق ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "محکمہ تعلیم کے ساتھ رجسٹر ہونا اچھی بات ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے

Zeist | 12-07-2017

سن کر بہت خوشی ہوئی! ایک متعلقہ بالغ کی جانب سے ایک اور درخواست۔ کیا آپ مہربانی فرما کر اس امر پر بھی نظر رکھ سکتے ہیں کہ کہیں ملّا چھوٹے بچوں کو زدوکوب تو نہیں کرتے؟ مہربانی فرما کر پورے پاکستان میں!! ابھی ابھی ایک جگر سوز ویڈیو دیکھی ہے۔ جزاک اللّہ۔

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج