|

سلامتی

ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد ٹی ٹی پی کے لیے 'کھیل ختم'

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرنے والے رہنماء کا جانشین، عمر رحمان، پہلے ہی سے تقسیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو متحد کرنے سے قاصر ہو گا۔

از محمد آحل


تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مردہ رہنماء، ملا فضل اللہ (درمیان میں)، کی تصویر مستقبل کے جانشین عمر رحمان (دائیں سے دوسرا) کے ساتھ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک بیان دیتے وقت جس میں گزشتہ دسمبر میں پشاور مین زرعی تربیتی ادارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی [تصویر بشکریہ محمد آحل]

تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مردہ رہنماء، ملا فضل اللہ (درمیان میں)، کی تصویر مستقبل کے جانشین عمر رحمان (دائیں سے دوسرا) کے ساتھ ٹی ٹی پی کی جانب سے ایک بیان دیتے وقت جس میں گزشتہ دسمبر میں پشاور مین زرعی تربیتی ادارے پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی [تصویر بشکریہ محمد آحل]

پشاور -- تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہتحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے امیر ملا فضل اللہ کی ہلاکتنے دہشت گرد جماعت کی تقدیر پر مہر لگا دی ہے۔

فضل اللہ، جو ایک غیر قانونی ریڈیو پر اپنی نفرت انگیز تقاریر کے باعث ملا ریڈیو کے نام سے بھی مشہور تھا، 15 جون کو افغانستان کے صوبہ کنڑ کے ضلع مره وره میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گیا، جہاں وہ سنہ 2009 میں پاکستانی فوج کے آپریشن راہِ نجات کے دوران وادیٔ سوات سے باہر نکال دیئے جانے کے بعد سے روپوش تھا۔

افغان صدر اشرف غنی نے 15 جون کو ٹویٹ کیا تھا، "میری #پاکستان کے وزیرِ اعظم [ناصر الملک] اور چیف آف آرمی اسٹاف [جنرل] قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی تھی اور ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کی۔ اس کی ہلاکت #افغان سیکیورٹی فورسز کی قیادت میں انتھک انسانی خفیہ اطلاعات کے نتیجے میں واقع ہوئی۔"

ایک منقسم گروہ

یہاں تک کہ فضل اللہ کی موت سے قبل بھی، جو کہ جماعت کے مشہور امراء میں سے آخری تھا، ٹی ٹی پی کے بارے میں پہلے ہی سے یہ ماننا تھا کہ وہ بہت سے اعلیٰ قائدین کی اموات کی وجہ سے تنزلی کی طرف گامزن ہے۔

اس کے پیش رو، حکیم اللہ محسود کی موت نے، سنہ 2013 میں فضل اللہ کوایک منقسم تنظیم کے ساتھچھوڑا تھا جو پورے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں حریف محسود دھڑے اور دیگر دھڑوں پر مشتمل تھی۔

فضل اللہ کی ہلاکت کے ساتھ، ٹی ٹی پی نے عمر رحمان (جو استاد رحمت، فتح اور استاد جی کے ناموں سے بھی مشہور ہے)، ٹی ٹی پی کے نائب امیر اور فضل اللہ کے قریبی ساتھی، کو اس کا جانشین نامزد کر دیا۔

45 سالہ رحمان، جو سوات کے علاقے کزشور مٹہ کا رہائشی ہے، کے بارے میں مانا جاتا ہے کہ وہ سنہ 2004 میں جنرل پرویز مشرف کو نشانہ بنانے والے ناکام خودکش حملے کی منصوبہ بندی میں شریک تھا۔ سنہ 2009 میں ضلع سوات میں پاکستانی فوج کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے بعد، فضل اللہ ہی کی طرح، رحمان بھی افغانستان فرار ہو گیا تھا، جہاں وہ ماضی میں افغان طالبان کے شانہ بشانہ امریکی افواج کے خلاف لڑتا رہا۔

پشاور میں شعبۂ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے مطابق، ٹی ٹی پی کا نائب امیر سوات میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث تھا، بشمول اہدافی حملوں کے لیے ایک سات رکنی "خاکسار" گروہ کا قیام۔ وہ سنہ 2008 سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں پولیس کو مطلوب تھا، جب اس کے سر پر 1.5 ملین روپے (12،000 ڈالر) کا انعام رکھا گیا تھا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق، رحمانگزشتہ دسمبر میں پشاور میں زرعی تربیتی ادارے پر دہشت گرد حملےکا منصوبہ ساز بھی تھا۔

مزید اختلاف بونا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فضل اللہ کی موت ٹی ٹی پی میں باقی کسی بھی اتصال کو آشکار کر دے گی اور دیگر دھڑوں کے بننے پر منتج ہو گی، کیونکہ رحمان اس دہشت گرد جماعت میں نئی روح پھونکنے کے قابل نہیں ہو گا۔

مبصرین کے مطابق، کئی عوامل جماعت کو مزید تقسیم کی طرف لے جائیں گے۔

اول، ٹی ٹی پی کے کچھ ارکان سے جماعت کو چھوڑنے کی توقع کی جا سکتی ہے، کیونکہ رحمان، اپنے پیش رو فضل اللہ کی طرح، سوات کا باسی ہے اور قبائلی پٹی سے تعلق نہیں رکھتا جو کہ ٹی ٹی پی کے بہت سے باغیوں کی جائے پیدائش ہے۔

دوم، رحمان، جسے پہلے ہی ٹی ٹی پی کے دھڑوں میں زیادہ اثر و روسوخ رکھنے والے کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، افغانستان میں مفرور ہے اور اس کے پاس اپنی بقاء کو یقینی بنانے کے لیے تھوڑے سے وسائل ہیں۔

آخری،پاکستان اور افغانستان کے درمیان انسدادِ دہشت گردی پر بہتر تعاونٹی ٹی پی کو ایک شدید دھچکہ لگا رہا ہے۔

پشاور کے مقامی ایک دفاعی تجزیہ کار اور سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے لیے سابق سیکریٹری دفاع، بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا، "ٹی ٹی پی کا کھیل ختم ہو گیا۔ میرا نہیں خیال کہ نئے امیر، عمر رحمان، میں وہ کرشمہ ہے جو ٹی ٹی کے دھڑوں کو متحد کر دے کیونکہ فضل اللہ بھی ان کے درمیان اتحاد قائم کرنے سے قاصر تھا۔ [رحمان] اس کے قریب بھی نہیں پھٹک سکے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ نیا کمانڈرسوات میں کنٹرول سنبھالنےکے قابل ہو سکتا ہے، مگر وہ پوری ٹی ٹی پی کی قیادت کرنے کے قابل نہیں ہو گا کیونکہ یہ پہلے ہی تحلیل ہو چکی ہے اور جنگجو مفرور ہیں۔

انہوں نے کہا، "تنظیم کو سنبھالنا اور حملے کرنا آسان نہیں ہےجیسے وہ ماضی میں کیا کرتے تھے، کیونکہ [افغانستان میں] کنڑ کے پہاڑوں میں کمین گاہ سے جنگجوؤں کو سنبھالنا اور وہ ہی بغیر وسائل کے، اس کا مطلب ہے کہ ٹی ٹی پی کا کھیل اب ختم ہو گیا ہے۔"

نازک اتحاد بذریعہ سفاکی

یونیورسٹی آف پشاور کے پروفیسر اور قبائلی امور اور انسدادِ دہشت پر ماہر، سید حسین شہید سہروردی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ملا ریڈیو اتحاد کی علامت تھا، اور اس کی سفاک فطرت نے جماعت کو متحد رکھا۔"

انہوں نے کہا، "[فضل اللہ کی] بڑی کامیابیدسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کی جانب سے قتلِ عامتھی۔" اس حملے میں تقریباً 150 افراد، زیادہ تر بچے جاں بحق ہوئے تھے۔

سہروردی نے کہا کہ فضل اللہ کی ہلاکت ٹی ٹی پی کو "ایک بڑا دھچکہ" ہے۔

انہوں نے کہا، "رحمان میں کرشمے اور قائدانہ صلاحیتوں کی کمی کا مطلب ہے کہ اسے کئی حریفوں کی جانب سے للکارا جائے گا، جس سے ٹی ٹی پی کے اندر مزید دھڑے بندی ہو گی،" انہوں نے مزید کہا کہآپریشن ضربِ عضبنے پہلے ہیٹی ٹی پی کی کمان کا سلسلہ منقطع کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا، "میرا خیال ہے کہ عمر ایک مؤثر حملہ شروع کرنے کے قابل نہیں ہو گا اور اس طرح اس کی قیادت کو اس کے ساتھیوں کی جانب سے للکارا جائے گا، جس کے نتیجے میں ٹی ٹی پی ٹوٹ جائے گی۔"

ٹی ٹی پی کے لیے مزید مصائب

افغانستان میں ایک سابق پاکستانی سفیر رستم شاہ مہمند نے کہا کہ پاکستانی جنگ سے اکتا گئے ہیں اور انہیں ٹی ٹی پی کے مقاصد کا بہت کم فہم یا ان سے بہت کم ہمدردی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ فضل اللہعوام الناس سے بہت کم معاونت ملتی تھیاور یہی رحمان کے ساتھ بھی ہو گا، جو بغیر سرمائے کے بقاء سے قاصر ہو گا۔

انہوں نے کہا، "ٹی ٹی پی کشمکش کا شکار ہے؛ یہ محض لڑائی کے لیے لڑ رہی ہے اور خود اپنی بقاء کے لیے افغانستان میں روپوش ہے۔ افغانستان میں دینی عناصر کی جانب سے اسے جو حمایت ملتی رہی تھی وہ تو فضل اللہ کے وقت میں ہی ختم ہو گئی تھی۔ اور یہ آنے والے دنوں میں مزید ابتری کا شکار ہو گی، جس سے ٹی ٹی پی کے لیے مزید مصائب پیدا ہوں گے"۔

انہوں نے کہا، رحمان کووفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا کے ساتھ انضماماور حکومتی انتظام کی مضبوطی کی وجہ سے نقل و حرکت میں مزید پابندیوں کا سامنا ہو گا۔

مہمند نے کہا کہ وہ جنہیں اپنے بسر اوقات کے متعلق فکر پڑی ہوئی ہے وہ رحمان سے دور رہیں گے، جس کے پاس دینے کو کچھ بھی نہیں ہے۔

اسلام آباد کے مقامی ایک سینیئر دفاعی تجزیہ کار، بریگیڈیئر (ر) سعد محمد نے کہا کہ ٹی ٹی پی میں کئی دراڑون نے تنظیم کو کمزور کر دیا ہے لیکن اسے شکست نہیں دی۔ "اوپر تلے ہر نقصان کے ساتھ یہ مزید کمزور ہو گی۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ٹی ٹی پی کی توڑ پھوڑ اچھی اور ناگزیر ہے، لیکن یہ خطرناک بھی ہو سکتی ہے۔ یا تو یہ مزید سفاک ہو جائے گی، یا کہ ['دولتِ اسلامیہ' (داعش)] جیسی تنظیموں میں مل جائے گی۔"

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا سقوط "افغانستان میں مفاہمت کو سامنے لے کر آئے گا۔"

انہوں نے کہا سرقلم ٹی ٹی پی کے لیے مستقبل بدقسمتی کی نشاندہی کر رہا ہے، جس میں "اتحاد اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور لگ رہا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 15

2 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
ایم یوسف | 06-26-2018

پاکستان فارورڈ نیوز \nھہیں بہت اچھا لگا

جواب
MUHAMMAD TAUFEEQ | 06-21-2018

میں نے بھی اس بارے میں لکھا ہے، لیکن آپ کیا کہتے ہیں کہ افغانستان اور فاٹا میں کون سی جنگ ہے۔ دنیا نے اس جنگ کو دہشتگردی کے خلاف جنگ کا نام دیا ہے، لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں بلکہ دہشتگردی کی جنگ ہے۔ \n

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج