| معاشرہ

انسدادِ دہشتگردی کے حکام عیدالاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کی کھالوں کی فروخت پر نظر رکھیں گے

اشفاق یوسفزئی


31 جولائی کو پشاور کے قریب پالوسئی گاؤں میں ایک مویشی منڈی دیکھی جا سکتی ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

31 جولائی کو پشاور کے قریب پالوسئی گاؤں میں ایک مویشی منڈی دیکھی جا سکتی ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور – کالعدم عسکریت پسند گروہوں کو فراہمیٴ مالیات کی انسداد کی ایک کاوش میں پاکستانی حکام عیدالاضحیٰ کے دوران قربان ہونے والے جانوروں کی کھالیں جمع کیے جانے پر نظر رکھنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

پاکستان میں 12 اگست کو عید الاضحیٰ کا آغاز ہونا ہے۔ پاکستانی قربانی کے جانوروں کی کھالیں عطیہ کرتے ہیں، جو کہ ان منڈیوں میں 5 بلین روپے (31 ملین ڈالر) سے زائد کی رقم لاتے ہیں جہاں چمڑے کی صنعت کو رسد کے لیے ان کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

قومی مقتدرہٴ انسدادِ دہشتگردی (نیکٹا) نے پاکستانیوں کو قصداً یا بلاارادہ دہشتگرد تنظیموں کو ایسی کھالیں عطیہ نہ کرنے کا کہا۔

اس نے کہا کہ جو عیدالاضحیٰ کی کھالوں کی فروخت کے واقعات کی اطلاع دینا چاہتے ہیں وہ 1717 پر نیکٹا کی ہیلپ لائن پر رابطہ کریں۔

پشاور کے ڈپٹی کمشنر محمد علی اضغر نے کہا، "عید الاضحیٰ پر جانوروں کی کھالیں جمع کرنے کی خواہشمند تنظیمیں حکومت سے عدم اعتراض کی اسناد (این او سی ایس) حاصل کریں۔"

11 جولائی کو پشاور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کی گئی ہدایات کے مطابق، کھالیں جمع کرنے کی خواہشمند تمام تنظیموں کو این او سی ایس حاصل کرنا ہوں گے۔

اصغر نے کہا، "امّیدوار گروہ یا افراد کو اپنے خیراتی کام کا سابقہ ریکارڈ اور سوشل ویلفئیر ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اندراج بھی پیش کرنا ہو گا۔"

انہوں نے کہا، "ہم اس امر کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کھالیں صرف اندراج شدہ خیراتی ادارے ہی اکٹھی کریں اور یہ مالیات عوامی بہبود کے لیے استعمال ہوں۔"

انہوں نے کہا، "[خیبرپختونخواہ کے] محکمہٴ داخلہ و قبائل نے اس سلسلہ میں ہدایات جاری کی ہیں، اور ہم اس امر کو یقینی بنانے کے لیے ہر اقدام کریں گے کہ کھالیں مشتبہ افراد یا گروہوں کے ہاتھ نہ آئیں۔"

سندھ کے محکمہٴ داخلہ نے بھی 6 جولائی کو عید کے دوران ماسوائے مذہبی سیاسی جماعتوں اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے منظور شدہ فلاحی تنظیموں کے کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

پنجاب کے محکمہٴ داخلہ نے بھی ایسا ہی کیا، اور حکام نے متعلقہ گروہوں کو 31 جولائی تک اجازت حاصل کرنے کا کہہ دیا ہے۔

حکام نے کہا کہ پہلے سے اجازت لیے بغیر کھالیں لینے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

بروقت فیصلہ

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے کہا کہ کھالیں جمع کرنے کی نگرانی کی کوششیں"دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے بطورِ خاص اس وقت ایک بروقت کاوش ہیں، جبہر قسم کے عسکریت پسند روپوش ہو گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پیسے کے بغیر دہشتگرد گروہ امن کے خلاف اپنی مہم جاری نہیں رکھ سکتے۔"

شاہ نے کہا کہدہشتگردی کے لیے فراہمیٴ مالیات کی انسداد ضرورتپر عالمی اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی سے متاثرہ ممالک میں سے ایک، پاکستان، اس جانب نمایاں اقدامات کر رہا ہے۔

عبدالوی خان یونیورسٹی مردان کے ایک پروفیسر عبیدالرّحمٰن نے بھی اس اقدام کی پذیرائی کی۔

انہوں نے کہا، "عید پر قربانی کے جانوروں کی کھالیں ان دہشتگرد گروہوں کے لیے مالیات کا ایک اہم ذریعہ رہی ہیں جو یہ دعویٰ کر کے عوام کو ترغیب دلاتے ہیں کہ یہ روپیہ یتموں کی پرورش اور ناداروں کے لیے نگہداشت صحت میں معاونت کرتا ہے۔"

رحمٰن نے کہا کہ حکومت کی یہ مہم عوامی آگاہی میں اضافہ کر رہی ہے اور حکام پر امّید ہیں کہ عطیہ دہندگان قانونی تنظیموں ہی کو کھالیں دیں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

6
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha