|

حقوقِ انسانی

سائبر ہراسگی کی ہیلپ لائن متاثرین کو وقتی آرام پہنچاتی ہے

ٹول فری ہاٹ لائن ان پاکستانیوں کو قانونی مشورہ اور رہنمائی فراہم کرتی ہے جنہیں سوشل میڈیا پر ہراسگی یا بلیک میلنگ کا سامنا ہے۔

از جاوید خان


9 مئی کو پشاور میں ایک شخص اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چیک کرتے ہوئے۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے گزشتہ دسمبر میں اپنی سائبر ہراسگی کی ہیلپ لائن شروع کی تھی تاکہ کوئی بھی شخص جیسے آن لائن ہراسگی یا بلیک میلنگ کا سامنا ہے قانونی مشورہ اور دیگر مدد حاصل کر سکے۔ [جاوید خان]

9 مئی کو پشاور میں ایک شخص اپنا سوشل میڈیا اکاؤنٹ چیک کرتے ہوئے۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے گزشتہ دسمبر میں اپنی سائبر ہراسگی کی ہیلپ لائن شروع کی تھی تاکہ کوئی بھی شخص جیسے آن لائن ہراسگی یا بلیک میلنگ کا سامنا ہے قانونی مشورہ اور دیگر مدد حاصل کر سکے۔ [جاوید خان]

پشاور -- آن لائن ہراساں کیے جانے کا سامنا کرنے والے پاکستانیوں کے پاس اب مدد کے لیے ایک جگہ موجود ہے۔

سائبر ہراسگی کی ہیلپ لائن، جس کا آغاز گزشتہ دسمبر میں لاہور کی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے کیا تھا، سوشل میڈیا یا انٹرنیٹ پر دیگر پلیٹ فارموں پر ہراسگی کا نشانہ بننے والوں کو مشورہ اور رہنمائی فراہم کرتی ہے۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی انتظامی ڈائریکٹر، نگہت داد نے کہا کہ یہ مسئلہ خواتین کے ساتھ خصوصاً بہت سنگین ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم نے حال ہی میں ہیلپ لائن کی پہلے چار ماہ کی رپورٹ جاری کی ہے، جسے مدد کے لیے 535 کالیں موصول ہوئیں ۔۔۔ جن میں سے تقریباً 62 فیصد خواتین کی جانب سے تھیں۔"

سائبر ہراسگی ہیلپ لائن کو کی جانے والی زیادہ تر شکایات فیس بک کے استعمال سے متعلقہ مسائل پر تھیں۔

داد، جو کہ انٹرنیٹ پر تحفظ کے متعلق اپنی فعالیت کے لیے مشہور وکیل ہیں، نے کہا، "535 شکایات میں سے، زیادہ تر فیس بُک پر اجنبیوں کے پیغامات، بلیک میل، معلومات کے بغیر اجازت استعمال اور ہیک کردہ اکاؤنٹس کی تھیں۔"

داد کو آن لائن ہراسگی سے لڑنے میں پاکستانی مرد و خواتین کی مدد کے لیے سنہ 2015 میں ٹائم میگزین کے اگلی نسل کے قائدین میں سے ایک کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ انہوں نے سنہ 2016 میں اٹلانٹک کونسل ڈیجیٹل فریڈم ایوارڈ اور ڈچ حکومت کا ہیومن رائٹس ٹیولپ ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

داد نے کہا، "آن لائن فضاؤں میں انسانی حقوق آف لائن فضاؤں سے مشابہ ہونے چاہیئیں۔"

سائبر ہراسگی کی ہیلپ لائن

سائبر ہراسگی ہیلپ لائن کا ٹول فری نمبر، 39393-0800، ہفتے کے ایام میں صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک کام کرتی ہے۔ ہیلپ لائن [email protected] پر بذریعہ ای میل بھی قابلِ رسائی ہے۔

داد کے مطابق، ہیلپ لائن پاکستان کا پہلا وسیلہ ہے جو آن لائن بدسلوکی اور تشدد سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے کے لیے وقف ہے اور ایک مفت، محفوظ، جنسی طور پر حساس اور رازدارانہ خدمت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، "ہیلپ لائن کا عملہ ان شکایت کرنے والوں کو قانونی مشورہ نیز نفسیاتی صلاحکاری فراہم کرتا ہے جو ہراسگی کا سامنا کرنے کے بعد صدمے اور خوف سے دوچار ہیں۔"

شکایت کرنے والوں کی اکثریت پنجاب (41.3 فیصد) سے بتائی گئی، جس کے بعد 23.9 فیصد جس نے اپنا مقام نہیں بتایا۔

ہیلپ لائن کو سندھ (17.8 فیصد)، خیبرپختونخوا (کے پی) (4.7 فیصد)، بلوچستان (1.3 فیصد)، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر (0.7 فیصد)، اسلام آباد (10.10 فیصد)، اور پاکستان سے باہر (0.2 فیصد) سے بھی کالیں موصول ہوئیں۔

داد نے کہا، "چار ماہ کی رپورٹ کا تجزیہ کرنے کے بعد، ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی [ایف آئی اے] کے عملے کے لیے جنس کے معاملے میں حساس ہونے کی تربیت، اور ایجنسی کے نیشنل رسپانس سنٹر فار سائبر کرائم کو مزید شہروں تک وسیع کرنے کی تجویز پیش کرتی ہے تاکہ چھوٹے اور دور دراز علاقوں کے مرد و خواتین کو رسائی دی جا سکے۔"

سائبر کرائم کا سراغ لگانا

ایف آئی اے کے ذمے سائبر کرائمز کی تفتیش کرنے کا کام لگایا گیا ہے اور پاکستان کے بڑے شہروں میں اس کے متعلقہ یونٹ ہیں۔

ایف آئی اے کے کے پی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد الیاس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایف آئی اے نے سائبر کرائم کے مقدمات درج کرنا شروع کر دیئے ہیں، اور چند ایک کو کئی مقدمات میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔"

انٹرنیٹ صارفین نے بلیک میلنگ کی شکایات کے ساتھ ایف آئی اے کے پاس آنا شروع کر دیا ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی آن لائن خلاف ورزیوں اور ہراسگی کے لیے سخت سزائیں موجود ہیں۔

الیاس نے کہا کہ سائبر کرائم کی نوعیت کے مطابق، مجرموں کو پانچ سے سات سال کی جیل کی سزا ہو سکتی ہے۔

کے پی سے ایک صحافی، آمنہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہراسگی کی بہت سی شکایات ہیں، اس لیے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک ہیلپ لائن واقعی قابلِ تعریف ہے۔"

متاثرین یا تو یہ جانتے نہیں ہیں کہ حکام سے کیسے رابطہ کرنا ہے یا بدسلوکی کی اطلاع دینے میں خوف محسوس کرتے ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "سوشل میڈیا کے صارفین میں ہیلپ لائن کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ زیادہ تر لوگ ایف آئی اے سے [براہِ راست] رابطہ نہیں کر سکتے۔"

انہوں نے کہا کہ ہیلپ لائن کے متعلق آگاہی پیدا کرنا خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کے لیے اہم ہے کیونکہ ان کی رازداری داؤ پر لگی ہوئی ہے۔

انٹرنیٹ کی آزادی اور غلط استعمال

ہیلپ لائن اس وقت آئی ہے جب پاکستان کو انٹرنیٹ کی آزادی اور غلط استعمال کے درمیان توازن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

آن لائن ہراسگی سے نمٹنے کے علاوہ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے حالیہ مہینوں میں آن لائن مجرمانہ اور دہشت گردانہ طرزِ عمل کے خلاف سخت کارروائی بھی کی ہے۔

8 مئی کو، سندھ کے صوبائی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے تحقیقات کا آغاز کیا جب صوبے کے لیے انٹرمیڈیٹ اسکول کے امتحانی پرچے طے شدہ امتحانی تاریخ سے پہلے ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعے سوشل میڈیا پر ظاہر ہوئے۔

سی ٹی ڈی متحرک ہو گئی کیونکہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں میں، صرف اسی کے پاس فونز اور سوشل میڈیا کے استعمال پر اس قسم کی سرگرمی کا سراغ لگانے کی ٹیکنالوجی ہے۔

ڈان کے مطابق، سی ٹی ڈی کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نوید خواجہ نے کہا کہ کم از کم 15 واٹس ایپ گروپوں کی شناخت لیک ہونے والے پرچوں کا اشتراک کرنے والوں کے طور پر ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سی ٹی ڈی نے کراچی، حیدرآباد، مٹھی میں کئی ملزمان کو گرفتار کیا۔

ایک اور معاملے میں، یونیورسٹی کی 20 سالہ طالبہ نورین لغاری نے 8 مئی کو صحافیوں کو بتایا کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے، "دولت اسلامیہ" (داعش) کے بھرتی کاروں کے ہتھے چڑھ گئی تھی۔

نورین فروری میں لاپتہ ہو گئی تھی، لیکن سی ٹی ڈی نے اپریل میں لاہور میں ایک چھاپے میں اسے گرفتار کر لیا تھا۔

حکام سوشل میڈیا کے صارفین اور نوجوان خاتون کو بھرتی کرنے میں ملوث پیجز کی جامع تلاشی لے رہے ہیں تاکہ نیٹ ورک کو توڑا جائے اور اس کے پیچھے مجرموں کو گرفتار کیا جائے۔

سائبر کرائم کی تحقیات کو وسیع کرنا

حکام کے مطابق، کے پی پولیس نے بھی سائبر کرائم کے چند حالیہ مقدمات میں ایف آئی اے سے مدد کی درخواست کی ہے۔

خصوصاً، پولیس نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مشال خان، یونیورسٹی کا طالب علم جسے ایک مشتعل ہجوم نے اپریل میں ضلع مردان میں سوشل میڈیا پر توہینِ مذہب کے جھوٹے الزامات پر قتل کر دیا تھا، کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پڑتال کرنے کو کہا۔

کے پی پولیس سائبر کرائمز کی تحقیقات کرنے کے لیے پشاور میں فارنسک سائنس لیبارٹری میں ایک خصوصی یونٹ قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور عملے میں شامل کرنے کے لیے سندیافتہ درخواست دہندگان کی متلاشی ہے۔

لیب کے ڈائریکٹر، رب نواز خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم دوسروں سے مدد مانگے بغیر اپنی لیبارٹری میں سائبر کرائم مقدمات کا معائنہ کرنے کے لیے ایک نیا سیکشن تشکیل دے رہے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج