|

معیشت

امن کی بحالی کے ساتھ فاٹا کی معیشت کی پٹڑی پر واپسی

قبائلی خطے میں امن سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، جس میں معاشی سرگرمی اور ملازمتوں کی واپسی شامل ہے۔

از عدیل سعید


شمالی وزیرستان میں ایک نئی مارکیٹ میں ایک دکان مارچ کے مہینے میں دکھائی گئی ہے۔ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کو ایجنسی سے نکالنے کے بعد قبائلی عوام اپنے روزگاروں کی تعمیرِ نو کر رہے ہیں۔ [عدیل سعید]

شمالی وزیرستان میں ایک نئی مارکیٹ میں ایک دکان مارچ کے مہینے میں دکھائی گئی ہے۔ فوج کی جانب سے دہشت گردوں کو ایجنسی سے نکالنے کے بعد قبائلی عوام اپنے روزگاروں کی تعمیرِ نو کر رہے ہیں۔ [عدیل سعید]

پشاور -- خیبر ایجنسی کے علاقے کاجوری سے تعلق رکھنے والے، 40 سالہ یار ولی ماضی میں دہشت گردی سے تباہ حال وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں امن کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اپنے خطے میں بندوق بردار دہشت گردوں کی جانب سے پھیلائے گئے خوف کی وجہ سے قبائلی عوام نے جن مشکلات کا سامنا کیا ہے جب ہم انہیں یاد کرتے ہیں تو یہ ایک ڈراؤنا خواب لگتا ہے۔"

یار ولی ان ہزاروں قبائلیوں میں سے ایک تھے جو فاٹا میں بے نظیر لاقانونیت اور معاشی سرگرمیوں کی بندش کی وجہ سے اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے تھے۔

انہوں نے کہا، "ایک ایسے وقت میں جب کہ آپ غیر متوقع دکھوں میں پھنسے ہوئے ہوں آمدن سے محروم ہو جانا زندگی کے مشکل ترین مراحل میں سے ایک ہے۔ ہمیں ملک کے دیگر حصوں میں منتقل ہونا پڑا اور محض گزارہ کرنے کے لیے روزانہ کی اجرت کی خاطر گھٹیا مزدوری کرنی پڑی۔"

تاہم، اب خیبر ایجنسی میں باڑہ بازار دوبارہ کھلنے کے بعد یار ولی اپنے گھر واپس لوٹ آئے ہیں، جہاں انہوں نے ایک محافظ کے طور پر اپنی ملازمت دوبارہ شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا، "اپنے گھر واپس لوٹنے اور وہی پرانی ملازمت دوبارہ شروع کرنے نے کسی حد تک زخم بھر دیئے ہیں [۔۔۔] اور مستقبل میں ایک اچھی زندگی کے لیے میری امید کو زندہ کر دیا ہے۔"

کاروبار کی واپسی

عسکریت پسندی اور دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنوں کی وجہ سے باڑہ بازار سنہ 2009 میں بند ہو گیا تھا۔ پاکستانی حکام نے فروری 2016 میں باڑہ مارکیٹ کو فاٹا کی معیشت کی بحالی کے مقصد سے دوبارہ کھولا تھا۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ میں ایک پلاسٹک بیگ فیکٹری کے مالک، عمران آفریدی نے کہا، "باڑہ [بازار] میں لگ بھگ 200 چھوٹی بڑی صنعتیں تھیں جو ہزاروں لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی تھیں۔"

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی کو ختم کرنے کی کارروائیوں سے پہلے، وہ دو شفٹوں میں کام کرتے تھے اور ان کے ہاں 200 ملازم تھے۔

انہوں نے کہا کہ امن واپس لوٹنے کے بعد، وہ ایک شفٹ چلا رہے ہیں اور یہ دیکھنے کے منتظر ہیں کہ کام کیسا چلتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ باڑہ بازار میں اندازاً 200 صنعتی یونٹوں میں سے، تقریباً آدھے ابھی تک دوبارہ کھلے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فیکٹری کو بند کرنے کے معاشی نقصانات بہت زیادہ تھے، لیکن ہم خوش ہیں کہ کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔"

مقامی معیشتوں کی بحالی

فاٹا سیکریٹیریٹ ڈائریکٹوریٹ آف پراجیکٹس کے ڈپٹی ڈائریکٹر نعمان محمد نے کہا، "ایک قدرتی یا پیچیدہ ہنگامی حالت کے عواقب میں معاشی سرگرمی کا احیاء ہمیشہ منصوبہ سازوں کے اہم ترین کاموں میں سے ایک ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں، حکام نے آپریشن ضربِ عضب جیسی انسدادِ عسکریت پسندی مہمات کی کامیابی کے بعد تعمیرِ نو کا آغاز کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اس اقدام کا ایک حصہ پورے فاٹا میں مقامی معیشتوں کی بحالی اور عسکریت سے متاثرہ آبادی کو روزگار مہیا کرنے کے مقصد سے مارکیٹوں کی تعمیر اور بحالی ہے۔"

نعمان نے کہا کہ سنہ 2015 میں عالمی بنک کے 75 ملین ڈالر (7.9 بلین روپے) کے قرض کی مدد سے، پاکستانی حکومت نے واپس لوٹنے والے خاندانوں کی امداد کے لیے منصوبوں کا نفاذ شروع کیا تھا۔

انہوں نے کہا، "عسکریت پسندی سے متاثرہ قبائلیوں کی فوری بحالی کی توجہ تعلیم، صحت، پانی کی رسد کے نظاموں، روزگار، مارکیٹوں اور بجلی کی بحالی پر مرکوز ہے۔"

روزگار کو بہتر بنانا

فاٹا سیکریٹریٹ کے قدرتی وسائل کے انتظامی مشیر، ثناء اللہ خان نے کہا کہ روزگار کو بہتر بنانا "فاٹا میں بحالی کے لیے اعلیٰ ترجیحات میں سے ایک رہا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ سنہ 2015 میں، فاٹا میں زرعی معیشت کی بحالی اور ترقی کے لیے اقوامِ متحدہ کے زیرِ انتظام امداد کا منصوبہ (جس کے لیے کئی غیرملکی حکومتوں نے سرمایہ فراہم کیا تھا)، 16.1 ملین ڈالر (1.7 بلین روپے) کے ابتدائی بجٹ کے ساتھ شروع ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام، جس کا مقصد فاٹا کے واپس لوٹنے والے مکینوں کو روزگار فراہم کرنا تھا، سے 30،000 سے زائد گھرانے 134 پھلوں کے باغات لگانے اور تحصیل باڑہ میں 283 ایکڑ زرعی رقبے کو بحال کرنے کے ذریعے مستفید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کارکن مزید 1,813 ایکڑ کو دوبارہ آباد کر رہے ہیں۔

ثناء اللہ نے کہا کہ مقامی کسانوں کی استعداد بڑھانے کے لیے، پروگرام نے کسانوں کے 104 عملی اسکول خیبر، کرم اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں کھولے اور خواتین کے 42 کھلے اسکول خیبر اور کرم ایجنسیوں میں قائم کیے گئے۔ خواتین کے کھلے اسکول خواتین کو باغبانی اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے جیسے معاشی ہنر سکھاتے ہیں۔

ثناء اللہ نے کہا کہ مزید برآں، سنہ 2016 میں خیبرپختونخوا (کے پی) گورنر ظفر اقبال جھگڑا نے ایک چار سالہ فاٹا زرعی ایکشن پلان کی منظوری دی تھی جس سے، نافذ ہونے پر، تقریباً 193،000 حساس دیہی خاندانوں، یعنی کہ 1.5 ملین سے زائد افراد کو براہِ راست فائدہ ہو گا۔

ملازمین نے فاٹا میں 15 تیل اور گیس کے بلاکس کا زلزلوں کا سروے مکمل کر لیا ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے جھگڑا نے کہا، "فاٹا میں معیارِ زندگی کو بلند کرنا حکومت کی اعلیٰ ترجیح ہے۔"

انہوں نے کہا کہ قدرتی ذخائر قبائلی علاقوں میں سینکڑوں ہزاروں ملازمتیں پیدا کرنے کے علاوہ، 20 ٹریلین مکعب فٹ گیس پیدا کرنے کے قابل ہیں۔

قبائل کو بھرتی سے بچانا

فاٹا سیکریٹیریٹ کے لیے بنیادی ڈھانچے اور بازگشت کے ماہر، شاہ ناصر خان نے کہا، "دہشت گردوں کے خلاف حالیہ اور جاری کارروائیوں کی وجہ سے فاٹا کی معیشت کو ہونے والے نقصان نے نہ صرف بہت سے لوگوں کے روزگار میں خلل ڈالا ہے بلکہ مقامی لوگوں کی زدپذیری اور مایوسی میں بھی اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ فاٹا کی منڈی کے بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصان نے مقامی رسد کے سلسلوں اور بیرونی منڈیوں کے ساتھ روابط میں خلل ڈالا ہے، جبکہ جنگ نے ملازمتوں کی تخلیق اور غذائی تحفظ کو بہت محدود کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "اس منظر نامے میں، معاشی سرگرمی کا احیاء ناگزیر ہے اور قبائلیوں کو روزگار میں مناسب امداد فراہم کرنے اور انہیں عسکریت پسندوں سے بچانے کے لیے ضروری ہے جو عموماً وفاداری خریدنے کے لیے پیسہ استعمال کرتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج