http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/17/feature-01
| تعلیم

انتہاپسندی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے پاکستان نے مدرسہ اصلاحات شروع کر دیں

از ضیاء الرحمان


25 اپریل کو مدرسہ کے طلباء جامع مخزن العلوم کراچی میں سالانہ امتحانات میں شرکت کرتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

25 اپریل کو مدرسہ کے طلباء جامع مخزن العلوم کراچی میں سالانہ امتحانات میں شرکت کرتے ہوئے۔ [ضیاء الرحمان]

کراچی -- پاکستانی حکام مدارس میں اصلاحات کرنے اورکچھ مدارس اور دہشت گرد تنظیموں کے درمیان روابط کو توڑنےکے عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

ان کوششوں کا مقصد دینی تعلیم کو زیادہ کارگر بنانا اور انتہاپسندانہ نظریاتکے پھیلاؤ پر قابو پانا ہے۔

افواجِ پاکستان کے مرکزی ترجمان، میجر جنرل آصف غفور کے مطابق، 30،000 سے زائد مدارس کو "مرکزی دھارے" میں لانے کے لیے اصلاحات وزارتِ تعلیم کی حد کے اندر ہوں گی۔

30 اپریل کو راولپنڈی میں ایک نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا، "اسلامی تعلیم فراہم کرنا جاری رہے گا، مگر نصاب میں نفرت انگیز تقریر شامل نہیں ہو گی۔ نیز، ان کے نصاب میں دیگر مضامین شامل کیے جائیں گے۔"

آصف غفور کا دینی تعلیم کو مرکزی دھارے میں لانےکا مطالبہ -- جو ایک پاکستانی اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے پہلا نہیں ہے -- پاکستان میں مدارس کے متعلق دہائیوں کی بے چینی کا مظہر ہے، جنہیں ایک طویل عرصے سے ان الزامات کا سامنا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ مدارس متعصب نظریات کو فروغ دیتے ہیں اور دہشت گرد حلقوں کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔

آصف غفور کی پریس کانفرنس کے بعد، وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے اصلاحات پر تبالۂ خیال کرنے کے لیے 6 مئی کو اسلام آباد میں ملک کے مدارس کے پانچ بورڈوں کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کی۔

محمود نے کہا کہ اجلاس کے دوران، فریقین -- وزارتِ تعلیم اور مدرسہ بورڈوں -- نے ملک میں مصروفِ عمل تمام 30،000 مدارس کو رجسٹر کروانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ۔۔۔ وزارت دس علاقائی مراکز کھولے گی، اور وہ مدارس جو رجسٹریشن نہیں کرواتے انہیں بند کر دیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا، نیز معاہدے کے تحت، حکومت مدارس کے مہتمم حضرات کے بینک کھاتے کھلوا کر اور پاکستانی مدارس میں داخلے کے خواہش مند غیر ملکی طلباء و طالبات کے لیے ویزوں کے اجراء پر کارروائیوں میں مدد کرے گی۔

ایک خوش آئند اقدام

پانچوں مدرسہ بورڈوں نے مدارس کے انتظام کی ذمہ داری وزارتِ تعلیم کو دینے کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔

پانچ مدرسہ بورڈوں میں سے ایک بورڈ، وفاق المدارس العربیہ کے ترجمان، مولانا ابراہیم سکرگاہی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہمارا یہ دیرینہ مطالبہ تھا کہ ذمہ داری ۔۔۔ وزارتِ تعلیم کو دی جانی چاہیئے۔"

انہوں نے کہا کہ ماضی میں، کئی وزراء اور حکومتی ادارے -- جیسے کہ وہ جو تجارت، داخلہ اور مذہبی امور کے منتظم ہیں -- مدارس کی نگرانی کر چکے ہیں۔

مدارس کی رجسٹریشن اور ان کا انتظام حکومت کی جانب سے جنوری 2015 میں اختیار کردہ انسدادِ دہشت گردی پالیسی، نیشنل ایکشن پلان کے 20 مقاصد میں سے ایک ہے۔

مدارس کے قائدین نے کئی مواقع پر حکومت پر ان کی رجسٹریشن کی تجدید نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جس سے ان کے لیے چندہ جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

سکرگاہی نے کہا، "مدارس کو نئے بینک کھاتے کھولنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہوں نے دفاعی اداروں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے معلومات جمع کرنے کے نام پر اساتذہ اور طلباء و طالبات کو ہراساں کرنے کی پالیسی اختیار کیے رکھی ہے،" انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ تازہ ترین کوششوں سے یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔

پاکستانی حکام نے مارچ کے مہینے میں ملک بھر میں درجنوں مدارس کا انتظام سنبھال لیا تھا جن کا تعلق دو کالعدم تنظیموں -- جیشِ محمد (جے ای ایم) اور جماعت الدعوۃ (جے یو ڈی) سے تھا، اور ان مدارس کو تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا تھا۔

مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کے لیے بہتر امکانات

مدارس سے فارغ التحصیل زیادہ تر طلباء و طالبات اسلامیات اور عربی کے اساتذہ، مدارس کے اساتذہ، اماموں یا مؤذنوں کے طور پر کام کرتے ہیں۔

تاہم فارغ التحصیل ہونے والوں کی ایک بہت بڑی تعداد اپنے محدود یا ناپید روزگار کے مواقع کی وجہ سے پریشان حال رہتی ہے۔

تعلیم اور مدارس کے امور پر نظر رکھنے والے کراچی کے ایک مقامی صحافی، ارشد یوسفزئی نے کہا کہ مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی رسد ان کی طلب سے بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، مگر حالیہ برسوں میں، حکومت نے مدارس سے فارغ التحصیل ہونے والوں کی مدد کرنے کے لیےکچھ مالی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

گزشتہ برس، خیبرپختونخوا (کے پی) کی صوبائی حکومت نے پانچوں مدرسہ بورڈوں میں سے کسی بھی ایک بورڈ سے ڈگری حاصل کرنے والے اماموں کو ماہانہ 10،000 روپے (70 ڈالر) وظیفہ دینے کا آغاز کیا تھا، جس پر کے پی حکومت کی سالانہ 3.25 بلین روپے (22.3 ملین ڈالر) لاگت آئی تھی۔

نیز، گزشتہ پانچ برسوں میں، شریعت کے مطابق رقوم جمع کرنے والے کھاتوں کی پیشکش کرنے والے اسلامی بینک پاکستان میں نئے مالیاتی طرزِ زندگی کا ایک حصہ بن رہے ہیں۔ جس وجہ سے، چند مدارس نے اسلامی فقہہ اور مالیات میں مہارت کے حامل افراد تیار کرنے شروع کر دیئے ہیں۔

مارچ میں، دارالعلوم کراچی نے اعلان کیا تھا کہ اس نے مدرسہ کے سالِ آخر کے طلباء و طالبات کے لیے انتظامِ کاروبار میں ایک سالہ ڈپلومہ کی پیشکش کرنا شروع کیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha