|

سلامتی

کے پی پولیس نے فاٹا کی حدود کے ساتھ نگرانی کی 31 چوکیاں بنائی ہیں

حکام کا کہنا ہے کہ اس قدم کا مقصد پولیس کی حفاظت کرنا اور عسکریت پسندوں کو پشاور اور خیبر پختونخواہ کے دوسرے شہروں تک پہنچنے سے روکنا ہے۔

جاوید خان


خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس کے حکام کے مطابق، متنی میرا کے علاقے میں بم پروف پولیس چوکی کے لیے، جون میں دکھایا جانے والا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔ ]جاوید اقبال[

خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس کے حکام کے مطابق، متنی میرا کے علاقے میں بم پروف پولیس چوکی کے لیے، جون میں دکھایا جانے والا تعمیراتی کام تیزی سے مکمل ہو رہا ہے۔ ]جاوید اقبال[

پشاور -- خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس، پشاور کو عسکریت پسندوں کے حملوں سے محفوظ کرنے کے اقدامات کے حصہ کے طور پر، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کی حدود کے ساتھ، سیکورٹی کی 31 چوکیاں تعمیر کر رہی ہے۔

پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ ان چوکیوں میں سے کچھ کی تعیمر کا کام آخری مرحلے میں ہے جبکہ دیگر جلد ہی مکمل ہو جائیں گی۔

سینئر سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ اچھے طریقے سے تعمیر ہونے والی 31 سیکورٹی کی چوکیاں خیبر ایجنسی، مہمند ایجنسی اور ڈیرہ آدم خیل کی حدود کے ساتھ ایک ہلال کی شکل میں تعمیر کی جا رہی ہیں تاکہ پشاور کو ان قبائلی علاقوں سے ہونے والے کسی حملے سے بچایا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیکورٹی کی چوکیاں ہلال کی شکل میں پشاور کے جنوب سے شہر کے شمال مشرق تک واقع ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے ہلالی سیکورٹی پلان کا نام دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان چیک پوسٹوں کو بم پروف بنایا گیا ہے تاکہ پولیس اور پولیس اسٹیشن کو کسی بھی گھریلو ساختہ بم (آئی ای ڈی) یا راکٹ کے حملے سے بچایا جا سکے۔

سیکورٹی کی سات چوکیاں بڈھ بیر پولیس اسٹیشن کی حدود، پانچ متنی اور چار چار سربند اور ناصر باغ کی عملداری میں تعمیر کی گئی ہیں۔ متھرا میں دو، پشتاخیرا، داود زئی اور ارمر میں دو دو، اور بھانامری اور خزانہ پولیس اسٹیشنوں کی حدود میں ایک ایک کی تعمیر ابھی جاری ہے۔

خان نے کہا کہ "ان سب چوکیوں کو اے، بی اور سی کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے جہاں بالترتیب 45، 35 اور 25 پولیس والے تعینات کیے جائیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہر چوکی تقریبا دو کنالوں (1011.71 مربع میٹر) کے علاقے پر پھیلی ہوئی ہے تاکہ پولیس کے عملے کے ساری سہولیات عمارت کے اندر ہی فراہم کی جا سکیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان سہولیات کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ ان میں سے کچھ، چند ہفتوں میں مکمل ہو جائیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ سیکورٹی کی چوکیوں میں انچارج افسر کے لیے دفاتر، ایک کانفرنس روم، رہائشی بیرکیں، غسل خانے، ایک باورچی خانہ اور دیگر ضروری سہولیات میسر ہوں گی۔

کے پی بھر میں سیکورٹی کو بہتر بنانا

کے پی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے کہا کہ سیکورٹی کی چوکیاں صوبے اور خصوصی طور پر بڑے شہروں کو محفوظ بنائے جانے کے لیے اٹھائے جانے والے بہت سے اقدامات میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "قبائلی علاقوں کی حدود کے ساتھ یہ تمام چوکیاں، صوبائی دارالحکومت اور اس کے عوام کی سیکورٹی کو یقینی بنائیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ "سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت، پشاور کے 850 سے زیادہ مقامات پر 6,000 کلوزڈ سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے (سی سی ٹی وی) نصب کیے گئے ہیں"۔

محسود نے کہا کہ "نئی تعیمر شدہ چوکیاں اور پشاور میں سی سی ٹی وی کیمرے پولیس کو امن و امان قائم رکھنے میں مدد کریں گے اور جانوں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنائیں گے"۔

انہوں نے کہا کہ مضبوط پولیس عمارات کی تعیمر کے پی پولیس کے سیکورٹی پلان کا ایک اور حصہ ہے۔

پشاور کے سپریٹنڈنٹ آف پولیس شوکت خان نے 21 جون کو زیرِ تعمیر سیکورٹی کی چوکیوں میں سے ایک کے دورے کے دوران اخباری نمائندوں کو بتایا کہ "متنی کے علاقے میں ایک بم پروف عمارت تعمیر کے آخری مراحل میں ہے جہاں ہمارے جوان ایک خستہ گھر میں تعینات ہیں جسے حالیہ سالوں میں بہت دفعہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا"۔

انہوں نے کہا کہ نئی عمارت بہت سے پولیس اہلکاروں کی جان بچائے گی کیونکہ ان میں سے کئی سو، پچھلے کئی سالوں کے دوران قبائلی علاقوں کے قریب سیکورٹی کی چوکیوں پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "زیادہ تر حملے ماضی میں متنی، بڈھ بیر اور سربند کے علاقوں کی حدود میں کیے گئے جن میں نہ صرف جونئیر پولیس اہلکاروں بلکہ سینئر افسران کی جانیں بھی گئی ہیں"۔

سنیئر پولیس افسران پر حملے

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی قیصر خان نے حالیہ سالوں میں ہونے والے ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جہاں سینئر پولیس افسران کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

مئی 2013 میں متنی میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں کوہاٹ ڈسٹرکٹ کے پولیس افسر دیالور بنگش زخمی جب کہ ان کے قافلے کے چھہ نوجوان ہلاک ہو گئے تھے۔

اکتوبر 2012 میں سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) خورشید خان اور دیگر چھہ افراد متنی میں چوکی پر ہونے والے ایک حملے میں ہلاک ہو گئے جب کہ علاقے کے ایک اور ایس پی کلام خان مئی 2012 میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

جنوری 2011 میں، ڈپٹی ایس پی راشد خان کو پشاور میں ایک خودکش بمبار نے ہلاک کر دیا تھا۔

قیصر خان نے کہا کہ 2006 سے اب تک متنی، بڈھابیر، سربند اور فاٹا کی حدود کے قریبی علاقوں میں پولیس کی چوکیوں اور پولیس کی گاڑیوں پر لا تعداد حملے ہو چکے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فاروڈ کو بتایا کہ "متنی، بڈھابیر، سربند، متھرا اور ارمار میں بم پروف عمارات سے نہ صرف پولیس اہلکاروں کو بم اور راکٹ کے حملوں سے تحفظ ملے گا بلکہ دہشت گردوں کو قبائلی علاقوں کے راستے پشاور میں داخل ہونے سے بھی روکا جا سکے گا"۔

کیپٹل سٹی پولیس کے انسپکٹر ممتاز خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی پولیس کا پراجیکٹ کوارڈی نیشن یونٹ جس کی سربراہی ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس کرتے ہیں، ان پولیس کی چوکیوں کی تعمیر کی نگرانی کر رہا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے 800 ملین روپے (7.5 ملین ڈالر) مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر سیکورٹی کی چوکیوں پر تعمیر آخری مراحل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ان عمارات میں جلد ہی پولیس تعینات ہو جائے گی"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج