|

سلامتی

عید سے قبل پاکستان بھر میں سیکیورٹی اقدامات میں اضافہ

ملک بھر میں مویشی منڈیوں، تجارتی مراکز اور عبادت گاہوں پر سخت سیکیورٹی اقدامات کر دیے گئے ہیں۔

جاوید خان


26 اگست کو پشاور میں پاکستانی عید الاضحیٰ کے لیے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔ [جاوید خان]

26 اگست کو پشاور میں پاکستانی عید الاضحیٰ کے لیے قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔ [جاوید خان]

پشاور – عید الاضحیٰ کے سالانہ جشن کی تیاریاں حتمی مراحل میں پہنچنے پر پاکستان بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ پر ہے۔ یہ تہوار ہفتہ (2 ستمبر) کو منایا جائے گا۔

پشاور کیپٹل سٹی پولیس آفیسر محمّد طاہر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”گشت میں اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کو عید کے دن سے قبل اور عید کے روز پرہجوم تجارتی مراکز، مویشی منڈیوں اور عبادت گاہوں پر سیکیورٹی میں اضافہ کے احکامات ہیں۔“

طاہر نے کہا کہ انہوں نے ذاتی طور پر قصّہ خوانی، خیبر بازار، ہشتنگری، کریم پورہ، اور رامداس سمیت شہر کے متعدد مصروف تجارتی مراکز پر سیکیورٹی اقدامات کا معائنہ کیا، جہاں عید کی تیاری میں لاکھوں شہری سامان کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے پشاور کے مختلف داخلی راستوں پر ناکے لگائے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ریجنل پولیس آفیسر فدا حسین شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”ناکوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کو ہوشیار رہنے اور اچھی طرح سے گاڑیاں اور موٹرسائیکل چیک کرنے کی ہدایات ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے تمام تر علاقہ میں پولیس کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔“

خیبر پختونخوا (کے پی) کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) ضلاح الدین خان محسود نے بھی سیکیورٹی اجلاس کی صدارت کی غرض سے 29 اگست کو ڈیرہ اسماعیل خان کا دورہ کیا۔

دورے کے بعد محسود نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، ”امن کو یقینی بنانے کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبے کے دیگر علاقوں میں سیکیورٹی سخت کی جا رہی ہے۔“

پاکستان بھر میں اضافہ شدہ سیکیورٹی

بلوچستان، پنجاب اور اور سندھ کے صوبوں کے ساتھ ساتھ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) اور صدرمقام، اسلام آباد میں بھی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کے تمام اضلاع میں اجلاسوں کے دوران، سیکیورٹی عہدیداران نے عید سے قبل اپنے علاقوں میں صورتِ حال کا جائزہ لیا۔

عید کے دوران اسلام آباد میں 2,500 پولیس اہلکار اور رینجرز فرائض انجام دیں گے، اور وہاں کے رہائشیوں کو تہوار کے دوران پولیس اور دیگر ایجنسیوں سے تعاون کرنے کا کہا گیا ہے۔

دی نیشن نے خبر دی کہ پولیس کراچی بھر میں سینکڑوں موبائل ناکے لگائے گی۔

کراچی میں پولیس کھالیں جمع کیے جانے کی بھی نگرانی کرے گی۔ یہ اقدام اس لیے کیا گیا کیوں کہ دہشتگردی کے ذرائع مالیات کو منقطع کرنے کی ایک کوشش میں پاکستانی حکام نے ملک بھر میں متعدد بنیاد پرست گروہوں پر جانوروں کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی دی ہے .

دی نیوز نے خبر دی کہ لاہور پولیس نے اپنا ذاتی جامع سیکیورٹی پلان تشکیل دیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی پی محمّد امین وانس کی صدارت میں 28 اگست کو ہونے والے ایک اجلاس میں عہدیداران نے مویشی منڈیوں، ریلویز، بس اڈّوں اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے انتظامات کو حتمی شکل دی۔

مصروف خریدار پرامن عید کے انتظار میں

عید کا تہوار تیزی سے قریب آرہا ہے اور پاکستان بھر میں اہم تجارتی مراکز میں خریداری اپنے عروج ہر ہے۔

8 سالہ ثناء نے پرہجوم صدر بازار میں پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہم یہاں اپنے والدین کے ساتھ کپڑے اور جوتے خریدنے آئے ہیں.

اس نے مزید بتایا کہ وہ چوڑیاں عید کی رات کو خریدے گی۔

صدر میں فاسٹ فوڈ بیچنے والے پتھاریدار شاہد علی نے بتایا، کسی بھی تہوار سے پہلے جب زیادہ لوگ خریداری کے لئے آتے ہیں تو کھانوں کی فروخت بڑھ جاتی ہے۔ اس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں اس کی آمدنی تقریباً تین گنا ہوچکی ہے۔

سب سے پرہجوم خریداری کے مقامات عارضی مویشی منڈیاں ہیں۔ کچھ منڈیوں میں ہزاروں بیل، گائیں، بکرے اور بھیڑیں روزانہ بیچی جا رہی ہیں۔

بشیر خان جنہوں نے عید کے پہلے دن قربانی کے لئے 120,000 روپیہ، (1,140ڈالر) میں ایک بھینسا خریدا ہے بتایا، "قیمتیں معمول سے زائد ہیں کیونکہ حکومت قربانی کے جانوروں کی قیمتوں کو کنٹرول نہیں کرتی۔"

عید کے دوران گائے اور بھینسیں کی قیمت 80,000 روپیہ (760 ڈالر) سے 150,000 روپیہ (1,424 ڈالر) کے درمیان ہیں۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتاتے ہوئے مزید کہا کہ بھیڑ اور بکروں کی قیمتیں 15,000 روپیہ (142 ڈالر) سے 40,000 روپیہ (380 ڈالر) کے درمیان ہیں۔

پشاور میں جانور تلاش کرنے ایک اور خریدار سفیر احمد نے بتایا، "کچھ خریدار زیادہ قیمت کے قربانی کے جانور کی خریداری کرتے ہیں کیونکہ ان کو پختہ یقین ہے کہ انھیں اس کا بدلہ اگلی دنیا میں ملے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، جانور خریدنے والے عام طور پر گوشت کا بڑا حصہ ان ضرورت مندوں اور رشتہ داروں کے درمیان تقسیم کرتے ہیں جو جانور قربان کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور چھوٹا حصہ اپنے خاندان کے لئے محفوظ رکھتے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج