|

دہشتگردی

پاک فوج کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شہریوں سے تعاون کی درخواست کا اعادہ

دہشت گرد حملوں کو روکنے میں مدد دینے کے لیے سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مکین 1135 پر، جبکہ کے پی اور فاٹا کے مکین 1125 پر کال کر سکتے ہیں۔

از عدیل سعید


3 مارچ کو خیبر ایجنسی میں پاکستانی نیم عسکری فورسز مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے ہتھیار میڈیا میں پیش کرتے ہوئے۔ دستوں نے ملزمان کو آپریشن رد الفساد کے دوران گرفتار کیا تھا۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

3 مارچ کو خیبر ایجنسی میں پاکستانی نیم عسکری فورسز مشتبہ دہشت گردوں اور ان کے قبضے سے برآمد ہونے والے ہتھیار میڈیا میں پیش کرتے ہوئے۔ دستوں نے ملزمان کو آپریشن رد الفساد کے دوران گرفتار کیا تھا۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

پشاور -- پاکستانی فوج عوام سے کہہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا دیگر کوئی بھی معلومات جو دہشت گرد حملے کو بے نقاب کر سکتی ہو، کی اطلاع دینے کے لیے اس کی ہیلپ لائن استعمال کریں۔

سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے مکینوں سے 1135 پر کال کرنے کو کہا گیا ہے، جبکہ خیبرپختونخوا (کے پی) اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے مکین 1125 پر کال کر سکتے ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، کال کرنے والے حضرات موبائل فون یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کی لینڈ لائنز استعمال کر سکتے ہیں۔

26 فروری کو جاری ہونے والے آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق، پنجاب رینجرز نے عوام سے کہا ہے کہ "وہ مشکوک سرگرمی/دہشت گردی سے متعلقہ معلومات کی اطلاع" 99220030-042 یا 99221230 پر کال کر کے، 8880047-0340 پر پیغام بھیج کر، 8880100-0340 پر واٹس ایپ پیغام کے ذریعے یا [email protected] پر ای میل کرتے ہوئے دے سکتے ہیں۔

دہشت گردی میں اضافہ

عوامی تعاون کے نئے مطالبات گزشتہ ماہ پاکستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے کیے گئے ہیں جن میں تقریباً 100 جانیں گئی ہیں، بشمول لاہور اور سیہون، صوبہ سندھ میں بم دھماکے۔

یہ اس وجہ سے بھی کیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے 22 فروری کو دہشت گردوں کے خلاف اپنا سب سے بڑا حملہ، آپریشن رد الفساد شروع کیا ہے۔

آئی ایس پی آر پشاور کے کرنل شاہد نے کہا، "فوج نے عوام الناس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کی اپنی درخواست کو دوہرایا ہے جو کہ ہیلپ لائن استعمال کرتے ہوئے کسی بھی مشکوک سرگرمی کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو معلومات فراہم کرنے کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔"

ہیلپ لائن 16 دسمبر 2014 کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے، جس میں 140 سے زیادہ بچے اور اساتذہ جاں بحق ہوئے تھے، کے بعد قائم کی گئی تھی۔

شاہد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "غالب آ رہے منظرنامے میں، جہاں ملک میں خونریز بم دھماکوں کی شکل میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے، ہماری ہیلپ لائن استعمال کرنے کی درخواست کو دوہرایا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "عوام الناس کی مدد اور تعاون کے بغیر، دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی اور اس عفریت کا ملک سے خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔"

موصول ہونے والی ہر کال پر کال کرنے والے کی اطلاع کی تصدیق کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے فوری کارروائی کی جاتی ہے کا اضافہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ عوام اس نظام کو استعمال کر رہے ہیں اور "دہشت گردی کے خلاف جاری ہماری جنگ میں اپنی ذمہ داری کا اظہار کر رہے ہیں۔"

ہیلپ لائن نمبر 1125 پر کالیں وصول کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا سے بہت زیادہ کالیں موصول ہو رہی ہیں۔

اہلکار جو کہ اپنا نام نہیں بتانا چاہتے تھے، نے کہا کہ مختلف سماجی شعبوں، بشمول قبائل کے ارکان مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں معلومات فراہم کر رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اچھا ردِعمل اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں نقلی کالیں کبھی کبھار ہی موصول ہوتی ہیں۔"

انہوں نے کہا، "بعص اوقات لوگ سہولت کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔ کیونکہ انہیں کسی دوسرے سے رنجش ہوتی ہے۔ تاہم، ہم کارروائی کرنے سے پہلے ہر کال کی تصدیق کرتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "غلط استعمال کی صورت میں، ہم کال کرنے والے کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔"

تعاون کے لیے ذمہ داری

پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کے صدر، احتشام حلیم نے کہا، "عوام سے مدد مانگنا ۔۔۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایک مؤثر طریقہ ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک کے کونے کونے میں اپنی موجودگی کو یقینی نہیں بنا سکتے اور مقامی لوگ بہترین شاہد ہیں جو اپنے علاقے میں مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھ سکتے ہیں۔"

احتشام، جن کے والد فروری 2016 میں دہشت گردوں کی کارروائیوں میں جاں بحق ہو گئے تھے، نے کہا، "دہشت گردی نے پاکستان کے عوام اور املاک کو بے شمار نقصان پہنچایا ہے۔ اس عفریت کے خاتمے کے لیے، ہم سب کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کرنی ہے۔"

انہوں نے کہا، "آپریشن رد الفساد ۔۔۔ یقینی طور پر ہمارے ملک سے دہشت گردی کے خطرے کو ختم کر دے گا۔"

سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ استقلال کے صدر، رحمت خان وردگ نے کہا، "اگر ہم ایک پُرامن ماحول میں رہنا چاہتے ہیں، پھر ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 110 فیصد مدد کرنا ہو گی۔"

وردگ نے شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ اپنے علاقوں کے مکینوں پر نظر رکھیں اور اگر وہ کوئی بھی غیرمعمولی چیز دیکھتے ہیں تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عوام دہشت گردی کے خلاف جاری ہماری جنگ میں ایک بہت مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں، اور ہر کسی کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیئے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 6

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

7 تبصرے 💬

💬

Syedaiqra | 04-07-2017

اسلامُ علیکم جناب میں سالِ اول کا طالبِ علم ہوں، ۔۔۔ میری عمر 17 برس ہے۔۔۔ میں پاک فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں!!


💬

FAYSAL KHAN | 04-07-2017

میں پاک فوج میں شامل ہونا چاہتا ہوں


💬

tariq | 04-03-2017

sir muji pak army join karna ha


💬

Nasir Dawar | 04-02-2017

پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغانیوں کو باعزت نکال کر باقی اگر دہشتگرد ہے تو میڈیا دیکھانے کے بھی لائق نہیں انہیں شوٹ کیا جائے،،


💬

Hassan Zahif | 03-28-2017

مجھے پاک فوج سے پیار ہے۔


💬

Hina Kiran | 03-27-2017

ہر شہری کو دہشتگردی پر قابو پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے۔


💬

H.Rehman | 03-11-2017

یہ پاکستان کی انسدادِ دہشتگردی فورسز کی جانب سے خیرمقدم کا ایک اقدام ہے۔ میرا خیال ہے کہ حکومتِ پاکستان اور صوبائی حکومتوں کو چاہیئے کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات دیں تاکہ اس بلا کی بیخ کنی کے لیے تعاون کی سطح کو بہتر بنایا جا سکے۔ مقامی کاؤنسلروں اور چیئرمین/وائس چیئرمین کا کردار اور ان کا ملوث ہونا انٹیلی جنس کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں تاکہ وہ مکنہ طور پر شہروں/قصبوں اور دیہات میں موجود دہشتگردوں کی کمین گاہوں سے متعلق معلوم کر سکیں۔


انتخاب

افغانستان میں طالبان کے ممکنہ امن مذاکرات میں پاکستان کو کیا کردار ادا کرنا چاہیئے؟

نتائج