شدت پسند پاکستانی عالمِ دین صوفی محمد کی طویل علالت کے بعد رحلت

پاکستان فارورڈ

دیر -- جمعرات (11 جولائی) کے روز ریڈیو فری یورپ/ریڈیو لبرٹی نے خبر دی ہے کہ صوفی محمد، ایک شدت پسند پاکستانی عالمِ دین اور عسکریت پسند رہنماء جو افغانستان میں نوآبادیاتی قوتوں اور پاکستان میں حکومت کے خلاف برسرِ پیکار رہے، انتقال کر گئے ہیں۔

اہلِ خانہ نے بتایا کہ صوفی محمد، جو اپنی عمر کے 90 سال کے پیٹے میں تھے، 11 جولائی کی صبح ضلع لوئر دیر میں انتقال کر گئے۔ وہ ایک طویل عرصے سے گردوں کے مسائل اور شوگر کے مریض تھے۔

صوفی محمد نے کالعدم تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمدی (ٹی این ایس ایم) کی قیادت کی اور وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر ملا فضل اللہ کے سسر تھے۔ جون 2018 میںفضل اللہ افغانستان میں ہلاک ہو گیا تھا۔

صوفی محمد نے 1980 کے عشرے میں افغان مجاہدین کے ساتھ سویت فوجوں کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ 1990 کی دہائی میں، انہوں نے مالاکنڈ ڈویژن میں حکومتِ پاکستان کے خلاف بغاوت کا آغاز کیا۔

سنہ 2001 میں طالبان کو نکالے جانے کے بعد وہ افغانستان واپس چلے گئے، جہاں انہوں نے غیر ملکی اور افغان افواج کے خلاف لڑ رہے باغی گروپ کی کمان کی۔

سنہ 2009 میں ان کی واپسی پر پاکستانی حکام نے صوفی محمد کو گرفتار کر لیا تھا۔

ان پر قتل، غداری، دہشت گردی اور بغاوت کے الزمات کے تحت مقدمہ چلا، مگر حکام نے جنوری 2018 میں طبی بنیادوں پر انہیں رہا کر دیا تھا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

0
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha