2017-11-03 | سلامتی

صلاح کاری اقدام کا مقصد عسکریت پسندوں کی بحالی، نئی بھرتی کا انسداد ہے

ضیاء الرحمان

ایک سابقہ عسکریت پسند نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صلاح کاری کے عمل نے سچ کو سمجھنے میں میری مدد کی۔ اس نے میری زندگی بدل دی ہے"۔


کراچی یونیورسٹی کے طلباء 10 اکتوبر کو ایک لیکچر میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوانوں میں عسکریت پسندی کے بارے میں پریشان، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کمیونٹی کاونسلنگ سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[
کراچی یونیورسٹی کے طلباء 10 اکتوبر کو ایک لیکچر میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوانوں میں عسکریت پسندی کے بارے میں پریشان، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کمیونٹی کاونسلنگ سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[
کراچی یونیورسٹی کے طلباء 10 اکتوبر کو ایک لیکچر میں شریک ہیں۔ تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے نوجوانوں میں عسکریت پسندی کے بارے میں پریشان، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے کمیونٹی کاونسلنگ سینٹرز قائم کیے ہیں۔ ]ضیاء الرحمان[

ایک سابقہ عسکریت پسند نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "صلاح کاری کے عمل نے سچ کو سمجھنے میں میری مدد کی۔ اس نے میری زندگی بدل دی ہے"۔

کراچی -- پاکستان نوجوانوں کو عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے اپنی جانب کھینچ لینے سے بچانے کے لیے، اور جنہیں پہلے ہی گمراہ کر دیا گیا ہے کی بحالی کے لیے، بہت سے اقدامات کر رہا ہے۔

ایک ایسا ہی اقدام کراچی یونیورسٹی میں دیکھا جا سکتا ہے جہاں طلباء، اساتذہ اور عملے میں بنیاد پرستی کو پھیلنے سے روکنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

یونیورسٹی نے کچھ طلباء اور تدریسی عملے کے مبینہ طور پر دہشت گردی کے کاموں اور شہر میں عدم برداشت کے فروغ میں ملوث ہونے کی اطلاعات کے بعد، سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ کے اندر کمیونٹی کاونسلنگ سینٹر کھولنے کا فیصلہ کیا۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر اجمل خان نے 12 ستمبر کو اس مرکز کے قیام کی منظوری دی۔

یہ مرکز اس سال کے آخیر تک کام کرنا شروع کر دے گا اور اس کی نگرانی سائیکالوجی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ فرح اقبال کریں گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سینٹر مایوس شدہ طلباء اور اساتذہ کو اپنے ذہنی دباؤ کو کنٹرول کرنے اور انہیں انتہاپسندوں کے ساتھ شامل ہونے سے روکنے میں مدد کے لیے صلاح کاری فراہم کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "اپنی مایوسی کے باعث، نوجوان طلباء ایسی کالعدم تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں جو انہیں مضر سرگرمیوں میں استعمال کر رہی ہیں۔ مناسب صلاح کاری اور توجہ سے، ہم انہیں ان گروہوں میں شامل ہونے سے روک سکتے ہیں"۔

اقبال نے کہا کہ ابتدائی طور پر، مرکز طبی علاج فراہم نہیں کرے گا مگر وہ ضرورت پڑنے پر طلباء اور عملے کو ماہرینِ نفسیات کے پاس بھیج سکتا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے موسمِ گرما کے دوران مل کر کام کرنا شروع کیا تاکہ عسکریت پسندی کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

صوبہ کی 40 یونیورسٹیوں، جن میں پبلک اور پرائیوئٹ دونوں شامل ہیں، کے وائس چانسلروں اور نمائندوں نے سندھ پولیس کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) کے اہلکاروں سے 12 جولائی کو ملاقات کی تاکہ بنیاد پرستی کا مقابلہ کرنے کے طریقوں کے بارے میں بات چیت کی جا سکے۔

سی ٹی ڈی کے ایک سینئر اہلکار عمر شاہد حامد نے جولائی میں پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ شرکاء نے تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی کو روکنے کے لیے جامع اور ٹھوس پالیسی نافذ کرنے پر اتفاق کیا اور یونیورسٹیوں اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں میں ایک مشترکہ حکمتِ عملی بنانے کا مطالبہ کیا۔

سابقہ عسکریت پسندوں کی بحالی

ایک اور اقدام میں ایسے نوعمروں کی صلاح کاری اور بحالی شامل ہے جنہوں نے متشدد گروہوں میں شرکت اختیار کر لی تھی اور پھر انہیں صوبہ سندھ میں سیکورٹی کی مہمات کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

نومبر 2016 میں، پیراملٹری سندھ رینجرز نے کراچی میں رینجرز بحالی مرکز قائم کیا تاکہ سابقہ نوجوان عسکریت پسندوں کو نفسیاتی علاج مہیا کیا جا سکے۔

یہ مرکز مختلف پیشوں میں پیشہ ورانہ تربیت کا انتظام کرتا ہے اور اس بات کا اندازہ لگاتا ہے کہ آیا نوجوان اپنے خاندان اور معاشرے میں واپس جانے کے قابل ہو گئے ہیں۔

مرکز کے سربراہ میجر احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "بحالی مرکز سابقہ عسکریت پسندوں کو نفسیاتی خدمات، صلاح کاری و تھراپی، تکنیکی تربیت کے پروگراموں میں داخلہ اور اس کے ساتھ ہی رسمی تعلیم جس میں مذہبی تعلیم بھی شامل ہے، فراہم کرتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تھراپی میں اہلِ خاندان کے ساتھ سیشن بھی شامل ہوتے ہیں۔

قابِل تقلید کامیابیاں

میجر احمد نے کہا کہ رینجرز کا بحالی مرکز، سوات وادی میں قائم کامیاب بحالی مراکز کی بنیاد پر بنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف وادی میں 2009 کے آپریشن کے دوران، پکڑے جانے والے زیادہ تر نوعمر لڑکے تھے جنہیں مستقل میں خودکش بمبار بنانے کے لیے تربیت دی گئی تھی۔

اس وقت سے، سول سوسائٹی کی تنظیمیں پاکستانی فوج کے تعاون سے ملک بھر میں بنیاد پرستی کو ختم کرنے کے بہت سے پروگرام چلا رہی ہیں جن میں سبون (صبح کی روشنی)، مشعل (لیمپ)، رستون (واپس لوٹنا)، سپارلے (بہار)، نوائے سحر (نئی صبح)، اور حیلا (امید) شامل ہیں۔

احمد نے کہا کہ رینجرز کا بحالی سینٹر ان پروگراموں کی بنیاد پر بنایا جانے والا اس قسم کا پہلا مرکز ہے جبکہ سندھ پولیس سی ٹی ڈی بھی بحالی کا ایک مرکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ "اپنے آغاز سے اب تک، رینجرز سینٹر نے پکڑے جانے والے 20 نو عمر عسکریت پسندوں کے گروہ کو بحال کیا ہے۔ انہوں نے جرائم اور عسکریت پسندی کو ترک کر دیا اور وہ انہوں نے نفسیاتی علاج اور مہارت حاصل کرنے کی تربیت حاصل کی۔

انہوں نے کہا کہ "مرکز اب چودہ عسکریت پسندوں کے ایک اور گروہ کے ساتھ کام کر رہا ہے"۔

ایک 19 سالہ شخص، جس کا نام سیکورٹی کی وجہ سے نہیں بتایا جا رہا، کہا کہ کالعدم گروہ نے اسے اسلام کی غلط تشریح سے بھرتی کیا۔

افغانستان سے واپسی پر اسے 2016 میں کراچی سے گرفتار کیا گیا۔

اس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میری گرفتاری کے بعد، رینجرز نے اپنے بحالی مرکز کے ذریعے اپنے خاندان اور معاشرے سے دوبارہ تعلق قائم کرنے میں میری مدد کی۔ صلاح کاری کے عمل نے سچ کو سمجھنے میں میری مدد کی۔ اس نے میری زندگی بدل دی ہے"۔

اس نے جنوری سے جولائی 2017 تک چھہ ماہ تک تکنیکی تربیت اور صلاح کاری حاصل کی اور اب وہ کراچی میں پھلوں کا کاروبار کرتا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو قابو میں لانے کے لیے پاکستان – افغانستان سرحد پر مستقبل میں لگنے والی باڑ کس قدر مؤثر ہو گی؟

نتائج