|

نوجوان

پاکستان نے سینکڑوں سابق نوجوان عسکریت پسندوں کو انتہاپسندی سے تائب کروایا ہے

فوج اور سول سوسائٹی طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کی جانب سے برین واشنگ کیے گئے نوجوانوں کی بحالی اور انہیں معاشرے میں دوبارہ یکجا کرنے میں تعاون کر رہے ہیں۔

جاوید محمود


ایک پاکستانی نوجوان جو طالبان کے ماتحت کام کرتا تھا 5 جولائی 2011 کو مادیان، سوات میں فوج کی جانب سے چلائے جانے والے صباؤن ہنر مرکز پر کلاس میں پڑھتے ہوئے۔ پاکستان برین واش کیے ہوئے نوجوانوں کو انتہاپسندی سے تائب کرانے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ [اے ایف پی/فاروق نعیم]

ایک پاکستانی نوجوان جو طالبان کے ماتحت کام کرتا تھا 5 جولائی 2011 کو مادیان، سوات میں فوج کی جانب سے چلائے جانے والے صباؤن ہنر مرکز پر کلاس میں پڑھتے ہوئے۔ پاکستان برین واش کیے ہوئے نوجوانوں کو انتہاپسندی سے تائب کرانے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔ [اے ایف پی/فاروق نعیم]

اسلام آباد -- عسکری اور انسدادِ عسکریت پسندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سینکڑوں سابق نوجوان عسکریت پسند پاکستانی معاشرے میں دوبارہ یکجا ہونے کے مقصد سے انتہاپسندی سے کنارہ کش ہونے اور بحالی کے عمل سے گزر رہے ہیں۔

ادارہ برائے تزویراتی مطالعات (آئی ایس ایس آئی) نے نومبر کی ایک رپورٹ بعنوان "پاکستان میں عسکریت پسندی کا مقابلہ: عسکری اور سول سوچ" نے کہا ہے کہ سول سوسائٹی کی تنظیمیں پاکستانی فوج کے تعاون سے "پورے ملک میں انتہاپسندی کے خاتمے کے چھ مرکزی پروگرام چلا رہی ہیں: مثلاً، صباؤن (صبح کی روشنی)، مشعل، راستون (واپس لوٹنا)، سپارلے (بہار)، نوائے سحر (نئی صبح) اور حیلہ (امید)۔"

رپورٹ میں بتایا گیا، "پاکستان میں انتہاپسندی کے خاتمے کا پہلا پروگرام ستمبر 2009 میں، سوات میں پاکستانی طالبان کے خلاف آپریشن راہِ راست کی تکمیل کے بعد شروع کیا گیا تھا۔"

اس میں کہا گیا، "آپریشن کے دوران پکڑے گئے زیادہ تر جنگجو نوعمر تھے جنہیں بطور خودکش بمبار تربیت دی گئی تھی۔ انتہاپسندوں کی بحالی کا ایک پروگرام متعارف کروانے کی ضرورت محسوس کی گئی تھی۔"

سوات، پنجاب میں انتہاپسندی کا خاتمہ

رپورٹ میں کہا کہ کہ سوات میں انتہاپسندی کے خاتمے کے پروگرام میں شامل ہیں صباؤن جو 18-12 سال عمر کے جنگجوؤں کے لیے، راستون 25-19 سال عمر کے جنگجوؤں اور مشعل جنگجوؤں کے خاندانوں کے لیے ہیں، جو افراد کی بحالی کی دیکھ بھال اور نگرانی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

صباؤن ممکنہ خودکش بمباروں کی بحالی میں خصوصی مہارت کا حامل ہے، جبکہ راستون اور زیادہ تر دیگر مراکز سابق جنگجوؤں کے ایک زیادہ متنوع گروہ کا علاج کرتے ہیں۔

فوج، جو مراکز کی منتظم ہے، عام طور پر ان کی کارروائیوں پر اعدادوشمار کی محافظ ہے، لیکن صباؤن نے سنہ 2009 اور 2013 کے درمیان 200 سے زائد سابق عسکریت پسندوں کو بحال کیا تھا۔

حالیہ اعدادوشمار کے مطابق، راستون نے لگ بھگ 1،200 کو بحال کیا ہے۔

سوات کے صباؤن مرکز کی طرز پر تیار کردہ ایک ملتا جلتا انتہاپسندی کے خاتمے کا پروگرام سنہ 2012 سے پنجاب میں متحرک ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ لشکرِ طیبہ (ایل ای ٹی)، جیشِ محمد (جے ای ایم) اور شیعہ مخالف عسکری گروہوں جیسے کہ لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) اور سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے ساتھ منسلک سابق جنگجوؤں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

اپنی فعالیت کے برسوں کے دوران، پروگرام نے سینکڑوں سابق جنگجوؤں کو بطور عام شہری دوبارہ فعال ہونے کے لیے تربیت دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا، "پروگرام متاثر کن نظریاتی عقائد اور رویہ جاتی ترمیمی نمونوں پر مبنی ہے۔ یہ "تین حصوں: نفسیاتی تشخیص، مذہبی بحالی اور حرفتی تربیت" کے ساتھ "امتناع، بحالی اور متاخر دیکھ بھال کی کثیر شاخہ حکمتِ عملی پر تیار کیا گیا" تھا۔

عسکریت پسند نظریئے کا مقابلہ

سول سوسائٹی کے ارکان اور دفاعی تجزیہ کار سابق جنگجوؤں کو معاشرے میں دوبارہ یکجا کرنے کے لیے ان کو بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔

اسلام آباد کے مقامی تھنک ٹینک، مرکز برائے تحقیق و دفاعی مطالعات کے انتظامی ڈائریکٹر، امتیاز گل نے کہا، "انتہاپسندی سے چھٹکارا دلانا برین واش کیے گئے ان نوجوانوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔۔۔ جنہوں نے عسکری گروہوں کا نظریہ اپنے اندر جذب کر لیا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہزاروں لوگ، بشمول نوعمر لڑکے اور نوجوان، انتہاپسند بن چکے ہیں جنہیں بحال کرنے کی ضرورت ہے۔"

"ہزاروں" پاکستانی جو طالبان کی جانب سے اسلام کی گمراہ کن تشریح کے ہتھے چڑھ چکے ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو پورے پاکستان میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے پروگرام کا دائرۂ کار وسیع کرنے کے لیے مزید وسائل اور سرمایہ فراہم کرنا چاہیئے۔"

"ہزاروں انتہاپسند جنگجوؤں کو انتہاپسندی سے چھٹکارا دلانا اور اور بحال کرنا ایک مشکل کام ہے، لیکن یہ ناممکن نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "جنگجوؤں کو بحال کرنے اور انہیں انتہاپسندی سے چھٹکارا دلانے کے لیے شروع کیے گئے زیادہ تر پروگراموں کے لیے سرمایہ پاکستانی فوج فراہم کر رہی ہے، لیکن معاشرے میں مطلوبہ تبدیلیاں لانے کے لیے سول حکومت کو بھی اس عمل میں حصہ لینا چاہیئے۔"

سابق جنگجوؤں، خاندانوں کو معمول پر لانا

پشاور کے مقامی دفاعی تجزیہ کار اور سابق سیکریٹری برائے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا کہ فوج کا سول سوسائٹی اور این جی اوز کے ساتھ تعاون جنگجوؤں کی بحالی میں مدد کر رہا ہے، بشمول ایسے نوجوان جو جنگجوؤں کے گمراہ کن نظریات میں باآسانی پھنس سکتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "طالبان نے درجنوں ایسے نوجوانوں اور بچوں کی برین واشنگ کی ہے جو اسلام کے بارے میں زیادہ علم نہیں رکھتے اور انہیں ہمارے معاشرے میں انتہاپسندی کی مزید حوصلہ شکنی کرنے کے لیے انتہاپسندی سے تائب اور بحال کیا جا رہا ہے۔"

شاہ نے کہا، "میں سوات کے مالاکنڈ علاقے میں بحالی کے سب سے بڑے مرکز صباؤن جا چکا ہوں، جہاں ماہرینِ نفسیات، دینی علماء اور اساتذہ نوجوان جنگجوؤں کو تعلیم دے رہے ہیں اور انہیں مہذب شہریوں میں بدل رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "یہ ایک بہت اچھی مشق ہے جو سینکڑوں جنگجوؤں کو معمول پر لا رہی ہے، خصوصاً نوعمروں کو جو دوبارہ اس معاشرے کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔"

شاہ نے کہا کہ مختلف آپریشن انجام دیتے ہوئے، فوج نے جن بہت سے نوجوانوں کو پکڑا تھا اب انہیں بحال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "انتہاپسندی سے چھٹکارا دلانے کا پروگرام عسکریت پسندی کو خیرباد کہتے ہوئے ان کی ان کے خاندانوں اور آبائی شہروں کو واپسی کے لیے راستے کھول رہا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ انتہاپسندی چھوڑ رہے بچوں کے والدین کو بھی اس بارے میں تربیت دی جا رہی ہے کہ بعد میں ان بچوں کا خیال کیسے رکھنا ہے تاکہ وہ دوبارہ جنگجوؤں کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔

شاہ نے کہا کہ دہشت گرد کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کی بیواؤں کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔

مدارس میں اصلاحات کا اطلاق

کراچی کے مقامی دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے کہا کہ عسکریت پسندی صرف فوجی طاقت سے ختم نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حکومت کو انتہاپسندوں اور جنگجوؤں کی ذہنی کیفیت کو تبدیل کرنے کے لیے انتہاپسندی سے چھٹکارا دلانے کا پروگرام ملک کے کونے کونے تک وسیع کرنا چاہیئے۔"

انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کے حمایتی نظریات کے حامل مدارس کو ترجیحی بنیادوں پر اس پروگرام میں شامل کرنا چاہیئے۔ بٹ نے کہا، "ہزاروں نوجوان طلباء و طالبات ایسے دینی اداروں میں زیرِ تعلیم ہیں جن کا جھکاؤ طالبان اور دیگر عسکری گروہوں کی طرف ہے۔"

انہوں نے کہا، "دہشت گردی کے عفریت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے حکومت اور سول سوسائٹی کی شرکت ناگزیر ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 5

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

1 تبصرے 💬

💬

معاذ گل عربی | 12-25-2016

یہ بھت ہی اچھی کاوش ہے اس طرح پاکستان کے اندر ہزاروں افراد کو دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے جو ملک وقوم کی تعمیر و ترقی میں کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں ۔نفرتیں ختم کی جا سکتی ہیں۔اور گرفتار شدہ افراد کے والدین جو روز مرتے اور جیتے ہیں۔وہ بھی اس عذاب سے خلاصی پاجائیں گے۔اللہ اس کاوش کو ہائی جیک ہونے سے بچائے آمین ثم آمین


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج