|

سلامتی

واپس آنے والے فاٹا کے رہائشیوں نے تعمیرِ نو میں حصہ لینے کا عہد کیا

فاٹا کے بے گھر ہو جانے والے رہائشی گھروں کو واپس جانے پر انتہائی خوش ہیں اور سیکورٹی کے بہتر ہو جانے کے بعد اپنی زندگیوں کی طرف واپس لوٹ آئے ہیں۔

سٹاف رپورٹ


کئی سال تک ٹانک ڈسٹرکٹ، کے پی میں قیام کے بعد، تین اگست کو فاٹا کے بے گھر ہو جانے والے افراد جنوبی وزیرستان میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ]اشفاق یوسف زئی[

کئی سال تک ٹانک ڈسٹرکٹ، کے پی میں قیام کے بعد، تین اگست کو فاٹا کے بے گھر ہو جانے والے افراد جنوبی وزیرستان میں اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ ]اشفاق یوسف زئی[

پشاور - وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے افراد (آئی ڈی پیز) انتہائی شوق سے گھروں کو واپس آ رہے ہیں تاکہ وہ تعمیرِ نو میں حصہ لے سکیں۔

یہ واپسی فوج کی طرف سے جون 2014 میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے شمالی وزیرستان میں شروع کی جانے والی مہم کے بعد ممکن ہوئی ہے۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی کے ایک رہائشی مسعود محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم اپنے آبائی گاؤں جانے کا انتہائی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں تاکہ ہم تعمیرِ نو کی کوششوں میں حصہ لے سکیں اور آبائی علاقے میں پائدار امن قائم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کی مدد کر سکیں"۔

مسعود کا خاندان خیبر پختونخواہ (کے پی) کی بنوں ڈسٹرکٹ میں رہائش پذیر ہے جہاں 100,000 دوسرے خاندان بھی 2012 سے مقیم ہیں جب فوج نے شمالی وزیرستان میں اس سے پہلے طالبان کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس لڑائی نے ان خاندانوں کے لیے اپنے ابائی گھروں میں رہنا ناممکن بنا دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "بے گھر ہو جانے والے افراد کی اکثریت جلد از جلد اپنے آبائی گاؤں کو واپس جانا چاہتی اور وہاں پر کاروبار شروع کرنا چاہتی ہے۔ جب معمول کی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز ہو جائے گا تو مکمل امن قائم ہو جائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "ماضی میں، عسکریت پسندوں نے بے روزگار نوجوانوں کو بہکا کر اپنی صفوں میں شامل کر لیا تھا مگر کاروبار کی بحالی کے بعد، عسکریت پسندوں کو کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ہم اپنے علاقوں میں دہشت گردی پر طالبان کے عسکریت پسندوں کی بھرپور مذمت کرتے ہیں جس نے ہمارے کاروباروں، باغبانی، تعلیم اور صحت عامہ کی سہولیات کو متاثر کیا ہے"۔

350,000 خاندانوں کی گھروں کو واپسی

کئی سالوں کے دوران عسکریت پسندی اور انسدادِ دہشت گردی کی مہمات کے باعث 447,000 خاندان فاٹا سے بھاگ گئے اور انہوں نے پاکستان کے دوسرے علاقوں میں پناہ حاصل کی۔ یہ بات فاٹا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایف ڈی ایم اے) نے بتائی۔

ایف ڈی ایم اے کے سینئر اہلکار خالد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ابھی تک، 350,000 خاندان اپنے آبائی علاقوں کو واپس چلے گئے ہیں اور باقی کو بھی سال کے آخیر تک واپس بھیج دیا جائے گا۔

خیبر ایجنسی کے ایک رہائشی شاہ جہان آفریدی نے حالیہ وطن واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔

آفریدی ان 91,000 خاندانوں میں شامل تھا جو بے گھر ہو کر جلوزئی میں اس وقت آئے جب فوج نے 2013 میں خیبر ایجنسی میں عسکریت پسندوں کے خلاف مہم کا آغاز کیا۔ فوج نے اپنا مشن 2015 کے وسط میں مکمل کر لیا اور خیبر کے آئی ڈی پیز کے لیے گھروں کو واپس جانے کا راستہ ہموار کیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عسکریت پسندوں کے خلاف مہم نے لوگوں کو خوش کر دیا ہے خصوصی طور پر ان دکان داروں کو جن کے لیے باڑا بازار فروری میں دوبارہ کھل گیا تھا"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بازار جو چار سالوں سے بند پڑا تھا اب تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

آفریدی نے کہا کہ "ہم کئی سالوں سے اپنا جنرل اسٹور چلانے کے قابل نہیں تھے مگر اب ہم کاروبار میں واپس آ گئے ہیں۔ گزشتہ چند سال ہمارے لیے انتہائی مشکل تھے جب ہمیں جلوزئی میں رہتے ہوئے کھانے اور دوسری اشیائے ضرورت کو حاصل کرنے میں انتہائی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ فوج نے عسکریت پسندی کا خاتمہ کرنے اور مقامی لوگوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے اور دیگر پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

لوگ "پائدار امن کا عزم رکھتے ہیں"

ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق، جنوبی وزیرستان ایجنسی میں صورت حال معمول کی طرف آ گئی ہے۔ بے گھر ہو جانے والے خاندانوں میں سے ابھی تک واپس جا چکے ہیں۔

احسان اللہ شاہ جو حال ہی میں کے پی سے اپنے گھر واپس لوٹے ہیں نے کہا کہ جنوبی وزیرستان "تین سال پہلے عسکریت پسندی کا گڑھ" تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب "لوگ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں کیونکہ فوج بازاروں اور گاؤں میں گشت کر رہی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کے پی کو ہماری ہجرت کے وقت، ہمارا علاقہ عسکریت پسندوں سے بھرا ہوا تھا جن کا ہر چیز پر کنٹرول تھا مگر اب صرف فوج اور عوام موجود ہیں"۔

مستری کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے شاہ نے دوبارہ سے امن کے ماحول میں رہنے اور کام کرنے کے قابل ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی نے فوج کو یقین دلایا ہے کہ وہ ان کی ہر ممکن مدد کریں گے کیونکہ وہ مسائل پیدا کرنے والوں سے انتہائی تنگ آ چکے ہیں اور وہ تشدد کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

شاہ کو اسکولوں کو دوبارہ کھلا دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے جنہیں طالبان نے زبردستی بند کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ "فوجی مہم نے نہ صرف کاروباروں کی بحالی کو ممکن بنایا ہے بلکہ طلباء کو اپنی تعلیم جاری رکھنے میں بھی مدد فراہم کی ہے۔ لوگ پائدار امن کے لیے کام کرنے کا عزم رکھتے ہیں کیونکہ انہیں ماضی میں دراندازوں کی طرف سے بہت سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا ہے"۔

ایف ڈی ایم اے کے مطابق، اورکزئی ایجنسی میں 35,000 خاندان حالیہ سالوں میں طالبان کی طرف سے نافذ کیے جانے والے انتہائی سخت قوانین کی وجہ سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر گئے تھے۔ اب ان میں سے 26,000 خاندان واپس آ گئے ہیں۔

اورکزئی ایجنسی کے دارالحکومت کلیالا کے ایک رہائشی ملک عزیز خان نے کہا کہ "واپس آنے والے تمام افراد نے عہد کیا ہے کہ وہ پرامن رہیں گے اور عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں فراہم نہیں کریں گے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عسکریت پسندی کے شکار تمام افراد نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں کی تعمیرِ نو میں حصہ لیں گے۔ وہ تشدد اور عسکریت پسندوں کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے انہیں دور دراز کے علاقوں میں ہجرت کرنے اور انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے حکومت کو یقین دلایا ہے کہ ہم دہشت گردوں کا تعاقب کرنے اور انہیں دوبارہ داخل ہونے سے روکنے میں فوج کی مدد کریں گے"۔

آئی ڈی پیز کی جوق در جوق واپسی

دوسرے قبائلی اضلاع جہاں تین سال پہلے عسکریت پسندوں کا قبضہ تھا اب مکمل طور پر حکومت کے قبضے میں واپس آ چکے ہیں۔

ایف ڈی ایم اے کے اعداد و شمار کے مطابق، دہشت گردی سے بے گھر ہو جانے والے کرم ایجنسی کے 33,000 خاندانوں میں سے 28,000 واپس چلے گئے ہیں جب کہ باجوڑ ایجنسی میں 72,000 اور مہمند ایجنسی میں 36,000 واپس چلے گئے ہیں۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ قبائلی آبادی کے پاس اپنے محفوظ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے دہشت گردوں کے خلاف حکومت کی مہم کی مدد کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ "فاٹا کی آٹھ ملین سے زیادہ کی آبادی کو دس سال سے زیادہ کے عرصے سے عسکریت پسندی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی ملازمتیں، کاروبار اور انتہائی پیارے اس کا نشانہ بن چکے ہیں اور اب وہ اس غیر قانونیت کو مزید برداشت نہیں کر سکتے"۔

انہوں نے کہا کہ "لوگ عسکریت پسندوں کے خاتمے اور اپنی زنذگیوں کو دوبارہ سیدھے راستے کی طرف لانے پر، فوج کے شکرگزار ہیں"۔

مہمند ایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نوید خان نے حکومت کے ساتھ تعاون کرنے پر بے گھر ہو جانے والی آبادی کا شکریہ ادا کیا.

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "لوگ دہشت گردی کو شکست دینے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور حکومت ان کی کوششوں کی قدر کرتی ہے۔ مقامی آبادی کی نہ ختم ہونے والی مدد سے ہم عسکریت پسندوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر سکتے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا نگران حکومت 25 جولائی کو شیڈول کردہ عام انتخابات کو صاف اور شفاف انداز میں کروانے کے قابل ہو گی؟

نتائج