| دہشتگردی

پاکستان کی بلوچستان میں صوفی مزار پر خودکش حملے کی مذمت

عبدالغنی کاکڑ


بلوچستان کے سیکیورٹی اہلکارضلع خضدار میں صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار پر 12 نومبر کے خودکش حملہ میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس آئی ایل اور لشکرِ جھنگوی، دونوں نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں کم از کم 52 افراد جانبحق ہوئے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

بلوچستان کے سیکیورٹی اہلکارضلع خضدار میں صوفی بزرگ شاہ نورانی کے مزار پر 12 نومبر کے خودکش حملہ میں ہونے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آئی ایس آئی ایل اور لشکرِ جھنگوی، دونوں نے اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں کم از کم 52 افراد جانبحق ہوئے۔ [عبدالغنی کاکڑ]

کوئٹہ — پاکستانی حکام ضلع خضدار، بلوچستان میں معروف صوفی مزار پر 12 نومبر کے بم حملے کی پرزور مذمّت کرتے ہوئے ایک فوری تفتیش کا آغاز اور امن و سلامتی برقرار رکھنے کا عہد کر رہے ہیں۔

بلوچستان کے وزیر برائے داخلی و قبائلی امور میر سرفراز احمد بگٹی کے مطابق، وسطی بلوچستان کے ایک دورافتادہ پہاڑی علاقہ میں واقع درگاہ بلال شاہ نورانی مزار پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم 52 افراد جانبحق اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔

بگٹی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”یہ شعیہ کمیونیٹی [جو چند صوفی مقامات پر بکثرت جاتے ہیں] پر ایک سوچا سمجھا خودکش حملہ تھا، اور ابتدائی تفتیش سے تصدیق ہوئی ہے کہ یہ حملہ بلوچستان میں فرقہ ورانہ فسادات کی ذمہ دار ایک کالعدم تنظیم نے کیا ہے۔“

”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل) نے اپنی ملحقہ سائیٹس میں سے ایک کے ذریعے ذمہ داری قبول کی۔ القاعدہ اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ روابط کے حامل ایک کالعدم عسکریت پسند گروہ لشکرِ جھنگوی العلامی نے بھی ذمہ داری قبول کی۔

حکام اور نیوز رپورٹس کے مطابق، مجرم، جو مبینہ طور پر نوجوان لڑکا تھا، ایک عورت کے بھیس میں تھا۔ عینی شاہدین نے کہا کہ اس نے روزانہ قبل از شام منعقد ہونے والے رقصِ بے خودی، دھمال کے دوارن مزار کے وسط میں اپنی خودکش بیلٹ کو اڑا لیا۔

جائے وقوعہ ان صوفی کا 500 واں عرس منانے والے زاہدوں سے بھری تھی۔

بگٹی نے کہا، ”جانبحق اور زخمی ہونے والے زائرین میں متعدد عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔“

حکام کا کہنا ہے کہ فرقہ ورانہ فسادات براداشت نہیں کیے جائیں گے۔

بگٹی نے بلوچستان میں حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ”حملوں کی یہ نئی لہر ۔۔۔ ریاست مخالف گروہوں کی ایک سازش کا حصہ ہے جو ہمارے خطے میں فرقہ ورانہ فسادات بھڑکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ شدت پسند گروہ اپنے مقصد کو پھیلانے کے لیے بلوچستان میں دیرپا امن کے ہدف کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ”ریاست دہشتگردی سے نمٹنے کی اپنی پالیسی میں نہایت واضح ہے۔ ہم اپنی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔“

ایک اعلیٰ صوبائی انٹیلی جنس عہدیدار محمّد علی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”خودکش حملے کا سبب بننے والے سیکیورٹی نقص کی چھان بین کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ متعدد انٹیلی جنس ایجنسیوں سے اعلیٰ عہدیداران پر مبنی ایک تحقیقاتی ٹیم نے بھی [13 نومبر] کو حملہ کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور انہوں نے مزار سے چند شواہد حاصل کیے۔“

انہوں نے کہا، ”شاہ نورانی [مزار] عسکریت پسندوں کے لیے ایک نہایت آسان ہدف تھا، اور ابتدائی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ 12 کلوگرام سے زائد تیز دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔“

علی نے کہا، ”چند عینی شاہدین نے حکام کو بتایا کہ مجرم ایک حجاب پہنے ہوئے تھا۔ جائے وقوعہ سے خود کش حملہ آور کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ آئی ایس آئی ایل نے حملے کی تہسیل کی ہو گی۔“

انہوں نے کہا، ”5 نومبر کو انٹیلی جنس حکام نے خطرے کا ایک الرٹ جاری کیا اور صوبائی حکومت کو حساس سرکاری و غیر سرکاری عمارتوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کی تجویز دی، ہمیں اطلاعات ہیں کہ عسکریت پسندی تنظیمیں اعلیٰ قدر کے اہداف پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔“

سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر

حکومتِ بلوچستان کے ترجمان انوار الحق کاکڑ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر حساس حصّوں میں سیکیورٹی فورسز ہائی الرٹ پر ہیں اور صوبائی صدرمقام میں سیکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہم مزار پر وحشیانہ حملے کی پرزور مذمّت کرتے ہیں، جہاں معصوم لوگوں کو ہدف بنایا گیا۔ فرقہ ورانہ فسادات میں ملوث عسکریت پسند کبھی اپنے مقاصد پورے نہیں کر سکتے۔ ہمارا عزمِ مصمّم ہے کہ ہماری زمین سے دہشتگردوں کی مکمل بیخ کنی تک دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔“

انہوں نے کہا، ”قانون کی خلاف ورزی کرنے والے گو ریاست پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں، لیکن شاید وہ نہیں جانتے کہ ریاست کبھی قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور دشمن خطے میں دیرپا امن کی کوششوں کو پٹڑی سے اتارنے کی کوشش کر رہا ہے۔“

انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان ایک آہنی بازو سے عسکریت پسندوں کے ساتھ نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نفاذِ قانون کی ایجنسیاں پہلے ہی دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ”بلوچستان میں قیامِ امن حکومت کی اوّلین ترجیح ہے۔“

دہشت گردی کے خلاف متحد، امن کے لئے پرعزم

انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان کے میجر جنرل شیر افگن نے 13 نومبر کو بم دھماکے والے مزار کے دورہ کے موقع پر بتایا، "بلوچستان ایک پیچیدہ دور سے گزر رہا ہے اور جاری دہشت گردی صوبے میں امن عمل کو درہم برہم کرنے کی کوشش ہے۔"

انہوں نے بتایا، "دہشت گرد گروہ اپنے تباہ کن ایجنڈا کے ساتھ معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔"

ایسے وحشیانہ حملوں کی مذمت اور بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہے۔ معاشرہ کے نمام طبقات دہشت گردی کے خلاف متحد ہیں اور ہم اپنے دشمن کو یقیناً شکست دیں گے۔انہوں نے بتایا۔ "امن پوری قوم کا بنیادی مطلبہ ہے اور عام عوام اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی قربانیاں کبھی رائگاں نہیں جائیں گی۔"

"فرنٹیئر کور بلوچستان امن عمل میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے، اور لوگوں کی جان ومال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے،" انہوں نے بتایا۔ "حکومت عوام کے تعاون سے اپنی سرزمین کے خلاف ہونے والی تمام سازشوں کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کررہی ہے۔"

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے بھی شاہ نورانی مزار پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کی ہے۔

اپنے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شریف نے بتایا، اپنے تزویراتی محل وقوع کی بناء پر بلوچستان امن مخالف سرگرمیوں کا مرکزی نکتہ ہے۔

انٹیلی جنس بنیادوں پر متواتر کی جانے والی انسداد شرپسندی کارروائیاں مثبت نتائج دے رہی ہیں، اور عسکری گروہوں کو بڑے پیمانے پر شکست ہورہی ہے، انہوں نے 13 نومبر کو بلوچستان کے ضلع گوادر ایک تقریب کے موقع پر بتایا۔ ہم بہت پریقین ہیں کہ ایک دن ہم اپنے خطہ سے عسکریت پسندی کا خاتمہ کردیں گے۔

نواز شریف نے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا کے لئے 500,000 روپیہ (4,768 ڈالر) فی خاندان معاوضہ کا اعلان کیا۔ بچ جانے والے زخمیوں کو کم معاوضہ دیا جائے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

4
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha