|

سلامتی

خیبرپختونخوا ریسکیو 1122 کی کارروائیوں کو وسیع کر رہا ہے

پشاور اور مردان میں کامیابی کے بعد، ہنگامی حالات کے شعبے کو دیگر اضلاع تک وسیع کر دیا گیا ہے۔

از جاوید خان


دسمبر 2014 میں ریسکیو اہلکار پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد مصروفِ عمل ہیں۔ کے پی حکام ریسکیو 1122 کو صوبے کے دیگر حصوں تک وسیع کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

دسمبر 2014 میں ریسکیو اہلکار پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد مصروفِ عمل ہیں۔ کے پی حکام ریسکیو 1122 کو صوبے کے دیگر حصوں تک وسیع کر رہے ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور -- حکام کا کہنا ہے کہ پشاور اور مردان میں دہشت گردی اور دیگر حادثات سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے میں کامیابی کا ثبوت ملنے کے بعد خیبرپختونخوا (کے پی) کے حکام ریسکیو 1122 کے شعبے کی کارروائیوں کے دائرۂ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل اسد علی خان نے کہا، "ریسکیو 1122 کے شعبے کو اگست میں سوات، ایبٹ آباد اور ڈیرہ اسماعیل خان تک وسیع کیا گیا تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شعبے کا اجراء مارچ 2010 میں پشاور میں کیا گیا تھا جب ہر طرف بم دھماکے ہوا کرتے تھے۔ کسی بھی خصوصی محکمے کی عدم دستیابی جانوں کے ضیاع کا سبب تھی جو کہ بچائی جا سکتی تھیں۔"

وزیرِ اعلیٰ کے پی پرویز خٹک نے 13 اگست کو مینگورہ میں شعبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا، "ریسکیو 1122 سوات اور دیگر اضلاع کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔"

وزیرِ اعلیٰ نے اس کردار پر روشنی ڈالی جو ریسکیو 1122 نے دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول اور گزشتہ جنوری میں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر دہشت گرد حملوں، نیز پشاور اور مردان میں دیگر واقعات میں کارروائیاں کرنے میں ادا کیا تھا۔

خٹک نے کہا، "کے پی حکومت نظام میں اصلاحات کر رہی ہے۔ یہ نیا شعبہ صوبے کے عوام کی زندگیاں بچانے میں مدد کرے گا اور کسی بھی ہنگامی حالت کی صورت میں انہیں راحت مہیا کرے گا۔"

پشاور، مردان میں کامیابی

شعبے کے ڈائریکٹر جنرل خان کے مطابق، مارچ 2010 میں اپنے آغاز کے بعد سے، ریسکیو 1122 کے عملے نے پشاور میں 17،000 سے زائد اور مردان میں 12،000 ہنگامی حالات میں کارروائیاں انجام دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں نے خود کش دھماکوں، گولہ باریوں، ٹریفک حادثات اور دیگر پرتشدد واقعات کے متاثرین کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا ہے۔

انہوں نے کہا، "اکیلے پشاور میں ہی، ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر قیمتی زندگیاں بچانے کے لیے 257 بم دھماکوں، 4،000 سے زائد ٹریفک حادثات اور 11،000 سے زائد طبی ہنگامی حالات میں کارروائیاں کیں۔"

انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 ٹیموں کو ایک حکمتِ عملی کے تحت تعینات کیا گیا ہے تاکہ وہ سات منٹ کے اندر اندر کسی بھی کال کا جواب دے سکیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم جوابی وقت کو مزید کم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ مزید جانیں بچائی جا سکیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی سازوسامان سے لیس ایمبولینسوں کو خصوصی طبی ٹیموں کے ساتھ مختلف مقامات پر تعینات کیا ہے تاکہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں جائے وقوعہ کی طرف فوری طور پر روانہ ہو سکیں۔"

انہوں نے کہا کہ خواتین کی مدد کرنے کے لیے کچھ ایمبولینسوں میں تکنیکی ماہرین خواتین کو تعینات کیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکام خواتین کو شعبے میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہیں تاکہ طبی اور دیگر ہنگامی حالات میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کی مدد کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شعبے نے 30،000 سے زائد ریسکیو اہلکاروں کو تربیت دی ہے، جن میں کچھ غوطہ خور بھی شامل ہیں جو آبی ہنگامی حالات میں جوابی کارروائی کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف اگست کے مہینے میں ہی، ریسکیو 1122 نے پشاور میں 280 افراد کو موقعہ پر ہی علاج مہیا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ توسیع کے اگلے مرحلے میں، جو کہ جلد ہی آ رہا ہے، کے پی حکومت ریسکیو 1122 شعبہ چترال، اپر دیر، مانسہرہ، کوہاٹ، صوابی، بنوں اور نوشہرہ میں شروع کرے گی۔

ریسکیو 1122 زندگیاں بچاتی ہے

پشاور میں ایک معالج، اصغر علی نے کہا، "میں نے سڑک پر حادثات اور دیگر ہنگامی حالات دیکھنے کے بعد چند بار ریسکیو 1122 کو کال کیا، اور اس کا جواب دینے کا وقت حیران کن تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایمبولنس میں علاج شروع کرنے کے ذریعے نیم پیشہ ور عملے نے بہت سی جانیں بچائی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے، خبطی کال کرنے والے ریسکیو اہلکاروں کے انتہائی ضروری کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق، اگست کے مہینے کے دوران ریسکیو 1122 کو پشاور سے 1،161 نقلی کالیں موصول ہوئیں۔

علی نے کہا، "عوام الناس کو چاہیئے کہ نقلی کالیں کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ ان کا وقت بہت قیمتی ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

2 تبصرے 💬

💬

salman nawaz | 03-01-2018

درد سے بچاؤ


💬

M shoaib khan | 11-06-2016

ریسکیو 1122 پاکستان کی بہترین سہولیات میں سے ایک ہے، اس لیے جناب! برائے مہربانی جی پی فنڈ، بی پی ایس 12 میں ترقیوں اور ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس جیسے ریکسیو کے مسائل حل کیے جائیں۔ پلیز پلیز جناب۔


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج