http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/04/15/feature-02
| مذہب

علماء نے دہشت گردی، اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں سے لڑائی جاری رکھنے کا عزم کیا

اشفاق یوسف زئی

شرکاء اسلام آباد میں 14 اپریل کو علماء کی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ]پی یو سی[

اسلام آباد -- پاکستان اور غیر ممالک سے تعلق رکھنے والے علماء اتوار (14 اپریل) کو اسلام آباد میں پیغامِ اسلام کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے انتہاپسندی اور تشدد کے خلاف اپنی کوششوں کو جاری رکھنے کا عہد کیا۔

پاکستان علماء کونسل (پی یو سی) نے اس تقریب کا انعقاد کیا تھا تاکہ 2019 کو دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت سے خاتمے کا سال قرار دیا جا سکے۔

پی یو سی کے چیرمین حافظ محمد طاہر مخمود اشرفی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم دنیا میں تمام افراد کی خوشحالی کے لیے پائیدار امن قائم کرنے کے لیے کام کرنا جاری رکھیں گے۔ اسلام امن، بھائی چارے اور محبت کا مذہب ہے"۔

پاکستان علماء کونسل کے چیرمین مولانا حافظ محمد طاہر محمود اشرفی (بائیں) اور امامِ کعبہ شیخ عبداللہ اعواد ال جوہنی (درمیان میں) 14 اپریل کو اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی کانفرنس کے شرکاء سے خطاب کر رہے ہیں۔ ]پی یو سی[

انہوں نے کہا کہ "شرکاء نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف مذہبی علماء کے درمیان اتحاد کے بارے میں ایک بیان جاری کرنے پر اتفاق کیا۔ اسلام تمام انسانوں کے لیے ہے اس لیےدہشت گردی کو ایک بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے"۔

اشرفی کے مطابق، ایسی کانفرنسوں کے انعقاد کے پیچھے محرک پائیدار امن ہوتا ہے جہاں تمام مکتبہ فکر کو مدعو کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقصد ہر جگہ امن قائم کرنا ہے نہ کہ صرف پاکستان میں۔

اس کانفرنس کے ایک شرکت کا مولانا حمید الحق نے کہا کہ شرکاء نے اتفاق کیا کہ 2019 دہشت گردی کو ختم کرنے کا سال ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ ورانہ تشدد سے دور رہنا اس تقریب کو مرکزی نکتہ نگاہ رہا۔

امن کا مذہب

میٹنگ میں، پاکستانی مذہبی علماء نے انتہاپسندی کے خلاف بات کی اور انہوں نے اسلام کی امن کے مذہب کے طور پر وکالت کی۔

مکہ کی گرینڈ مسجد کے اماموں میں سے ایک امامِ کعبہ شیخ عبداللہ اعواد ال جوہنی نے کانفرنس کو بتایا کہ اسلام کی تعلیمات سے لاعلمی مسلمانوں کے لیے مسائل کا نتیجہ بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "مسلمان امت کو اپنے دل کو برے ارادوں سے صاف کرنا ہو گا اور مسلمان دنیا کو متحد کرنے کے لیے کوششیں کرنی ہوں گی"۔

پی یو سی کے ایک رکن مولانا عبدل شکور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اسلام غیر قانونی فتوے جاری کرنے یا ہلاک، زخمی یا خوف زدہ کرنے کے لیے دہشت گردی کے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے دہشت گردی کی مذمت کی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے اُکتا چکے ہیں جو اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے اسلام کے نام کا غلط استعمال کرتے ہیں اور وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کے مذہب کے بارے میں دنیا کو غلط پیغام دیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک عالم مولانا عبدل غفور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ شرکاء میں دہشت گردی کی مذمت کرنے پر مکمل اتفاق تھا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم قرآن پاک کی تعلیمات پر عمل کریں گے اور اس تصور سے چھٹکار پائیں گے کہ اسلام دوسرے مذاہب کے خلاف ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کوششوں کا مقصد ایک ایسے معاشرے کو قائم کرنا ہے جہاں تمام مذاہب کے درمیان ہم آہنگی ہو۔

کالعدم گروہوں سے مقابلہ کرنے کی کوششیں

کانفرنس کے دوران، وزیرِ داخلہ شہریار آفریدی نے شرکاء کو حکومت کی طرف سے کالعدم گروہوں کو سرمایے کی فراہمی روکنے کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی اسلام کے نام پر تشدد کی کاروائیاں کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

آفریدی نے پاکستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم دہشت گردی کے سب سے بڑے متاثرین ہیں اور ہم اپنے لوگوں کی ترقی کے لیے امن چاہتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ بہت ہی خوشی کی بات ہے کہ تقریبا 5,000 مذہبی راہنما دہشت گردی کی مذمت کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ پچھلے دو سال خاموش رہے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ آنے والے سالوں میں امن بحال ہو جائے"۔

آفریدی نے کہا کہ یہ بات بھی حوصلہ افزاء ہے کہ زیادہ تر مقرروں نے اپنے علمی لیکچروں میں دہشت گردی کی مذمت کی ہے جو کہ تشدد کی حوصلہ شکنی کرنے میں بہت زیادہ فائدہ مند ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم دہشت گردی کے خلاف سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کی بہت زیادہ قدر کرتے ہیں اور امن بحال کرنے کے لیے ان کی بہادرانہ جنگ پر ان کے شکر گزار ہیں"۔

مذہبی امور کے وفاقی وزیر نورالحق قادری نے کانفرنس کو بتایا کہ پاکستان دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور اپنی آبادی کی بھلائی کے لیے امن کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "ہم مذہبی علماء سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ ان مخصوص عناصر کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے جو دوسرے عقائد کے ارکان کو مارنے کے لیے اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ بنیادوں پر تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ اسلام کے پاس امن کا عالمی پیغام ہے۔

مل کر کام کرنا

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے عالم مولانا آزاد شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت کو امن کے لیے کی جانے والی کوششوں سے علماء کو آگاہ رکھنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کیمنی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے سرمایہ کاری کی حالیہ کوششیں قابلِ تعریف ہیں اور علماء کو ایسے اقدامات کے فوائد کے بارے میں آگاہی پھیلانی چاہیے۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے ایک تجزیہ کار خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ اسلام کے بارے میں غلط تصورات کو دور کرنے میں مذہبی راہنماؤں کا کردار بہت اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام مذہبی مبلغین پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے خطبوں کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

حسین نے کہا کہ "ہمیں اس پروپیگنڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے علماء کو استعمال کرنا چاہیے کہ اسلام قتل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام میں امن کا وسیع پیغام ہے اور وہ کسی بھی دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں، پاکستان کے مذہبی راہنماؤں نے انتہاپسندی میں کمی لانے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha