2017-10-05 | دہشتگردی

بلوچستان میں خود کش حملہ آور کا سالانہ عرس کے دوران مزار پر حملہ

عبدالناصر خان

درجن بھر سے زیادہ جاں بحق ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار شامل ہیں جنہوں نے بمبار کو مزار میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔


جھل مگسی کے علاقے گنڈاوا میں 5 اکتوبر 2017 کو پاکستانی عقیدت مند ایک مزار کے قریب دھماکہ سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے گرد کھڑے ہیں۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]
جھل مگسی کے علاقے گنڈاوا میں 5 اکتوبر 2017 کو پاکستانی عقیدت مند ایک مزار کے قریب دھماکہ سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے گرد کھڑے ہیں۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]
جھل مگسی کے علاقے گنڈاوا میں 5 اکتوبر 2017 کو پاکستانی عقیدت مند ایک مزار کے قریب دھماکہ سے جاں بحق ہونے والوں کی لاشوں کے گرد کھڑے ہیں۔ [ایس ٹی آر/اے ایف پی]

درجن بھر سے زیادہ جاں بحق ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار شامل ہیں جنہوں نے بمبار کو مزار میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔

کوئٹہ – حکام نے تصدیق کی ہے جمعرات کو صوبہ بلوچستان کے ضلع جھل مگسی میں ایک مقامی صوفی کے مزار پر خود کش دھماکے میں کم ازکم 18 افراد جاں بحق اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں۔

جھل مگسی ضلع کے ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر اسد کاکر نے مقامی ذرائع ابلاغ کو بتایا، "دھماکے سے اب تک تین بچوں سمیت 18 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔"

حکومت بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، واقعہ صوفی بزرگ چیسل شاہ کے مزار کے داخلی مقام پر پیش آیا۔

کاکڑ نے بتایا، "بمبار نے اس وقت مزار میں گھسنے کی کوشش کی جب وہاں سالانہ عرس کے لئے لوگ اکٹھے تھے لیکن بمبار نے پولیس اہلکار کے روکنے پر اپنی دھماکہ خیز جیکٹ کو اڑا دیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار شامل تھے۔

"اموات کی تعداد بڑھ سکتی تھی اگر بمبار مزار کے اندر گھسنے میں کامیاب ہوجاتا جہاں سینکڑوں لوگ اکٹھے تھے،" بلوچستان کے وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے ذرائع ابلاغ کو بتاتے ہوئے مزید کہا کہ قریب میں سینکڑوں کو بچانے کے لئے پولیس اہلکاروں نے اپنی جان قربان کردی۔

کاکڑ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا اور شدید زخمیوں کو کوئٹہ اور قریبی اضلاع میں دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔

ایک مقامی صحافی توفیق احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”سیّد چیسل شاہ علاقہ کے صوفی بزرگ مانے جاتے ہیں اور لوگ عموماہر جمعرات کو جمع ہوتے ہیں لیکن آج ان کا عرس تھا اس لیے اجتماع عمومی طور کی نسبت زیادہ تھا۔“

احمد نے کہا، ”ممکن ہے کہ بمبار ان افراد تک رسائی چاہتا ہو جو چیسل شاہ کی شاعری سن رہے تھے اور اگر وہ اجتماع تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا تو تعداد سو سے زیادہ ہو جاتی۔“

احمد نے کہا کہ مسلمان زاہدوں کے علاوہ ہندو برادری اور دیگر مذاہب سے بھی متعدد افراد مزار پر اس سالانہ تقریب میں شرکت کرتے ہیں۔

یہ سانحہ 2005 میں — ایران اور افغانستان کے ساتھ مشترکہ سرحد رکھنے والے، تیل اور گیس سے زرخیزبلوچستان میں واقع-- اسی مزار پر ایک بم حملے کے بعد پیش آیا، جس میں 35 افراد جانبحق ہوئے۔

فوری طور پر کسی نے ذمّہ داری قبول نہیں کی۔

جیو نیوز نے خبر دی کہ دیگر اعلیٰ عہدیداران میں وزیرِ اعظم شاہد خاقان عبّاسی نے حملہ کی مذمّت کی اور کہا کہ دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں وہ ریاست کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پوری قوّت کے ساتھ ردِّ عمل دے گی اور دہشتگردوں کو امن کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

افغانستان میں افواج چھوڑنے کے نئے امریکی عہد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج